رسائی کے لنکس

انٹرنیٹ رسائی کا فقدان کرونا سے نمٹنے کی کوششوں میں ایک رکاوٹ


کرونا وائرس کے پھیلاؤ نے جہاں دنیا کے صحت عامہ اور اقتصادی نظاموں کو ایک کڑے امتحان میں ڈال رکھا ہے وہاں اس وبا نے انٹرنیٹ کی سہولت میسر ہونے میں عدم مساوات کے مسئلے کو حل کرنے کی طرف بھی توجہ مبذول کرائی ہے۔

ماہرین کے مطابق، انٹرنیٹ کی رسائی میں یہ تقسیم، جسے عام طور پے ڈیجیٹل ڈیوائڈ کہا جاتا ہے، دنیا کے بہت سے لوگوں کیلئے معلومات کی فراہمی، اقتصادی مواقع، صحت اور تعلیم جیسے اہم ترین شعبوں پر اثر انداز ہو رہی ہے۔

عالمی اقتصادی فورم کی ایک رپورٹ کے مطابق، کووڈ 19 کے پھیلاؤ کے اس دور میں دنیا کی تقریباً نصف آبادی انٹرنیٹ کی سہولت سے محروم ہے۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق، 55 فیصد صد لوگ انٹرنیٹ استعمال کر رہے ہیں۔

ترقی یافتہ ممالک میں یہ شرح 87 فیصد ہے جبکہ ترقی پذیر ممالک میں 47 فیصد اور دنیا کے کم ترقی یافتہ ممالک میں محض 19 فیصد لوگ انٹرنیٹ تک رسائی رکھتے ہیں۔

ٹیکنالوجی کے ماہر، طارق ملک، جو اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے ادارے کے چیف ٹیکنیکل ایڈوائزر ہیں، کہتے ہیں کہ یہ ڈیجیٹل تقسیم دنیا کے لیے اس بحران میں ایک بڑا لمحہ فکریہ ہونا چاہیے۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا ''اگر ہم پاکستان کی صورتحال کو دیکھیں تو حکومت کا احساس پروگرام ایک اچھا اقدام ہے۔ لیکن، معاشی مسائل میں گھرے ہوئے بہت سارے پاکستانی موبائل فون نہ ہونے کی وجہ سے اس پروگرام سے جلد مستفید نہیں ہو سکتے۔ اور وہ صحت اور معاشی دشواریوں سے چھٹکارا حاصل نہیں کر سکیں گے''۔

طارق ملک جو پاکستان کے قومی ادارے، نیشنل ڈیٹا بیس اینڈ رجسٹریشن اتھارٹی کے سابقہ چیئرمین ہیں، کہتے ہیں کہ اس بحران کو ایک موقع سمجھ کر اس حکومت کو اور آنے والی حکومتوں کو ایسے مربوط نظام اور لائحہ عمل تیار کرنا چاہیے جو بحران کی صورتحال میں لوگوں کو جلد از جلد ریلیف مہیا کر سکے اور ان کی مناسب دیکھ بھال ممکن ہو سکے۔

ترقی پذیر ممالک میں کرونا وائرس کے بحران سے بہت سے علاقوں میں اسکول مکمل طور پر بند ہیں۔ ایسے میں وہ طلبا و طالبات جنہیں انٹرنیٹ یا کمپیوٹر کی سہولت میسر نہیں اپنا قیمتی وقت تعلیم کے حصول لئے صرف نہیں کرسکیں گے۔

دوسری طرف، امریکہ سمیت کی ترقی یافتہ ممالک میں بہت سے لوگ انٹرنیٹ یا تیز رفتار انٹرنیٹ کی سہولت کی رسائی نہیں رکھتے۔

حال ہی میں واشنگٹن کے ایک ادارے انفارمیشن ٹیکنالوجی اور انوویشن فاؤنڈیشن نے امریکی معاشرے میں ڈیجیٹل خلا کو پورا کرنے کے لیے تجاویز پر مبنی ایک پیپر جاری کیا ہے۔ اس کے مطابق، امریکی پالیسی ساز اداروں کو تعلیم، صحت ٹرانسپورٹ اور اقتصادی شعبوں میں ڈیجیٹل تبدیلی لانے کے لئے نئی رقوم مختص کرنا چاہیے، تاکہ آئندہ کے بحرانوں میں لوگوں کو کم سے کم مشکلات درپیش ہوں۔

ادارے کے سربراہ رابرٹ ایٹکنسن کے مطابق، ڈیجیٹل ٹیکنالوجی نے کرونا وائرس کے بحران کے دوران فزیکل ڈسٹنسنگ کی پالیسی پر عمل کرنا آسان بنا دیا ہے۔ لیکن، پھر بھی معاشرے ایسی بحرانوں سے نمٹنے کے لیے مکمل طور پر تیار نہیں اور اس میں ہمیں بہت جگہوں پہ خلا نظر آتا ہے۔

ادارے کی سفارشات میں تمام لوگوں کی انٹرنیٹ تک رسائی، آرٹیفیشل انٹیلیجنس کا استعمال ٫صحت اور مالیاتی اداروں اور شہروں کے نظام میں انٹرنیٹ کے بہتر استعمال پر زور دیا گیا ہے۔

ماہرین صحت کے مطابق، ٹیکنالوجی خاص طور پر انٹرنیٹ کے استعمال میں احتیاط بھی لازم ہے، کیونکہ وبا سے متعلق بہت سی غلط اطلاعات بھی سوشل میڈیا پر دیکھنے میں آئی ہیں۔

پاکستانی امریکی ڈاکٹر طارق شہاب، جو امراض قلب کے ماہر ہیں، کہتے ہیں کہ انہوں نے کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے جو ویڈیو پیغامات کا ایک سلسلہ شروع کر رکھا ہے اس کا مقصد لوگوں کو صحیح احتیاطی تدابیر سے آگاہ کرنا ہے۔

انھوں نے کہا کہ ان ویڈیو پیغامات کو اپنی بیوی ریما خان کے ساتھ ریکارڈ کرنے سے پہلے میں اچھی طرح تحقیق کرتا ہوں تاکہ لوگوں کو جدید ترین اور درست اطلاعات سے آگاہ کیا جائے، تاکہ لوگ اس موذی مرض سے بچنے کے لئے صحیح احتیاطی تدابیر اختیار کر سکیں۔

حال ہی میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم فیس بک نے بہت سی ایسی پوسٹ کو ہٹانے کا فیصلہ کیا ہے جن کی اطلاعات درست دکھائی نہیں دیتی۔

جہاں تک ڈیجیٹل عدل مساوات سے نمٹنے کا تعلق ہے تو کچھ ملکوں نے اس سلسلے میں اہم اقدامات بھی کیے ہیں۔ مثال کے طور پر جنوبی افریقہ کی حکومت نے فیصلہ کیا ہے کہ جب لوگ کووڈ 19 کی ویب سائٹ دیکھیں گے تو ان کا ڈیٹا یا ایئرٹائم شمار نہیں ہوگا۔

اسی سلسلے میں جنوبی افریقہ کی انٹرنیٹ کی سہولت فراہم کرنے والی کمپنی ٹیل کام نے تعلیمی مقاصد کے لئے انٹرنیٹ کے استعمال میں رعایت دی ہے۔

XS
SM
MD
LG