رسائی کے لنکس

logo-print

'کیا بڑی ٹیک کمپنیاں مقابلے کی فضا ختم کر رہی ہیں؟' امریکی کانگریس میں سماعت


ایپل، فیس بک، گوگل اورایمیزون کےسی ای او مشترکہ طور پر امریکی کانگریس کی سماعت میں شریک ہوے.

چار بڑی امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں ایپل ، ایمیزون ، فیس بک اور گوگل کے چیف آپریٹنگ آفیسرز کو بدھ کے روز امریکی قانون سازوں کے سوالات کا سامنا کرنا پڑا کہ وہ مارکیٹ پر اپنا اثرونفوذ کیسے استعمال کرتے ہیں۔

ایمیزون کے سی ای او جیف بیزوس نے اپنی کمپنی کے کاروباری طریقوں اور اپنے حریفوں کے مقابلے میں کمپنی کی برتری کا دفاع کرتے ہوئے ، ہاؤس جوڈیشل اینٹی ٹرسٹ سب کمیٹی کو بتایا کہ "80 فیصد امریکی مجموعی طور پر ایمیزون کے بارے میں اچھا تاثررکھتے ہیں۔"

امریکی ایوان نمائیندگان کی یہ کمیٹی ٹیک کمپنیوں کےدرمیان عدم اعتمادی اورمسابقت کے نقطہ نظر سے اختیار کئے گئےطریقہ کار کا جائزہ لے رہی ہے۔بیزوس نے کہا ، "ایمیزون پر اب چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروبار فروخت ہورہے ہیں. ہمارے صارفین نےاپنے اعتماد سے ایمیزون کواس قابل بنایا ہے ، کہ گذشتہ ایک دہائی کے دوران اس نے کسی دوسرے ملک کے مقابلے میں امریکہ میں زیادہ ملازمتیں پیدا کی ہیں۔

سب کمیٹی کے چیئرمین ڈیوڈ سیسلین نے اپنے ابتدائی بیان کے دوران کہا کہ ایمیزون اور دیگر ٹیک کمپنیاں اپنے اثرورسوخ سے چھوٹے حریفوں کونقصان پہنچانے کی کوشش کر رہی ہیں۔

سیسلن نے کہا ، "ان کمپنیوں کے اختیار کردہ کئی طریقوں کے نقصان دہ معاشی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔وہ کاروباری صلاحیت کی حوصلہ شکنی کرتے ہیں ، ملازمتوں کو ختم کرتے ہیں ، اخراجات میں اضافے اور معیار کو پامال کرتے ہیں۔"

قانون سازوں نے ، جو امریکہ کی دونوں سیاسی جماعتوں کی نمائندگی کرتے ہیں ، گذشتہ سال کےدوران ہر کمپنی کے طرز عمل کا جائزہ لیا ہے اور توقع ہے کہ موسم گرما کے اختتام تک وہ اپنی رپورٹ کو حتمی شکل دے دیں گے۔

بدھ کو ہونے والی یہ سماعت ایک ایسے وقت پر ہو رہی ہے جب امریکہ میں وفاقی اور ریاستی ریگولیٹرز اس بات پر بھی غور کررہے ہیں کہ ٹیک کمپنیاں ، بعض منڈیوں میں اپنے اثر و رسوخ کے ذریعے مقابلے کی فضا ختم کر رہی ہیں۔

قانونی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایپل کے ٹم کک ، فیس بک کے مارک زکربرگ ، گوگل کے سندر پچائی اور بیزوز کی مشترکہ طور اس سماعت میں شرکت اس بات کی عکاسی کرتی ہے کہ ان کی کمپنیوں کا بہت کچھ داو پر لگا ہوا ہے۔

ان چاروں ٹیک کمپنیوں کی مشترکہ سالانہ سیلز اندازا سعودی عرب کی مجموعی قومی پیداوار کے برابر ہیں۔

امریکی ایوان نمائیندگان میں ہونے والی ایسی سماعت کی اس سے پہلے کوئی مثال نہیں ملتی۔ اتنی بڑی ٹیک کمپنیوں کے سی ای اوز کبھی اس طرح ایوان نمائندگان میں پیش نہیں ہوئے، گوکہ انہیں کرونا وائرس کی وجہ سے ویڈیو کانفرنس کے ذریعے سماعت میں شرکت کرنا پڑی۔

یہ پہلا موقع تھا جب ایمیزون کے سی ای او بیزوس نے، جو دنیا کے امیر ترین شخص ہیں، کانگریس کے سامنے اپنا بیان ریکارڈ کروایا۔


کیا واشنگٹن میں لہجہ بدل رہا ہے؟

کانگریس میں ہونے والی اس سماعت نے امریکی ریگولیٹرز اور قانون سازوں کی اہمیت میں اضافہ کر دیا ہے، جن کا کام یہ ہے کہ وہ پالیسیاں مرتب کریں اور ایسے قوانین نافذ کریں جو بڑی کمپنیوں کو اس بات سے روکیں کہ وہ مارکیٹ میں اپنا تسلط قائم رکھنے کے لئے مسابقت کی فضا ختم کردیں۔ کچھ ماہرین کی جانب سے یہ تنقید کی جارہی ہے کہ ان ٹیک کمپنیوں پر سرکاری نگرانی کمزور رہی ہے ، خصوصا یورپی ملکوں کے مقابلے میں، جہاں یہ نگرانی سخت ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ، جو خود بھی ان کمپنیوں پر تنقید کرتے ہیں ، بدھ کواپنی ایک ٹویٹ میں لکھا کہ "اگر کانگریس بڑی کمپنیوں کے معاملات میں درستگی نہیں لاتی، جو انہیں برسوں پہلے لانا چاہئے تھی، تو میں ایک ایگزیکٹو آرڈر کے ساتھ یہ کام کروں گا۔"

قانون سازوں کا چیلنج

ماہرین کا کہنا ہے کہ امریکی قانون ساز ٹیک کمپنیوں پر بھروسہ توڑنے کے اقدامات کا الزام نہیں لگا سکتے، نہ ہی ان کمپنیوں کو توڑ کر چھوٹی کمپنیوں میں تبدیل کیا جا سکتا ہے، لیکن وہ قانون تبدیل کر سکتے ہیں، اورامریکہ کے فیڈرل ٹریڈ کمیشن اور امریکی محکمہ انصاف کے ریگولیٹرز پر دباؤ ڈال کر پہلے سے موجود قواعد پر عمل درآمد یقینی بنا سکتے ہیں۔

اگر کمپنیوں کے کاروباری طریقوں کو درست کرنا مقصود ہے ، تو ماہرین کا خیال ہے کہ قانون سازوں کو یہ خیال رکھنا ہوگا کہ ایپل ، گوگل ، فیس بک اور ایمیزون انٹرنیٹ کی سب سے بڑی کمپنیاں ضرور ہیں، لیکن ان کے کاروبار ایک جیسے نہیں ہیں۔

اطلاعات کے مطابق امریکی محکمہ انصاف انٹرنیٹ کمپنی گوگل کے خلاف عدم اعتماد کے مقدمات دائر کرے گا۔ جبکہ ریاست کے ریگولیٹرز محکمہ انصاف کی اس کوشش میں شامل ہوسکتے ہیں یا اپنے مقدمات خود دائر کرنے کا فیصلہ کر سکتے ہیں۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ جو پالیسیاں امریکی قانون ساز اگلے چند مہینوں اور سالوں میں مرتب کریں گے، ان کے اثرات اگلے کئی سالوں تک بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کو متاثر کرتے رہیں گے۔

XS
SM
MD
LG