رسائی کے لنکس

logo-print

کوئٹہ: کان میں پھنسے 8 مزدوروں کی لاشیں، 2 کو زندہ نکال لیا گیا


فائل فوٹو

بلوچستان کے مرکزی ضلع کوئٹہ کے نواحی علاقے ڈیگاری میں گزشتہ روز کوئلے کی ایک کان میں آگ لگنے سے دس کانکن پھنس گئے تھے جن کے لیے شروع کیا جانے والا ریسکیو آپریشن مکمل کرلیا گیا۔

قدرتی آفات سے نمٹنے کے لیے قائم کیے گئے ادارے پراونشل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی کے ڈائریکٹر جنرل عمران زرغون کے مطابق ریسکیو آپریشن مکمل کرتے ہوئے آٹھ مزدوروں کی لاشیں اور دو کو زندہ نکال لیا گیا ہے۔

عمران زرغون کا مزید کہنا ہے کہ متاثرہ کان سے زندہ نکالے جانے والے دو مزدوروں کو سول اسپتال منتقل کردیا گیا ہے جہاں ان کی حالت تشویش ناک بتائی جاتی ہے۔

یاد رہے کہ اتوار اور پیر کی درمیانی شب ڈیگاری کی ایک کان میں شارٹ سرکٹ سے اُس وقت آگ بھڑک اٹھی جب گیارہ کانکن چار ہزار فٹ زیر زمین گئے تھے۔

واقعے کے فوراً بعد وہاں موجود مزدوروں نے اپنی مدد آپ کے تحت امدادی سرگرمیاں شروع کیں اور ایک کانکن کو نکال لیا جبکہ دیگر دس مزدوروں کو نکالنے کے لیے مقامی اور کوئٹہ سے امدادی ٹیمیں طلب کی گئیں تھیں۔

صوبائی حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی کا کہنا تھا کہ کان میں جگہ جگہ آگ لگنے کی وجہ سے ریسکیو آپریشن میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال نے بھی مزدوروں کو نکالنے کے لیے ہر ممکن اقدامات کرنے اور تمام وسائل بروئے کار لانے کے احکامات جاری کیے تھے۔

بلوچستان کے 8 اضلاع میں سات ہزار کانوں سے لگ بھگ ایک لاکھ مزدور روزانہ سیکڑوں ٹن کوئلہ نکالتے ہیں۔ ان کانوں میں ایک محتاط اندازے کے مطابق تقریباً ایک لاکھ سے زائد مزدور ہزاروں فٹ زیر زمین جا کر کوئلہ نکالتے ہیں۔

مزدور رہنما عبدالکریم میر دادخیل کا کہنا ہے کہ انتظامی افسران جب تک کوئلے کی کانوں کے حوالے سے بنائے گئے قوانین پر عملدار نہیں کروائیں گے اس وقت تک صورتحال بہتر نہیں ہو گی۔

ان کا کہنا ہے کہ جب بھی حادثات ہوتے ہیں سرکاری حکام ایک بیان اخبارات اور میڈیا کو جاری کر دیتے ہیں اور عملی کام کوئی نہیں ہوتا اور جب حادثے کی تحقیقات ختم ہوتی ہے اس کے بعد کچھ بھی نہیں

عبدالکریم میر داد خیل کا مزید کہنا تھا کہ ہمیں کوئی معاوضہ نہیں چاہیے، ہمیں صرف اور صرف تحفظ چاہیے، اصل بات کانکن کا تحفظ ہے اور اگر معاوضہ دے بھی دیں تو جب تک دوسرے کانکنوں کے تحفظ کو یقینی نہیں بنایا جاتا تو ایسے معاوضے کا کوئی فائدہ نہیں۔

بلوچستان حکومت کی کابینہ نے مائنز پالیسی 2019 کی ایک ماہ پہلے منظوری دی تھی۔ اب اس پالیسی کو اسمبلی سے پاس کرنے کے بعد قانون کی صورت میں نافذ کیا جائے گا۔

حکام کا کہنا ہے کہ مائنز ایکٹ پالیسی کی خلاف ورزی اور کانکنوں کے لیے لازمی سہولیات فراہم کرنے پر ساڑھے چار سو کوئلہ کان مالکان کو جر مانہ عائد کر کے بند بھی کر دیا گیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG