رسائی کے لنکس

logo-print

کرونا وائرس سے پشاور میں اموات کی تعداد زیادہ کیوں ہے؟


پشاور میں کرونا وائرس کے ایک مریض کو طبی عملہ اسپتال لے جا رہے۔

ملک بھر میں کرونا وائرس سے ہلاک ہونے والے زیادہ تر متاثرہ مریضوں کا تعلق خیبر پختونخوا اور خیبرپختونخوا میں سب سے زیادہ مرکزی انتظامی شہر پشاور ہی سے ہے۔ سوموار کی شام تک حکام کے بقول ملک بھر میں کرونا وائرس سے مرنے والوں کی تعداد 176 تھی، جب کہ ان میں 67 کا تعلق خیبر پختونخوا سے بتایا جاتا ہے۔

ڈاکٹر اور حکام دونوں اس بات پر متفق ہیں کہ صوبے میں اس وبا سے اموات کی اکثریت کا تعلق پشاور ہی سے ہے۔ ڈاکٹروں کی تنظیم کے سربراہ رضوان کنڈی کے مطابق زیادہ تر ہلاکتوں کی وجہ عوام بالخصوص مریضوں اور ان کے رشتہ داروں کی جانب سے حکومت اور ڈاکٹروں کے ساتھ عدم تعاون ہے۔ اسی طرح صوبے کی زیادہ تر آبادی کا انحصار بھی پشاور ہی کے اسپتالوں پر ہے، جس کے نتیجے میں زیادہ تر اموات بھی پشاور ہی میں سامنے آتی ہیں۔ مرنے والوں میں محکمہ اوقاف سے منسلک ایک اسٹنٹ ڈائریکٹر بھی شاملِ ہیں۔

حکام کے مرتب کردہ اعداد و شمار کے مطابق اب تک پشاور میں کرونا وائرس سے 17 افراد ہلاک ہو چکے ہیں اور زیادہ تر اموات شہر کے گلبہار، یکہ توت، کاکشال، متھرا، چمکنی، دلہ زاک، اکیڈمی ٹاؤن اور حیات آباد کے علاقوں میں ہوئی ہیں۔ مرنے والوں میں مقامی افراد کے علاوہ تبلیغی جماعت سے منسلک افراد، دبئی اور دیگر بیرونی ممالک سے واپس آنے والے بھی شامل ہیں۔

خیبر پختونخوا میں اس وقت کرونا وائرس کے تصدیق شدہ مریضوں میں تین درجن سے زیادہ ڈاکٹر، نرسیں اور دیگر طبی عملے کے افراد شامل ہیں۔ ڈاکٹروں کی ایک تنظیم کے سربراہ ڈاکٹر رضوان کنڈی نے وائس آف امریکہ کے ساتھ بات چیت میں کہا کہ ابھی تک حکومت کی طرف سے حفاظتی انتظامات مکمل نہ ہونے کے باعث ڈاکٹروں کے متاثر ہونے کے بہت زیادہ خطرات ہیں۔ تاہم انہوں نے کہا کہ وقت کے ساتھ ساتھ حکومت، ڈونرز اور ڈاکٹر خود حفاظتی انتظامات پر توجہ دینے کی کوشش کر رہے ہیں جس سے حالات میں بتدریج بہتری آ رہی ہے۔

ڈاکٹر رضوان کا کہنا یے کہ خیبر پختونخوا میں کرونا وائرس کی وبا کے دوران لوگ نہ صرف حفاظتی اقدامات کے بارے میں حکومت اور ڈاکٹروں کے مشوروں کو نظر انداز کر ریے ییں بلکہ علامات ظاہر ہونے کے باوجود اسپتالوں سے بر وقت رجوع کرنے سے کتراتے ہیں جس کے نتیجے میں زیادہ اموات ہو رہی ہیں۔

خیبرپختونخوا میں کورونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی زیادہ تعداد ہی پشاور سے بتائی جاتی ہے اور سوموار کے روز مکمل طور پر بند کئے جانے والے علاقوں کی تعداد 30 سے بڑھ گئی ہے۔

ویسے تو ابتدا ہی سے خیبر پختونخوا کے بیشتر دیہی علاقوں میں لاک ڈاؤن برائے نام تھا، مگر سوموار کو پشاور شہر کے بیشتر علاقوں میں صورت حال دیہی علاقوں سے بھی بد تر دکھائی دے رہی تھی۔ جی ٹی روڈ، چارسدہ روڈ، کوہاٹ روڈ، یونیورسٹی روڈ، ورسک روڈ اور دیگر علاقوں میں دکانیں کھلی تھی۔ بعد میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہل کاروں نے تادیبی کاروائی کرتے ہوئے زبردستی دکانوں کو بند کر کے بعض افراد کو حراست میں بھی لیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG