کرونا وائرس سے امریکی معیشت دباؤ کا شکار
کرونا وائرس کی وجہ سے خدشات بڑھ رہے ہیں کہ اس سے پیدا ہوئی رکاوٹیں امریکی معاشی ترقی کو روک دیں گی اور کساد بازاری کی طرف لے جائیں گی۔ وائٹ ہاؤس ان ہی معاشی مسائل کو مدنظر رکھتے ہوئے متاثرہ کاروباروں اور ملازمین پر مالی دباؤ کو کم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ مزید اس رپورٹ میں
امریکہ میں ایمرجنسی نافذ، کرونا وائرس پر کنٹرول کے لیے 50 ارب ڈالر کا فنڈ قائم
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کرونا وائرس کو ملک میں پھیلنے سے روکنے کے لیے ایمرجنسی نافذ کر دی ہے اور اس عالمی وبا پر قابو پانے کے لیے 50 ارب ڈالر فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
انہوں نے وائٹ ہاؤس کے روز گارڈن میں نیوز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ان کی انتظامیہ نے اس وائرس پر کنٹرول کے لیے متعدد اقدامات کیے ہیں اور وفاقی حکومت اس وائرس پر قابو پانے کے لیے پوری طاقت سے کام کرے گی۔
انہوں نے ملک کی تمام ریاستوں پر زور دیا کہ وہ اس وبا کے خلاف اپنی تمام توانائیاں بروئے کار لائیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس کی تشخیص کے لیے ہزاروں لاکھوں ٹیسٹ فراہم کر رہے ہیں۔ ملک کے تمام صحت کے سرکاری مراکز ٹیسٹ کی سہولت فراہم کریں گے۔ ہم اپنے شہریوں کو کرونا وائرس کے خطرے اور خوف سے نجات دلانا چاہتے ہیں۔
صدر ٹرمپ کا کہنا تھا کہ بڑی عمر کے افراد کو اس وائرس کا ہدف بننے سے بچانے کے لیے خصوصی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
کرونا وائرس: ریاست لوزیانا میں پرائمری انتخاب ملتوی
کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیشِ نظر امریکی ریاست لوزیانا نے ڈیموکریٹک پارٹی کے 4 اپریل کو ہونے والے پرائمری انتخاب کو جون تک ملتوی کرنے کا اعلان کیا ہے۔
لوزیانا پہلی ریاست ہے جس نے کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے الیکشن آگے بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ الیکشن میں خدمات انجام دینے والے معمر کارکنوں کا تحفظ یقینی بنانے کے لیے کیا گیا ہے۔
آئندہ منگل کو ریاست ایریزونا، فلوریڈا، الی نوئے اور اوہایو میں پرائمری انتخاب ہونے ہیں اور فی الحال ان ریاستوں نے پرائمریز ملتوی کرنے کا فیصلہ نہیں کیا۔ ان کے بعد 24 مارچ کو جارجیا اور 29 مارچ کو پورٹوریکو میں پرائمری الیکشن ہوں گے۔
کرونا وائرس کی وجہ سے غیر ملکی سرمائے کا فرار
کرونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر کے سرمایہ کار گھبراہٹ کا شکار ہیں اور اپنے سرمائے کو ان معیشتوں سے نکال رہے ہیں جنھیں وہ غیر محفوظ سمجھتے ہیں۔ گزشتہ ایک ماہ میں ابھرتی ہوئی معیشتوں سے 30 ارب ڈالر نکالے جاچکے ہیں۔ پاکستان کی پہلے سے بدحال معیشت کو بھی جھٹکے لگ رہے ہیں اور صرف 12 دن میں 67 کروڑ ڈالر کا سرمایہ ملک سے رخصت ہوچکا ہے۔
اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے مطابق اس رقم میں سے 60 کروڑ ڈالر ٹی بلز سے نکالے گئے ہیں جبکہ پاکستان انویسٹمنٹ بانڈز سے سوا 3 کروڑ ڈالر رخصت ہوگئے ہیں جو ان میں غیر ملکی سرمایہ کاری کا نصف ہے۔ غیر ملکی سرمائے کی آمددرفت سے پاکستانی کرنسی، شرح سود اور قیمتوں پر اثرات مرتب ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گزشتہ 3 دن میں امریکی ڈالر کے مقابلے میں پاکستانی روپے کی قدر میں 3 فیصد سے زیادہ کمی ہوئی ہے۔ پیر کو 154 روپے 25 پیسے میں ملنے والے ڈالر کا نرخ جمعرات کو 159 روپے 30 پیسے ہوچکا تھا۔
ماہرین معیشت کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس اور تیل کی قیمتوں میں کمی کی وجہ سے سرمایہ کار تیزی سے فیصلے کررہے ہیں۔ عالمی حصص مارکیٹوں میں شدید مندی کا رجحان ہے اور ابھرتی ہوئی معیشتوں سے رقوم منتقل کی جارہی ہیں۔ یہ معیشتیں چھ ہفتوں میں 30 ارب ڈالر سے محروم ہوچکی ہیں۔