رسائی کے لنکس

logo-print

ہالینڈ: وائرس کا غصہ 5جی ٹیکنالوجی پر، سیلولر ٹاور نذرِ آتش


لندن (فائل)

ہالینڈ کے ایک بزنس پارک کی ایک سی سی ٹی وی فٹیج میں کالی ٹوپی پہنے ہوئے ایک شخص کو ایک سیلولر ریڈیو ٹاور کی بنیاد میں ایک سفید ڈبے سے کوئی مواد گراتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ اس کے بعد، اُس کھمبے سےشعلے بھڑکتے دکھائی دے رہے ہیں اور وہ شخص اپنی کار کی جانب جاتے اور رات کے تاریکی میں گم ہوتا دیکھا جا سکتا ہے۔

یہ وہ منظر ہے جسے حالیہ ہفتوں میں یورپ میں درجنوں بار دہرایا گیا ہے۔ شبہات پر مبنی سوچ کے حامی فائیو جی موبائل نیٹ ورک کو کرونا وائرس کی عالمی وبا سے جوڑتے ہیں، جس کی وجہ سے اِن ٹاوروں پر حملے ہو رہے ہیں۔

جب سے موبائل فون آئے ہیں اور وائرس پھیلا ہے، تب سے وائرس لیس کمیونی کیشن کے بارے میں عوام میں مختلف سوچ گردش کر رہی ہے۔ تاہم، کرونا وائرس کے عالمی سطح پر پھیلنے اور نئی ٹیکنالوجی فائیو جی کے اُسی وقت شروع ہونے کی وجہ سے کچھ لوگوں کی ذہن میں یہ تاثر ہے کہ شاید کرونا وائرس اس نئی ٹیکنالوجی کی وجہ سے پھیلا ہے۔

کرونا وائرس اور فائیو جی ٹیکنالوجی کے بارے میں غلط سوچ کو لاکھوں مرتبہ سوشل میڈیا پر شیئر کیا جا چکا ہے۔ ان میں عام تاثر یہ ہے کہ کرونا وائرس فائیو جی ٹاوروں کی وجہ سے پھیل رہا ہے۔

یورپ اور امریکہ میں عہدیدار اس صورتحال کو بڑے قریب سے دیکھ رہے ہیں اور ان نظریات کو پھیلنے سے روکنے کیلئے پوری طرح سے سرگرم عمل ہیں۔ یہ حملے ایک ایسے وقت میں ہو رہے ہیں جب عالمی وبا سے نمٹنے کیلئے ٹیلی مواصلات سے ہونے والے رابطوں کی بہت اہمیت ہے۔

اس سال اپریل میں برطانیہ کی نیشنل ہیلتھ سروس کے ڈائریکٹر سٹیفن پاوس کا کہنا تھا کہ صحت سے متعلق اس ہنگامی صورتحال میں مواصلات سے متعلق بنیادی ڈھانچے کو نقصان پہنچانے والے لوگوں کی وجہ سے سب کو بہت پریشانی ہے۔

صرف برطانیہ میں اس ماہ مواصلاتی ٹاوروں کو پچاس مرتبہ آگ لگائی گئی ہے۔ اس سلسلے میں تین اشخاص کو حراست میں لیا گیا ہے۔ مواصلاتی انجینئروں کو کام کرتے ہوئے اَسی مرتبہ زد و کوب کیا گیا ہے۔ تقریباً سولہ ٹاوروں کو ہالینڈ میں آگ لگائی گئی ہے۔ آئرلینڈ، قبرص اور بیلجئم سے بھی حملوں کی اطلاعات موصول ہوئی ہیں۔

فیس بک پر مواصلاتی ٹاوروں پر حملوں کو لائیک کیا جا رہا ہے۔ فیس بک پر جاری ہونے والی پوسٹ میں ایک جلے ہوئے ٹاور کی تصویر کے ساتھ لکھا ہوا ہے کہ کوئی بھی کرونا وائرس اور کینسر نہیں چاہتا۔ یہ کام چھوڑ دیں ورنہ ہر ٹاور اور موبائل فون کی دکان کو جلا دیا جائے گا۔

کولوریڈو سکول آف پبلک ہیلتھ سے منسلک ڈاکٹر جانیتھن سامت کہتے ہیں کہ فائیو جی اور کرونا وائرس سے پھیلنے والی وبا کے حوالےسے سوچ بلکل غلط ہے۔

ڈاکٹر جانیتھن ورلڈ ہیلتھ آرگنائزیشن کی اُس کمیٹی کے سربراہ رہے ہیں جس نے موبائل فون سے جاری ہونے والی تابکاری اور کینسر پر تحقیق کی تھی۔ وہ کہتے ہیں مجھے کینسر اور موبائیل فون کی تابکاری کے درمیان کوئی معقول نسبت نظر نہیں آتی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG