رسائی کے لنکس

logo-print

جنیوا میں افغانستان پر عالمی کانفرنس شروع


افغان وزارتِ خزانہ کے مطابق کانفرنس میں 62 ملکوں کے وزرائے خارجہ یا اعلیٰ حکام جب کہ 35 بین الاقوامی تنظیموں کے اعلیٰ سطح کے وفود شریک ہیں۔

افغانستان میں تعمیر و ترقی کے موضوع پر دو روزہ بین الاقوامی کانفرنس کا آغاز سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں ہوگیا ہے۔

منتظمین کے مطابق کانفرنس میں جنگ زدہ ملک میں قیامِ امن اور افغان عوام کی ترقی اور خوش حالی کے اہداف کی جانب پیش رفت کا جائزہ لیا جائے گا۔

کانفرنس افغان حکومت اور اقوامِ متحدہ کی مشترکہ میزبانی میں ہو رہی ہے جس میں افغانستان کے صدر اشرف غنی اور چیف ایگزیکٹو عبداللہ عبداللہ کے علاوہ اقوامِ متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتیرس بھی شریک ہیں۔

افغان وزارتِ خزانہ کے مطابق کانفرنس میں 62 ملکوں کے وزرائے خارجہ یا اعلیٰ حکام جب کہ 35 بین الاقوامی تنظیموں کے اعلیٰ سطح کے وفود شریک ہیں۔

سفارت کاروں کے مطابق کانفرنس میں افغانستان کے لیے کسی نئی امداد کے وعدے یا اعلانات متوقع نہیں بلکہ کانفرنس کے شرکا 15 ارب ڈالر کی امداد کے اعلانات اور ملنے والی رقم کی تقسیم کا جائزہ لیں گے جس کا وعدہ برسلز میں 2016ء میں ہونے والی متمول ملکوں اور امدادی اداروں کی کانفرنس میں کیا گیا تھا۔

منگل کو شروع ہونے والی کانفرنس کے آغاز سے قبل صدر اشرف غنی کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ صدر غنی نے گزشتہ کانفرنس میں جو وعدے کیے تھے ان میں سے کم از کم 60 فی صد پر عمل درآمد کردیا گیا ہے۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ حالیہ کانفرنس میں ان مسائل پر بات کی جائے گی جو باقی ماندہ وعدوں کی تکمیل کی راہ میں حائل ہیں۔

افغان حکام کا کہنا ہے کہ کابل حکومت کانفرنس کے دوران افغان معیشت سے متعلق اپنی نظرِ ثانی شدہ حکمتِ عملی پیش کرے گی کہ کس طرح افغان معیشت کو دوبارہ اس کے پیروں پر کھڑا کیا جاسکتا ہے۔

خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق سفارت کاروں کا کہنا ہے کہ دو روزہ کانفرنس سے زیادہ اہم اس کی سائیڈ لائن پر افغان حکام اور مغربی ملکوں کے اعلیٰ سفارت کاروں کے درمیان ہونے والی ملاقاتیں ہوں گی۔

ان ملاقاتوں میں افغانستان سے متعلق امریکہ کی نئی حکمتِ عملی اور طالبان سے مذاکرات کی کوششیں زیرِ بحث آنے کا امکان ہے۔

XS
SM
MD
LG