رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

17:41 14.3.2020

واہگہ بارڈر پر پریڈ بھی تماشائیوں کے بغیر ہو گی

کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے واہگہ بارڈر پر پرچم اُتارنے کی تقریب کو بھی محدود کر دیا گیا ہے۔ پرچم اُتارنے کی تقریب میں شہریوں کے داخلے پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ پاکستان کی پنجاب رینجرز اور بھارت کی بارڈر سیکیورٹی فورسز (بی ایس ایف) کے درمیان پریڈ معمول کے مطابق ہو گی، لیکن شہریوں کی شرکت پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔

15:50 14.3.2020

'تفتان سے آنے والوں کو قرنطینہ میں رکھا جائے گا'

پاکستان کے صوبہ سندھ کے حکومتی ترجمان مرتضی وہاب نے کہا ہے کہ ایران سے آنے والے زائرین کو قرنطینہ میں رکھا جائے گا۔ مرتضی وہاب کا کہنا ہے کہ تفتان سے آنے والے 308 زائرین کو سکھر منتقل کر دیا گیا ہے۔

اُن کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت نے چار مقامات پر آئسو لیشن وارڈز قائم کر دیے ہین۔ ٹیسٹ مثبت پر آنے پر مریضوں کو ان آئسو لیشن وارڈز میں منتقل کیا جائے گا۔

ترجمان سندھ حکومت کا کہنا ہے کہ آئسو لیشن وارڈز میں ایک وقت میں دو ہزار افراد کو رکھنے کی گنجائش ہو گی۔

15:28 14.3.2020

پاکستان میں کرونا کا نیا کیس، مجموعی تعداد 29 ہو گئی

پاکستان میں ہفتے کو کرونا وائرس کا ایک اور کیس رپورٹ ہوا ہے۔ 30 سالہ خاتون میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ خاتون کو تشویش ناک حالت میں اسلام آباد کے پمز اسپتال میں داخل کیا گیا ہے۔ مذکورہ خاتون امریکہ سے پاکستان آئیں تھیں۔

حکام کے مطابق خاتون کو اسپتال کے آئسو لیشن وارڈ میں وینٹی لیٹر پر منتقل کر دیا گیا ہے۔

13:57 14.3.2020

کرونا وائرس کے خلاف پاکستان اور بھارت متحد

پاکستان نے کرونا وائرس کے خلاف سارک ممالک کی مشترکہ کوششوں کی بھارتی وزیر اعظم کی تجویز سے اتفاق کیا ہے۔

بھارت کے وزیر اعظم نریندر مودی نے ایک ٹوئٹ میں کہا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ہمسائیہ ملک مل کر اس وائرس کے خلاف حکمت عملی مرتب کریں۔ اس ضمن میں ویڈیو کانفرنس کے ذریعے مشاورت کی تجویز دی گئی تھی۔

بھارتی وزیر اعظم نے اپنی ٹوئٹ میں کہا تھا کہ مشترکہ کوششوں سے ہم دُنیا کے لیے ایک مثال بن سکتے ہیں۔

پاکستان کی وزارتِ خارجہ کی ترجمان نے بھارتی وزیر اعظم کا نام لیے بغیر ٹوئٹ کی کہ پاکستان سارک ممالک کے درمیان ویڈیو کانفرنس کی تجویز سے متفق ہے۔ اس ضمن میں وزیر اعظم پاکستان کے معاون خصوصی برائے صحت ظفر مرزا کی نمائندگی سے متعلق آگاہ کر دیا گیا ہے۔

سارک ممالک میں پاکستان اور بھارت کے علاوہ سری لنکا، بنگلہ دیش، بھوٹان، نیپال، مالدیب اور افغانستان شامل ہیں۔

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG