رسائی کے لنکس

logo-print

کرونا کے خلاف کوششوں میں پاکستان کسی سے پیچھے نہیں: فواد چوہدری


پاکستان کے وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی فواد چوہدری نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کسی ایک ملک یا مذہب کا مسئلہ نہیں بلکہ پوری دنیا اور پوری انسانیت کے لئے ایک بحران بن چکا ہے اور سب کی نظریں طبی شعبے میں تحقیق کرنے والوں اور بائیو ٹیکنالوجی کے ماہرین کی جانب ہیں۔

میری لینڈ میں مسلم فار ٹرمپ کے بانی ساجد تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے فواد چوہدری نے کہا کہ پاکستان کا شمار ان ملکوں میں ہوتا ہے جنہیں کرونا کے سبب شروع ہی سے چیلنجز کا سامنا تھا، کیونکہ چین اور ایران جیسے ممالک جہاں کرونا سے متاثرہ افراد کی تعداد سب سے زیادہ ہے، پاکستان کے ساتھ سرحدیں ملتی ہیں۔

ان کے بقول، پاکستان نے شروع ہی سے جو احتیاطی اقدامات کیے اس لیے آج بھی وہاں وبا کا پھیلاؤ باقی ملکوں کے مقابلے میں کم ہے۔ انہوں نے کہا کہ قرنطینہ کرونا سے بچاؤ کا حتمی حل نہیں ہے۔ انسانوں کو میل ملاپ سے زیادہ دیر نہیں روکا جا سکتا۔ اس لئے سب کی نظریں سائنسدانوں اور لیبارٹریوں کی طرف ہیں۔

فواد چوہدری نے بتایا کہ باقی دنیا کی طرح پاکستان کی لیبارٹریز اور پاکستان کے طبی محققین بھی کرونا وائرس کی ادویات یا ویکسین کی تیاری پر تحقیق کر رہی ہیں اور اس سلسلے میں عالمی ادارہ صحت کے زیرانتظام مربوط کوششیں جاری ہیں۔

امریکہ کے دورے سے متعلق انہوں نے تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ اس دورے کا مقصد امریکی ٹیکنالوجی کمپنیوں اور امریکہ میں موجود پاکستانی سائنسدانوں کے تجربات سے فایدہ اٹھانا اور ان کو پاکستان لانا ہے۔ امریکہ کے ساتھ ٹیکنالوجی اور سائنس کے شعبے میں تعاون بڑھانا چاہتا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ الیکٹرک کاریں بنانے والی کمپنی لیوسو اور سیمی کنڈکٹر تیار کرنے والی کمپنی کے علاوہ انہوں نے سلی کون ویلی میں اوپن فورم کے ساتھ گفت و شنید کی ہے۔

فواد چوہدری کا کہنا تھا کہ امریکہ میں 8 سے 10 ہزار پاکستانی بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کے لیے کام کر رہے ہیں اور حکومت پاکستان کی خواہش ہے کہ وہ اپنے ان پاکستانی سائنسدانوں کے تجربے سے استفادہ کرے۔

انہوں نے بتایا کہ ان کی وزارت نے برطانیہ میں موجود پاکستانی سائنسدانوں کو بھی وزارت کے ساتھ منسلک کیا ہے اور وہ تعلیم، ٹیکنالوجی، بائیو ٹیکنالوجی اور ہیلتھ میڈیسن کے شعبے میں رہنمائی فراہم کریں گے۔ اسی طرح کوشش ہوگی کہ امریکہ میں موجود اوورسیز پاکستانی سائنسی ماہرین کے تجربے سے بھی استفادہ کیا جائے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ جب سے یہ وزارت ان کے پاس آئی ہے انہوں نے اس کے بجٹ میں 600 فیصد اضافہ کروایا ہے اور اس سال کے آخر تک یہ اضافہ 13 سو فیصد تک ہو جائے گا۔
فواد چوہدری نے بتایا کہ پاکستان بجلی ہر چلنے والی کاریں بنانے پر کام شروع کرنا چاہتا ہے اور اس سلسلے میں امریکی کمپنیوں سے بھی بات چیت ہو رہی ہے۔

چین امریکا تعلقات، ان کے بقول، سردمہری کا شکار ہیں اور پاکستان کے پاس یہ موقع ہے کہ وہ دو بڑی معاشی طاقتوں کو اپنے ملک کے اندر مینوفیکچرنگ کے مواقع فراہم کریں اور یہ دو بڑی معیشتیں پاکستان کے توسط سے ایک دوسرے کو اپنی اپنی پیداوار سپلائی کر سکیں۔

وزیر برائے سائنس اینڈ ٹیکنالوجی نے کہا کہ پاکستان امریکہ کی جدید زرعی ٹیکنالوجی سے بھی استفادہ چاہتا ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ امریکی کمپنیاں پاکستان آئیں اور اس شعبے میں تعاون کو فروغ دیا جا سکے۔ انہوں نے کہا کہ امریکہ نے 1960 میں پاکستان کے خلائی پروگرام کو شروع کیا تو بھارت اور چین جیسے ممالک اسوقت اس دوڑ میں بھی شامل نہیں تھے۔

انہوں نے بتایا کہ امریکہ اب بھی پاکستان کی بہترین معاونت کر رہا ہے، اور ان کے بقول، نسٹ میں سٹیٹ آف دا آرٹ روبوٹک سنٹر موجود ہے، جو امریکہ نے ہی دے رکھا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG