کرونا وائرس سے بچنے کے لیے اپنا موبائل فون روزانہ صاف کریں
کرونا وائرس سے بچنے کے لیے آپ نے یہ تو پڑھا اور سنا ہو گا کہ اپنے ہاتھوں کو صابن کے ساتھ دن میں کئی کئی بار کم ازکم 20 سیکنڈ کے لیے اچھی طرح دھوئیں۔ لیکن کیا آپ کا دھیان اپنے موبائل فون کی طرف بھی گیا ہے جسے دن میں بیسیوں بار آپ استعمال کرتے ہیں اور وہ آپ کے ہاتھوں میں آتا ہے۔
سائنس دانوں نے موبائل کے جو ٹیسٹ کیے ہیں ان سے یہ نتیجہ برآمد ہوا ہے کہ موبائل فون کی سطح پر کرونا وائرس دو سے تین دن تک زندہ رہ سکتا ہے اور اسے چھونے سے وہ انسانی جسم میں منتقل ہو سکتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ صرف موبائل فون ہی نہیں بلکہ پلاسٹک اور سٹین لیس سٹیل سے بنی ہوئی تمام اشیا پر وائرس دو سے تین دن تک موجود رہ سکتا ہے۔
بیماریوں پر کنٹرول اور بچاؤ کے امریکی ادارے سی ڈی سی پی نے لوگوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنے موبائل فون، کمپیوٹر کا کی بورڈ اور ٹیبلٹ سمیت استعمال میں آنے تمام ہائی ٹیک آلات کو روزانہ باقاعدگی سے صاف کریں اور اس کے لیے جراثیم کش سپرے وغیرہ کا ستعمال کریں۔
پانی یا اسی طرح کے کسی مائع سے موبائل فون صاف کرنے سے اسے نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اس کی صفائی میں یہ احتیاط کریں کہ نمی فون کے اندر نہ جانے پائے کیونکہ اس سے وہ خراب ہو سکتا ہے۔ اسے صاف کرتے وقت نرم کپڑا استعمال کریں تاکہ اس کی سطح پر خراشیں نہ آئیں۔
امریکی ویزوں کی معطلی سے ہزاورں چینی نوجوانوں کا روزگار خطرے میں پڑ گیا
چین سے تعلق رکھنے والی، کورٹنی ہوانگ 13 برس قبل نرسنگ کی تعلیم کے لیے امریکہ آئی تھیں۔ وہ امریکہ کی چاہت میں گرفتار ہو چکی ہیں اور امریکی شہری بننے کی خواہش مند ہیں۔
لیکن، کرونا وائرس کی وبا پھیلنے کے معاملے پر جب گزشتہ ماہ ٹرمپ انتظامیہ نے غیر ملکی شہریوں اور رہائشیوں کے امریکہ میں داخلے پر بندش عائد کر دی ہے، ہوانگ کے سارے خواب، روزگار، مستقبل اور شہری بننے کی خواہش سب داؤ پر لگ گئے ہیں۔
جوں جوں ان بندشوں میں سختی برتی جا رہی ہے، ہوانگ کا مستقبل خطرے میں پڑتا جا رہا ہے۔
ہوانگ کے بقول، ''میں واقعی خوف زدہ ہوں۔ میرا پیچھے بہت کچھ ہے۔ اگر میں واپس نہ گئی تو یہ میرے لیے بہت ہی دشوار معاملہ ہو گا''۔
امریکہ نے تین فروری سے چین میں ویزوں کے اجرا کا کام معطل کر دیا تھا۔ اس اقدام پر نظر ثانی نہیں کی گئی اور ابھی یہ بات واضح نہیں کی یہ تعطل کب ختم ہو گا۔ اس کے نتیجے میں ان سینکڑوں چینی شہریوں کا مستقبل خطرے میں ہے جو ورک ویزا حاصل کرنے کے خواہش مند تھے، اس پابندی سے ان کا روزگار چھننے والا ہے۔
کیا گرم موسم کرونا وائرس کے خاتمے کا سبب بن سکتا ہے؟
کرونا وائرس کے دُنیا بھر میں پھیلاؤ پر بعض حلقوں میں یہ بحث بھی جاری ہے کہ کیا گرم موسم کرونا وائرس کے خاتمے کا سبب بن سکتا ہے یا نہیں؟
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی ایک بیان میں کہا تھا کہ اپریل میں گرم موسم کے باعث کرونا وائرس کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔ بعض دیگر طبی ماہرین کا بھی یہ خیال تھا کہ گرم موسم سے فلو اور دیگر بیماریوں میں کمی سے لامحالہ کرونا وائرس کیسز بھی کم ہو جائیں گے۔
البتہ جارج واشنگٹن یونیورسٹی کے ایک محقق کرسٹوفر مورس کا کہنا ہے کہ یہ کہنا قبل ازوقت ہے۔ ایسا ہو بھی سکتا ہے اور نہیں بھی۔ اُن کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس بھی فلو اور سانس سے متعلقہ بیماری ہے۔ موسم سرما میں یہ بڑھ جاتی ہیں اور موسم گرما میں اس میں کمی ہوتی ہے۔
لیکن سائنس دانوں کے ایک گروپ کا خیال ہے کہ گرم موسم اس وائرس کے تدارک میں مدد دے سکتا ہے۔ لیکن اس امکان کو بھی رد نہیں کیا جا سکتا کہ آئندہ سردیوں میں یہ وبا دوبارہ حملہ آور نہیں ہو گی۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ سردیوں میں فلو اور سانس کی بیماریاں اس لیے زیادہ لاحق ہوتی ہیں کیوں کہ ہوا میں خشکی کا عنصر گرمیوں کی نسبت زیادہ ہوتا ہے۔
لیکن سائنس دانوں کے ایک گروپ کا کہنا ہے کہ کرونا وائرس کا معاملہ کچھ مختلف ہے۔ یہ وائرس چین کے ٹھنڈے علاقوں کے علاوہ نسبتاً گرم اور مرطوب آب و ہوا والے علاقوں میں بھی پایا گیا۔
ایران: کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 611 ہو گئی
ایران میں کرونا وائرس سے ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد بڑھ کر 611 ہو گئی ہے۔
خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق ایران کے سرکاری ٹی وی نے کہا ہے کہ ملک بھر میں کرونا وائرس سے ہلاک ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد ہفتے کو 611 ہو گئی ہے۔ جمعے کو یہ تعداد 514 تھی۔
وزارتِ صحت کے حکام کے حوالے سے سرکاری ٹی وی کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کرونا وائرس کے 12 ہزار 729 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