رسائی کے لنکس

logo-print

کرونا وائرس بحران میں استعمال ہونے والی چند اصطلاحات۔ کیا عوام الجھن کا شکار ہیں؟


دنیا بھر میں کرونا وائرس پھیلتا جا رہا ہے اور اس کے پریشان کن اعداد و شمار نے لوگوں کو شدید ذہنی تناؤ میں مبتلا کر دیا ہے۔ ایسے میں بہت سے لوگ اس کی بہت سی اصطلاحوں کی غلط تشریح کرکے مزید الجھن کا باعث بن رہے ہیں۔

چنانچہ، ان اصطلاحات کا درست مطلب بہت سے لوگوں کے لئے کارآمد ہو سکتا ہے۔ جانز ہاپکنز یونیورسٹی کی جاری کردہ اصطلاحات میں سب سے زیادہ استعمال 'سوشل ڈیسٹنسنگ' کا ہو رہا ہے۔ آئیے جانتے ہیں کہ اس کے اور اس جیسی دیگر اصطلاحات کا مطلب کیا ہے۔

سوشل ڈیسٹینسنگ یا سماجی دوری اختیار کرنا

اس کا مطلب ہے لوگوں سے رابطے صرف اس حد تک کر دینا جس کے بغیر آپ کا گزارا نہیں، جو کچھ یوں ہیں:

ذاتی سماجی رابطے: ہاتھ ملانا، بغلگیر ہونا، محبت کا جسمانی اظہار کرنا، ساتھ کھانا، کسی کے کندھے پر ہاتھ رکھنا، اپنوں کی خیریت یا عیادت کے لیے جانا۔

اجتماعی سماجی رابطے: خوشی کی تقریبات اور غم کی تقریبات میں شرکت۔

ناگزیر رابطے: دفتری تقریبات میں شرکت، خریداری کے لیے پر ہجوم جگہوں پر جانا۔

شوقیہ رابطے: کھیلوں کی سرگرمیوں میں حصہ لینا یا انہیں دیکھنے جانا، فنون لطیفہ کی سرگرمیاں براہ راست دیکھنے جانا۔

ان میں سے کوئی بھی رابطہ ایسا نہیں جو آپ کے لیے ناگزیر ہو، اس لیے انہیں بہ آسانی ترک کیا جا سکتا ہے۔

سوائے پیشہ ورانہ یا تعلیمی سرگرمیوں کے، جن میں دور رکھنے کا اختیار دینے کا دارومدار انتظامیہ پر ہے، آن لائن طریقوں کے ذریعے ان کو بھی کافی حد تک گھر بیٹھے جاری رکھا جا سکتا ہے۔

لاک ڈاون یا تالہ بندی

تالہ بندی یعنی لاک ڈاؤن کا مطلب ہوتا ہے ہر وہ دکان، دفتر، ہوٹل، ریسٹورنٹ، سینما، کارخانہ یا ایسی کوئی اور جگہ جہاں لوگ جمع ہوتے ہیں انہیں حکومت اور عوام باہمی اتفاق سے عارضی طور پر بند کر دیں، تاکہ لوگوں کے ایسے میل جول کو روکا جا سکے جسے ہنگامی صورتحال میں درپیش خطرے سے بچا جا سکتا ہو۔

تاہم، انتہائی ضروری کام جن میں کریانہ، ادویات کی دکانیں، ہسپتال اور کھانوں کی ہوم ڈلیوری کی دکانیں ہیں انہیں کھولنے کی اجازت ہو، تاہم ہر فرد کو دن میں صرف ایک بار اپنے گھر کے قریب ترین ایسی دکانوں پر جانے کی اجازت ہو۔

کرفیو یا خانہ بندی

سخت اور مکمل تالہ بندی کو کرفیو کہتے ہیں جس میں کسی بھی فرد کو گھر سے نکلنے کی اجازت نہیں ہوتی، سوائے اس کے کہ کسی کی جان پر بن آئے اور اس کے لیے بھی کرفیو نافذ کرنے والے اہلکاروں سے اجازت کے بعد باہر آیا جا سکتا ہے۔

کرفیو میں انتظامی کنٹرول سخت ہوتا ہے۔ تاہم، کرفیو نافذ کرنے والے پابند ہوتے ہیں کہ روزانہ کچھ دیر کا وقفہ دیں، جس میں لوگ اشیائے ضروریہ خرید سکیں۔ البتہ، کسی متعدی وبا کی صورت میں، اشیائے ضروریہ کی گھروں تک فراہمی بھی انتظامیہ کی ذمہ داری ہوتی ہے، جس میں وہ رفاحی اداروں کی مدد لیتے ہیں۔

قرنطینہ یا طبی نگرانی

کسی متعدی مرض کے شبے میں افراد کو قرنطینہ (رضاکارانہ قید تنہائی) میں رکھا جاتا ہے، جس کا عرصہ مرض کی علامات ظاہر ہونے تک کا ہوتا ہے، اور اس دوران طبی ٹیسٹ لے کر تصدیق کی جاتی ہے۔ قرنطینہ میں افراد کو الگ الگ رکھنا لازمی ہوتا ہے، تاکہ وہ افراد جن میں مرض نہ ہو وہ اس سے محفوظ رہیں۔ اگر کوئی فرد باشعور ہو تو اسے اپنے گھر میں بھی متعدی بیماری کی علامات ظاہر ہونے تک رہنے کی اجازت ہوتی ہے۔

قرنطینہ کے دوران بھی افراد کو مرض سے بچنے کی احتیاطی تدابیر اختیار کرنی ہوتی ہیں اور اپنی تمام استعمال کی چیزیں الگ رکھنی ہوتی ہیں، تاکہ کوئی اور فرد انہیں استعمال نہ کرے۔

آئی سولیشن یا الگ تھلگ ہوجانا

آئی سولیشن یعنی الگ تھلگ اس وقت ہونا ہوتا ہے جب کسی میں متعدی مرض کی تصدیق ہوجاتی ہے، جس کے بعد اسے حکومتی احکامات کے مطابق اپنے مرض کی متعلقہ حکومتی ادارے کو اطلاع دینی لازمی ہوتی ہے، تاکہ حکومتی ادارہ اسے قریبی آئی سو لیشن سینٹر میں بھیج سکے۔ اگر مریض صاحب استطاعت ہو تو وہ نجی طور پر بھی اپنا علاج حکومتی ہدایات کے مطابق کرا سکتا ہے۔

آئی سولیشن سینٹر میں اسے مرض سے علاج کے دوران کی تمام ہدایات بتا دی جاتی ہیں، اپنے گھر میں آئی سولیشن میں جانا خطرے سے خالی نہیں جبکہ اس دوران آپ کو بار بار طبی معائنے کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ تاہم، حکومتی ادارے کے مشورے اور اجازت سے آپ گھر میں بھی الگ تھلگ ہو سکتے ہیں اگر آپ صاحب استطاعت ہوں تو۔

گھر میں آپ کے تیمارداروں کو انتہائی احتیاط کرنی ہوتی ہے جس کے لیے ڈاکٹر کا مشورہ درکار ہوتا ہے، جس میں سرجیکل ماسک لگانا، دستانے پہننا سب سے ضروری ہے۔ مریض کے استعمال کی ہر چیز الگ تھلگ رکھنے کا معاملہ لازمی ہوتا ہے اور ان کی انتہائی احتیاط سے صفائی اور دھلائی کرنی ہوتی ہے تاکہ تیماردار میں مرض منتقل نہ ہو سکے۔

XS
SM
MD
LG