رسائی کے لنکس

logo-print

دولت مشترکہ ’یوتھ ورکرز ایوارڈ‘ پاکستانی نوجوان شہزاد خان کے نام


شہزاد خان نے پاکستان کی طرف سے دولت مشترکہ بھر میں نوجوانوں کے لیے شاندار کام کے اعتراف میں ’کامن ویلتھ یوتھ ورکرز ایواڈ‘ 2015ء حاصل کیا ہے۔

ایک پاکستانی نوجوان شہزاد خان نے دولت مشترکہ کا یوتھ ورکرز ایوارڈ جیت لیا ہے۔

شہزاد خان نے پاکستان کی طرف سے دولت مشترکہ بھر میں نوجوانوں کے لیے شاندار کام کے اعتراف میں ’کامن ویلتھ یوتھ ورکرز ایوارڈ‘ 2015ء حاصل کیا ہے۔

لندن سیکرٹریٹ میں پچھلے ہفتے ’بین الاقوامی یوتھ ویک‘ کی تقریبات کا اہتمام کیا گیا جہاں پاکستانی نوجوان شہزاد خان کی کامیابیوں اور نوجوانوں پر ان کے پائیدار اثرورسوخ کو تسلیم کرتے ہوئے انھیں ایشیا سے کامن ویلتھ یوتھ ورکرز ایواڈ کا فاتح قرار دیا گیا۔

کامن ویلتھ ورکرز ایوارڈ دولت مشترکہ کے سالانہ یوتھ ویک کی تقریبات کا حصہ ہے جو لندن میں 2 سے 8 نومبر تک جاری رہیں۔

اس تقریب میں پاکستانی سفارت خانے کے ایک اعلٰی عہدیدار نے اپنے ملک کی نمائندگی کی اور شہزاد خان کو ان کی کامیابی پر مبارک باد دیتے ہوئے ان کے کام کی تعریف کی۔

شہزاد خان پاکستان کی ایک غیر سرکاری تنظیم چنن ڈیولپمنٹ ایسوسی ایشن کے بانی ہیں، جو نوجوانوں کو با اختیار بنانے کے لیے کام کرتی ہے اور خاص طور پر نوجوانوں میں انتہا پسندی کے رجحان اور عورتوں کےخلاف تشدد کے برتاؤ کی روک تھام کے لیے نوجوانوں کی مدد کرتی ہے۔

چنن ڈیولپمنٹ ایسوسی ایشن (سی ڈی اے ) نامی این جی او2004 ء میں پیشہ ور نوجوانوں کے ایک گروپ کی طرف سے قائم کی گئی جو قومی سطح پر نوجوانوں کی قیادت کرتی ہے اور سماجی ہم آہنگی اور امن کے فروغ دینے کے لیے نوجوان کارکنوں کے ساتھ مل کر کام کرتی ہے۔

رواں برس بین الاقوامی یوتھ ویک کی تقریبات کا موضوع 'امن کے راستے کی تشکیل' تھا جس میں دولت مشترکہ کے 53 ممالک کے پیشہ ور نوجوانوں نے حصہ لیا جب کہ یورپ، افریقہ، ایشیا، امریکہ، کریبین اور پیسفک خطے سے ایک ایک فاتح نوجوان کو یوتھ ورکرز ایوارڈ سے نوازا گیا۔

دولت مشترکہ کے پیشہ ور نوجوانوں کی حتمی فہرست کا اعلان 26 اکتوبر کو کیا گیا تھا۔

جس میں ایشیا سے شہزاد خان اور گلالئی اسماعیل جب کہ سری لنکا سے امونا راجا کارونا کو فائنلسٹ امیدواروں کے طور پر نامزد کیا گیا تھا تاہم یوتھ ورکرز ایوارڈ کےحق دار شہزاد خان قرار پائے۔

یوتھ ورکرز ایوارڈ 2015ء کے لیے 14 فائنل امیدواروں کا تعلق آسٹریلیا، بہاماز، فجی، گھانا، جمیکا، کینیا، مالٹا، پاکستان، سری لنکا، یوگنڈا سے تھا۔

XS
SM
MD
LG