رسائی کے لنکس

بھارت: کرونا وائرس کی آڑ میں مسلمانوں کو نشانہ بنانے کا الزام

او آئی سی نے بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ عالمی انسانی حقوق کے قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ کرے۔ (فائل فوٹو)
او آئی سی نے بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ عالمی انسانی حقوق کے قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ کرے۔ (فائل فوٹو)

بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے کہ کرونا وائرس حملہ کرنے سے قبل مذہب، ذات برادری، رنگ، نسل، قومیت اور سرحد نہیں دیکھتا۔

اس کے ساتھ ہی نریندر مودی نے وبا کے خلاف لڑائی میں عوام سے متحد ہونے کی اپیل کی۔

وزیر اعظم کا یہ بیان اسلامی تعاون تنظیم (او آئی سی) کے اس بیان کے بعد آیا ہے جس میں او آئی سی نے بھارتی مسلمانوں کو وبا پھیلانے کا ذمہ دار قرار دینے کی ہندو نواز عناصر کی مبینہ مہم کی مذمت کی تھی۔

او آئی سی نے بھارتی حکومت سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ عالمی انسانی حقوق کے قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے مسلمانوں کے حقوق کا تحفظ کرے۔

او آئی سی کے جنرل سیکرٹریٹ نے سیاسی حلقے، مین اسٹریم اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر جہاں مسلمانوں کو کرونا وائرس پھیلانے کا ذمہ دار قرار دیا جا رہا ہے، مسلم مخالف رجحان کی رپورٹس پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔

اسلامی تعاون تنظیم نے بھارت میں مسلمانوں پر حملوں پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ کرونا وائرس سے مقابلہ کرنے کے لیے عالمی سطح پر مزید کوششوں اور تعاون کی ضرورت ہے۔

اس سے قبل پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے ایک بیان میں کرونا کی آڑ میں بھارتی مسلمانوں پر ہونے والے مبینہ حملوں کی مذمت کی تھی اور مودی حکومت کو اس کے لیے ذمہ دار ٹھہرایا تھا۔

مسلم مخالف مہم

مودی حکومت اور بھارتی ذرائع ابلاغ کو کرونا وائرس کی آڑ میں مسلمانوں کے خلاف تفریق برتنے کے الزامات کا سامنا ہے۔ جب سے تبلیغی جماعت کے اجتماع میں شریک متعدد افراد کے کرونا وائرس کے ٹیسٹ کے نتائج مثبت آئے ہیں بھارتی مسلمانوں کو کرونا وبا پھیلانے کا ذمہ دار ٹھہرایا جا رہا ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ سب سے پہلے خبریں پہنچانے والے نشریاتی اداروں نے تبلیغی جماعت اور دیگر مسلمانوں پر 'کرونا جہاد' کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا تھا کہ نئی دہلی میں نظام الدین کے علاقے میں واقع تبلیغی جماعت کے مرکز میں مسلمان بھارت میں کرونا پھیلانے کی سازش کے تحت اکٹھا ہوئے تھے۔

کرونا وائرس: سرینگر کے کئی علاقے ریڈ زون میں تبدیل
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:59 0:00

مبصرین یہ بھی کہتے ہیں کہ کئی دن تک نیوز چینلز پر اس الزام کے تحت پروگرام نشر کیے جاتے رہے۔ اس کے بعد مختلف ریاستوں کی حکومتوں نے تبلیغی جماعت سے وابستہ افراد کی تلاش شروع کی اور سامنے نہ آنے پر ان کے خلاف کارروائی کا آغاز کیا۔

میڈیا کی اس رپورٹنگ کے بڑے پیمانے پر منفی نتائج برآمد ہوئے اور بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے بعض رہنماؤں اور کارکنوں نے مسلمانوں کو کرونا پھیلانے کا ذمہ دار قرار دیا۔ اس کے اثرات عوامی سطح پر بھی پڑے۔

مسلمانوں کا سماجی بائیکاٹ

میڈیا رپورٹس کے مطابق مسلم سبزی فروشوں کے شناختی کارڈ چیک کیے جانے لگے اور انہیں ہندو اکثریتی علاقوں سے بھگایا جانے لگا۔ ان پر حملوں کے بھی واقعات پیش آئے۔

بھوپال سے دہلی آنے والے تبلیغی جماعت سے منسلک ایک نوجوان کو کرونا پھیلانے کے الزام کے تحت مقامی شرپسندوں نے اس قدر تشدد کا نشانہ بنایا کہ وہ ہلاک ہو گیا جب کہ کرونا وبا کے ٹیسٹ میں اس نوجوان کی رپورٹ منفی آئی تھی۔

دہلی ہی میں ایک اور ہندو اکثریتی علاقے میں ایک مسلم سبزی فروش کا نام پوچھ کر اس پر تشدد کیا گیا۔ بعد ازاں اس واقعے کی ویڈیو وائرل ہو گئی اور تشدد کرنے والے شخص کو گرفتار کر لیا گیا۔

میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ ریاست ہماچل پردیش اور پنجاب کے بعض علاقوں میں مسلم ڈیری فارمرز کا سماجی بائیکاٹ کیا گیا۔ نہ صرف یہ کہ لوگوں نے ان سے دودھ خریدنا بند کر دیا بلکہ کئی خاندانوں کو اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور کر دیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق بنارس کے دو اسپتالوں نے یہ کہہ کر مسلم خواتین کا علاج کرنے سے انکار کیا کہ وہ کرونا پھیلانے آئی ہیں۔

اسپتال کے عملے نے ان سے کہا کہ وہ پہلے کرونا کی جانچ کرائیں اور وبا کی منفی رپورٹ لے کر آئیں۔

جے پور میں بھی ایک مسلم خاتون کو اسپتال میں داخل نہیں کیا گیا۔ اسٹریچر پر ہی بچے کی پیدائش ہوئی جو کچھ دیر کے بعد فوت ہو گیا۔

میرٹھ کے ایک کینسر اسپتال نے ایک کثیر الاشاعت روزنامے میں اشتہار شائع کروا کر مسلمانوں سے کہا کہ وہ اس اسپتال میں علاج کی غرض سے اسی وقت آئیں جب ان کے پاس کرونا وائرس کے ٹیسٹ کی منفی رپورٹ ہو۔ اشتہار میں کرونا کے لیے تبلیغی جماعت کو مورد الزام ٹھہرایا گیا۔

اشتہار کی اشاعت سامنے آنے پر پولیس نے ویلنٹس کینسر اسپتال کے منیجر امت جین کے خلاف مقدمہ درج کیا۔ اس کے بعد اسپتال کی جانب سے معافی مانگی گئی۔

دہلی کے غریبوں پر کرونا وائرس کے اثرات
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:26 0:00

سرکاری اسپتال میں بھی تفریق

احمد آباد کے ایک سرکاری اسپتال میں کرونا کے مسلم اور ہندو مریضوں کو الگ الگ وارڈز میں رکھا گیا ہے۔ جس کی امریکہ کے مذہبی آزادی سے متعلق کمیشن نے مذمت کی ہے۔

وزارت خارجہ نے اس خبر کی تردید کی ہے لیکن اسپتال کے سپرنٹنڈنٹ نے اعتراف کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کے ایک حکم نامے کے تحت ایسا کیا گیا تھا۔

رپورٹس کے مطابق اس اسپتال میں داخل مریضوں نے بھی کرونا کے مسلم اور ہندو مریضوں کو الگ الگ وارڈز میں رکھے جانے کی تصدیق کی ہے۔

میڈیا میں ایسی متعدد رپورٹس سامنے آئی ہیں جن میں یا تو مسلمانوں کو کرونا وائرس پھیلانے کا ذمہ دار قرار دے کر ان پر حملے کرنے کی تفصیلات ہیں یا پھر ان کے سماجی بائیکاٹ کی تفصیلات ہیں۔

شدید رد عمل

ان واقعات پر انسانی حقوق کے کارکنوں اور تجزیہ کاروں کی جانب سے شدید رد عمل کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

جمعیت علما ہند کے صدر مولانا ارشد مدنی نے تبلیغی جماعت کے خلاف مبینہ طور پر بے بنیاد رپورٹس نشر کرنے کی وجہ سے کئی چینلز کے خلاف سپریم کورٹ میں اپیل دائر کی ہے۔

مولانا ارشد مدنی نے سپریم کورٹ کی ہدایت پر پریس کونسل آف انڈیا کو بھی فریق بنایا ہے۔ اس پر جلد ہی سماعت ہونے کا امکان ہے۔

'حکومت بھارت کو ایک ہندو ریاست بنانا چاہتی ہے'

سینئر صحافی اور تجزیہ کار رادھیکا راما سیشن نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کرونا کے لیے مسلمانوں کو ذمہ دار ٹھہرا کر ان کے خلاف مبینہ طور پر چلائی جانے والی مہم کو انتہائی شرمناک قرار دیا۔

رادھیکا راما سیشن نے کہا کہ 2014 میں جب سے مرکز میں نریندر مودی کی حکومت آئی ہے اسی وقت سے ایک فرقے کے خلاف نفرت انگیز مہم چلائی جا رہی ہے۔ جس کے نتیجے میں ان پر ہونے والے حملوں میں اضافہ ہوا ہے۔

ان کے بقول پہلے مسلمانوں کو ہجوم کے تشدد میں ہلاک کیا جاتا تھا اس کے بعد دہلی میں فساد کروا کر انہیں ہلاک کیا گیا اور اب ان کو کرونا وبا پھیلانے کے لیے مورد الزام ٹھہرایا جا رہا ہے۔

انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس وقت حکومت کی جانب سے مسلمانوں سے امتیازی سلوک برتا جا رہا ہے۔

رادھیکا راما سیشن نے میرٹھ کے اسپتال کے اعلان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ایک فرقے کو اس طرح نشانہ بنانا غلط ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ حکومت بھارت کو ایک ہندو ریاست بنانا چاہتی ہے لیکن اگر ایسا ہوا تو خلیج میں اس پر زبردست رد عمل ہوگا اور وہاں جو ہندو کام کرتے ہیں ان کو ملازمتوں سے برطرف کر دیا جائے گا۔

