'پاکستان کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے تیار ہے'
پاکستان کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے کس قدر تیار ہے، چلینجز کیا ہو سکتے ہیں اور اس کے روک تھام کے لیے پاکستان کے پاس کتنے وسائل ہیں؟ اس بارے میں نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ کے ڈاکٹر ممتاز علی خان سے گفتگو
پشاور کے 4 اسپتالوں میں کرونا وائرس کے علیحدہ وارڈز قائم
پشاور کے 4 بڑے اسپتالوں میں کرونا وائرس کے مریضوں کے لئے علیحدہ وارڈز تو قائم کئے گئے ہیں لیکن مشتبہ کیسز کی سکرینگ کا کوئی انتظام نہیں۔ اس کے لیے خون کے نمونے نیشنل انسٹی ٹیوٹ آف ہیلتھ اسلام آباد بھجوائے جاتے ہیں۔ عمر فاروق کی رپورٹ
چمن میں کرونا وائرس کی اسکرینگ کے ناکافی انتظامات
پاکستان نے بلوچستان میں تفتان کے مقام پر اپنی سرحد بند کر دی ہے اور ایران سے آنے والے زائرین کو اسکریننگ کے لیے پاکستان ہاؤس میں رکھا جا رہا ہے۔ انتظامیہ کا کہنا ہے کہ بڑی تعداد میں لوگ آ رہے ہیں لیکن ان کے پاس عملہ اور سہولتیں بہت کم ہیں۔ مرتضیٰ زہری کی رپورٹ
ملتان میں کرونا وائرس کے علاج کے لیے انتظامات
جنوبی پنجاب کے شہر ملتان میں کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ دیکھیے جمشید رضوانی کی رپورٹ میں۔