بھارت میں دنیا کا سب سے بڑا لاک ڈاؤن

<span dir="RTL">بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے </span><span dir="RTL">24 مارچ کو قوم سے خطاب میں کہا تھا کہ ہر ریاست، ہر ضلع، ہر گلی اور ہر گاؤں تین ہفتوں کے لیے بند کیا جا رہا ہے۔ لاک ڈاؤن 21 دن تک جاری رہے گا۔ اگر ان 21 دن میں احتیاط نہ کی گئی تو ملک اور عوام 21 سال پیچھے چلیں جائیں گے۔&nbsp; یہ اعلان ممبئی کی ایک کچی بستی میں رہنے والی مینا رمیش نے بھی ٹی وی پر سنا تھا لیکن اسے اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ آنے والے دن اس کے لیے کس قدر سخت ہوں گے۔ </span>
1/10 بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے 24 مارچ کو قوم سے خطاب میں کہا تھا کہ ہر ریاست، ہر ضلع، ہر گلی اور ہر گاؤں تین ہفتوں کے لیے بند کیا جا رہا ہے۔ لاک ڈاؤن 21 دن تک جاری رہے گا۔ اگر ان 21 دن میں احتیاط نہ کی گئی تو ملک اور عوام 21 سال پیچھے چلیں جائیں گے۔  یہ اعلان ممبئی کی ایک کچی بستی میں رہنے والی مینا رمیش نے بھی ٹی وی پر سنا تھا لیکن اسے اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ آنے والے دن اس کے لیے کس قدر سخت ہوں گے۔
<span dir="RTL">بھارتی عوام کو 21 دن کے لاک ڈاؤن کے لیے صرف 4 گھنٹے کا موقع دیا تھا جس کے بعد لاک ڈاؤن شروع ہوگیا۔ اس لاک ڈاؤن کے خاتمے سے پہلے ہی اس میں 3 مئی تک توسیع کر دی گئی۔ اس سے انتہائی غریب آبادی کے لیے بیک وقت کئی مسائل کھڑے ہوگئے۔ مینا اور اس کا خاندان ایسے افراد میں شامل ہے جن کی یومیہ آمدنی دو ڈالرز (150 ہندوستانی روپے) کے مساوی بھی نہیں۔</span>
2/10 بھارتی عوام کو 21 دن کے لاک ڈاؤن کے لیے صرف 4 گھنٹے کا موقع دیا تھا جس کے بعد لاک ڈاؤن شروع ہوگیا۔ اس لاک ڈاؤن کے خاتمے سے پہلے ہی اس میں 3 مئی تک توسیع کر دی گئی۔ اس سے انتہائی غریب آبادی کے لیے بیک وقت کئی مسائل کھڑے ہوگئے۔ مینا اور اس کا خاندان ایسے افراد میں شامل ہے جن کی یومیہ آمدنی دو ڈالرز (150 ہندوستانی روپے) کے مساوی بھی نہیں۔
<span dir="RTL">مینا اور اس کے خاندان کے پانچ افراد کے لیے 6 بائی 9 فٹ کے کمرے میں ساتھ رہنا، جن کے پاس کوئی کام نہیں، کسی قید سے کم نہیں۔</span>
3/10 مینا اور اس کے خاندان کے پانچ افراد کے لیے 6 بائی 9 فٹ کے کمرے میں ساتھ رہنا، جن کے پاس کوئی کام نہیں، کسی قید سے کم نہیں۔
مینا کا ایک بیٹا رہتک رمیش اس کے لیے خوشیوں کا باعث اور بڑھاپے کا واحد سہارا ہے۔ دن بھر ممبئی کی سڑکوں پر اپنے شوہر کے ہمراہ پلاسٹک کی سستی بالٹیاں اور ٹوکریاں فروخت کرکے جب وہ گھر واپس آتی تھی تو رہتک کی صرف ایک مسکراہٹ اس کی ساری تھکن دور کردیا کرتی تھی مگر اب کرونا کے سبب وہ گھر سے باہر نہیں نکل سکتی۔
4/10 مینا کا ایک بیٹا رہتک رمیش اس کے لیے خوشیوں کا باعث اور بڑھاپے کا واحد سہارا ہے۔ دن بھر ممبئی کی سڑکوں پر اپنے شوہر کے ہمراہ پلاسٹک کی سستی بالٹیاں اور ٹوکریاں فروخت کرکے جب وہ گھر واپس آتی تھی تو رہتک کی صرف ایک مسکراہٹ اس کی ساری تھکن دور کردیا کرتی تھی مگر اب کرونا کے سبب وہ گھر سے باہر نہیں نکل سکتی۔
لاک ڈاؤن کے سبب مینا کی یومیہ آمدنی بھی ختم ہوگئی ہے۔ بھارت کی معیشت گزشتہ دو دہائیوں سے مسلسل ترقی کی جانب گامزن ہے۔ بڑی تعداد میں لوگوں کی غربت دور ہوئی ہے لیکن مینا کے خاندان کے افراد ابھی بھی ایسے افراد میں شامل نہیں۔
5/10 لاک ڈاؤن کے سبب مینا کی یومیہ آمدنی بھی ختم ہوگئی ہے۔ بھارت کی معیشت گزشتہ دو دہائیوں سے مسلسل ترقی کی جانب گامزن ہے۔ بڑی تعداد میں لوگوں کی غربت دور ہوئی ہے لیکن مینا کے خاندان کے افراد ابھی بھی ایسے افراد میں شامل نہیں۔
لاک ڈاؤن سے پہلے اسے محلے والوں کی جانب سے مفت کھانا مل جایا کرتا تھا مگر اب یہ سلسلہ بھی ختم ہو گیا ہے۔
6/10 لاک ڈاؤن سے پہلے اسے محلے والوں کی جانب سے مفت کھانا مل جایا کرتا تھا مگر اب یہ سلسلہ بھی ختم ہو گیا ہے۔
<span dir="RTL">رپورٹس کے مطابق لاک ڈاؤن بھارت جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک امتحان ہے ۔ جس میں یہ سبق بھی شامل ہے کہ بنگلہ دیش سے نائیجیریا تک کے ممالک اپنے غریب ترین شہریوں کو بھی بدتر بھوک اور مزید بدحالی پر مجبور کیے بغیر کوویڈ 19 کا مقابلہ کر رہے ہیں۔</span>
7/10 رپورٹس کے مطابق لاک ڈاؤن بھارت جیسے ترقی پذیر ممالک کے لیے ایک امتحان ہے ۔ جس میں یہ سبق بھی شامل ہے کہ بنگلہ دیش سے نائیجیریا تک کے ممالک اپنے غریب ترین شہریوں کو بھی بدتر بھوک اور مزید بدحالی پر مجبور کیے بغیر کوویڈ 19 کا مقابلہ کر رہے ہیں۔
<span dir="RTL">بھارت کی حکومت کی جانب سے طویل لاک ڈاؤن کو </span><span dir="RTL">انسانی تاریخ کا انتہائی سخت معاشرتی تجربہ کہا جا رہا ہے۔ لاک ڈاؤن کے دوران صرف کھانا، ادویات یا دیگر اشیائے ضروریہ خریدنے کی اجازت ہے۔ کاروبار، تجارتی سرگرمیاں بند ہیں۔ اسکول کالج بھی کوئی نہیں جا رہا جب کہ کھیل کے میدان ویران پڑے ہیں۔ اسے میں گھروں میں پانی اور ٹوائلٹ کی سہولت نہ ہونا ایک بڑا مسئلہ ہے۔</span>
8/10 بھارت کی حکومت کی جانب سے طویل لاک ڈاؤن کو انسانی تاریخ کا انتہائی سخت معاشرتی تجربہ کہا جا رہا ہے۔ لاک ڈاؤن کے دوران صرف کھانا، ادویات یا دیگر اشیائے ضروریہ خریدنے کی اجازت ہے۔ کاروبار، تجارتی سرگرمیاں بند ہیں۔ اسکول کالج بھی کوئی نہیں جا رہا جب کہ کھیل کے میدان ویران پڑے ہیں۔ اسے میں گھروں میں پانی اور ٹوائلٹ کی سہولت نہ ہونا ایک بڑا مسئلہ ہے۔
مینا رمیش جاکھوڈیا کے شوہر رمیشن کو دور دراز کے علاقوں سے پینے کا صاف پانی لانا پڑتا ہے جب کہ رفع حاجت کے لیے جنگلوں، میدانوں اور ریلوے لائنز کے قریب جانا پڑتا ہے۔ خواتین دن میں رفع حاجت کے لیے گھروں سے نہیں نکل سکتیں اور صرف رات کو ہی محفوظ مقامات پر جا پاتی ہیں جس سے اکثر خواتین بیمار ہو جاتی ہیں۔
9/10 مینا رمیش جاکھوڈیا کے شوہر رمیشن کو دور دراز کے علاقوں سے پینے کا صاف پانی لانا پڑتا ہے جب کہ رفع حاجت کے لیے جنگلوں، میدانوں اور ریلوے لائنز کے قریب جانا پڑتا ہے۔ خواتین دن میں رفع حاجت کے لیے گھروں سے نہیں نکل سکتیں اور صرف رات کو ہی محفوظ مقامات پر جا پاتی ہیں جس سے اکثر خواتین بیمار ہو جاتی ہیں۔
<span dir="RTL">بھارت میں جہاں لاکھوں لوگوں کے لیے معاشرتی دوری ناممکن ہے، وہاں خطرہ یہ ہے کہ لاک ڈاؤن شہروں اور دیہاتوں کے لیے تباہی کا سبب نا بن جائے۔ مثلاً ممئی میں ایک مربع میل میں 77 ہزار افراد رہتے ہیں یہ شرح نیو یارک سٹی سے تقریبا 3 گنا زیادہ ہے۔ لوگ اپنی صحت پر خرچ کرنے کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ طبی نظام ملک کے بہت سارے حصوں میں بمشکل ہی کام کرتا ہے۔ بڑے شہروں سے باہر سرکاری اسپتالوں تک عوام کی رسائی محدود ہے۔ اسپتالوں میں صفائی کا مناسب انتظام نہیں جب کہ دیہات میں تیسرے درجے کے ڈاکٹرز ہی دستیاب ہوتے ہیں لہذا کرونا وائرس کے متاثرین ایسے بھی کس قدر تکلیف میں مبتلا ہوسکتے ہیں اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔</span>
10/10 بھارت میں جہاں لاکھوں لوگوں کے لیے معاشرتی دوری ناممکن ہے، وہاں خطرہ یہ ہے کہ لاک ڈاؤن شہروں اور دیہاتوں کے لیے تباہی کا سبب نا بن جائے۔ مثلاً ممئی میں ایک مربع میل میں 77 ہزار افراد رہتے ہیں یہ شرح نیو یارک سٹی سے تقریبا 3 گنا زیادہ ہے۔ لوگ اپنی صحت پر خرچ کرنے کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ طبی نظام ملک کے بہت سارے حصوں میں بمشکل ہی کام کرتا ہے۔ بڑے شہروں سے باہر سرکاری اسپتالوں تک عوام کی رسائی محدود ہے۔ اسپتالوں میں صفائی کا مناسب انتظام نہیں جب کہ دیہات میں تیسرے درجے کے ڈاکٹرز ہی دستیاب ہوتے ہیں لہذا کرونا وائرس کے متاثرین ایسے بھی کس قدر تکلیف میں مبتلا ہوسکتے ہیں اس کا اندازہ لگانا مشکل نہیں۔
Previous slide
Next slide

'مسلمانوں کو پولیس بھی ہراساں کر رہی ہے'

دہلی اقلیتی کمیشن کے چیئرپرسن ڈاکٹر ظفر الاسلام خان نے کہا کہ لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کے لیے تبلیغی جماعت کو تو ذمہ دار قرار دیا جا رہا ہے لیکن خود حکومت، سیاسی جماعتوں اور دیگر مذہبی گروپوں کی جانب سے لاک ڈاؤن کی خلاف روزی کی درجنوں مثالیں ہیں جن میں کرونا وائرس کے سلسلے میں عائد پابندیوں کی خلاف روزی کی گئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ آج پورا معاملہ مسلمانوں کی جانب موڑ دیا گیا ہے۔ ملک میں مسلمانوں پر حملے بھی ہو رہے ہیں۔ مسلم سبزی فروشوں کو ہندو علاقوں سے باہر نکالا جا رہا ہے یہاں تک کہ ان کی پٹائی بھی ہو رہی ہے۔ ہندوتوا گروہوں کی جانب سے مسلمانوں کے سماجی بائیکاٹ کی اپیلیں کی جا رہی ہیں اور مختلف علاقوں میں مسلمانوں کو پولیس کی جانب سے ہراساں بھی کیا جا رہا ہے۔

'یہ مہم بھارت کو پوری دنیا میں بدنام کر دے گی'

ایک اور سینئر صحافی معصوم مراد آبادی کا کہنا ہے کہ مسلم مخالف میڈیا اور فاشسٹ قوتوں کا اتحاد ملک کو تباہی کی جانب لے جا رہا ہے۔

مسلمانوں کے خلاف ہونے والی تفریق کے لیے انہوں نے ذرائع ابلاغ کو ذمہ دار قرار دیا۔

معصوم مراد آبادی نے مزید کہا کہ میڈیا کی مسلم مخالف مہم کے نتیجے میں عام ہندو بھی متاثر ہو رہا ہے اور وہ بھی یہ سمجھنے لگا ہے کہ مسلمان ہی کرونا پھیلا رہے ہیں۔

انہوں نے اس رجحان کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کی پشت پناہی میں جاری یہ مہم بھارت کو پوری دنیا میں بدنام کر دے گی۔

انہوں نے کہا کہ میڈیا میں ایسی بھی رپورٹس ہیں کہ یومیہ مزدوروں میں خور و نوش کی اشیا تقسیم کرنے والے مسلمانوں کو بھی حملوں کا ہدف بنایا جا رہا ہے۔

مصنفہ اور ناول نگار اروندھتی رائے نے جرمن خبر رساں ادارے 'ڈی ڈبلیو' سے بات کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کرونا وائرس کے معاملے کو مسلمانوں کے خلاف استعمال کرتے ہوئے عوام میں فرقہ وارانہ خلیج پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔

  • 16x9 Image

    سہیل انجم

    سہیل انجم نئی دہلی کے ایک سینئر صحافی ہیں۔ وہ 1985 سے میڈیا میں ہیں۔ 2002 سے وائس آف امریکہ سے وابستہ ہیں۔ میڈیا، صحافت اور ادب کے موضوع پر ان کی تقریباً دو درجن کتابیں شائع ہو چکی ہیں۔ جن میں سے کئی کتابوں کو ایوارڈز ملے ہیں۔ جب کہ ان کی صحافتی خدمات کے اعتراف میں بھارت کی کئی ریاستی حکومتوں کے علاوہ متعدد قومی و بین الاقوامی اداروں نے بھی انھیں ایوارڈز دیے ہیں۔ وہ بھارت کے صحافیوں کے سب سے بڑے ادارے پریس کلب آف انڈیا کے رکن ہیں۔  

This item is part of
XS
SM
MD
LG