پاکستان میں کرونا وائرس کے 94 مستند کیسز ہیں: ڈاکٹر ظفر مرزا
وزیر اعظم پاکستان کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا ہے کہ پاکستان میں کرونا وائرس کے 94 تصدیق شدہ کیسز ہیں۔
پیر کو اسلام آباد میں نیوز کانفرنس کرتے ہوئے ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا تھا کہ کرونا وائرس دُنیا کے 147 ملکوں تک پھیل چکا ہے۔ ظفر مرزا کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم کی زیر صدارت قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں ہونے والے فیصلوں پر عمل درآمد کیا جا رہا ہے۔
ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا تھا کہ معمولی نزلہ، زکام پر کرونا وائرس ٹیسٹ کرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ مختلف شہروں کی 14 لیبارٹریز میں کرونا وائرس کے ٹیسٹ کیے جا رہے ہیں۔
- By شمیم شاہد
طورخم بارڈر ہر قسم کی آمدورفت کے لیے بند
کرونا وائرس کے پھیلاؤ کے پیش نظر پاکستان اور افغانستان کے درمیان آمدورفت کے لیے بڑی گزرگاہ طورخم سرحد کو بند کر دیا گیا ہے۔
پشاور سے وائس آف امریکہ کے نمائندے شمیم شاہد کے مطابق قبائلی ضلع خیبر کے ڈپٹی کمشنر محمود اسلم وزیر نے جاری کردہ اعلامیے میں طورخم سرحد کو ہر قسم کی آمدوفت کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا۔
طورخم کے راستے پاکستان اور افغانستان کے درمیان سات سے آٹھ ہزار افراد ہر روز سفر کرتے ہیں۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق ہفتے کو 15 ہزار افراد نے طورخم سرحد استعمال کی۔ تاہم اب بھی سیکڑوں لوگ سرحد عبور کرنے کے منتظر ہیں۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ افغانستان اور پاکستان کے درمیاب آمدورفت اور تجارت کے لیے یکم فروری سے ہی اسکریننگ کا آغاز کر دیا گیا تھا۔ حکام کے مطابق 15 مارچ تک لگ بھگ تین لاکھ افراد کی اسکریننگ کی گئی۔
سرحدی گزرگاہ بند ہونے سے اطلاعات کے مطابق پھلوں اور سبزیوں سے لدے ٹرک افغانستان میں پھنسے ہوئے ہیں۔ ٹرانسپورٹرز نے مطالبہ کیا ہے کہ حکومت انہیں جانے کی اجازت دے۔
طورخم کے علاوہ افغانستان کے ساتھ ضلع کرم کے خرلاچی، شمالی وزیر ستان کے غلام خان اور جنوی وزیرستان کے انگور اڈہ کی گزرگاہیں بھی 15 مارچ سے ہر قسم کی آمدورفت اور دوطرفہ تجارت کے لیے بند کر دی گئی ہیں۔
ایران میں ہلاکتوں کی تعداد 853 ہو گئی
ایران میں کرونا وائرس کے باعث پیر کو مزید 129 افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ جس کے بعد ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 853 ہو گئی ہے۔ وائرس سے متاثرہ کیسز کی مجموعی تعداد 15 ہزار تک پہنچ گئی ہے۔
وائرس کے باعث ہلاک ہونے والوں میں ایران کے رہبر اعلٰی کے انتخاب کے لیے قائم مجلس کے رُکن 78 سالہ آیت اللہ ہاشم بھی شامل ہیں۔ ایران کے متعدد اراکین پارلیمنٹ، پاسدران انقلاب کے کمانڈر اور دیگر اہم شخصیات بھی کرونا وائرس کا شکار ہیں۔
ایران کے سرکاری ٹی وی کے مطابق وبا پھوٹنے کے بعد ایک ہی دن میں ہلاک ہونے والے کی یہ سب سے زیادہ تعداد ہے۔ کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے لبنان کی حکومت نے لاک ڈاؤن کا اعلان کر دیا ہے جب کہ عراقی حکومت بھی کرفیوں کے نفاذ پر غور کر رہی ہے۔ عراق میں وزارتِ صحت کے حکام نے کرونا وائرس سے نو ہلاکتوں کی تصدیق کی ہے جب کہ ملک بھر میں کیسز کی مجموعی تعداد 124 تک پہنچ گئی ہے۔
تفتان سے آئے مزید 11 افراد میں کرونا وائرس کی تشخیص
وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے پیر کو کراچی میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ سب سے پہلے چین سے آنے والے 34 افراد کا کرونا وائرس کا ٹیسٹ کیا گیا اور تمام افراد کا ٹیسٹ منفی آیا۔ چین سے کوئی کیس پاکستان منتقل نہیں ہوا۔ اللہ کا شکر ہے اب تک صورتِ حال قابو میں ہے۔
وزیر اعلٰی سندھ کا کہنا تھا کہ آغا خان اسپتال میں تفتان سے آئے 23 افراد کے نمونے بھجوائے گئے تھے، جن میں سے 11 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
وزیر اعلٰی سندھ نے کہا کہ وائرس سے بچنے کا واحد طریقہ یہی ہے کہ لوگ 14 روز تک گھروں میں محدود رہیں۔
انہوں نے خدشہ ظاہر کیا کہ کرونا وائرس مزید پھیلنے کا خدشہ ہے۔ جو لوگ خود علاج کرا سکتے ہیں وہ کرائیں۔ مراد علی شاہ نے خدشہ ظاہر کیا کہ تفتان میں قائم قرنطینہ میں سب کو ایک ساتھ بٹھا دیا گیا۔ کسی ایک شخص کو کرونا وائرس تھا جو باقی افراد کو بھی لگ گیا۔
وزیر اعلٰی سندھ نے کہا کہ سکھر میں اپارٹمنٹس میں قرنطینہ مرکز قائم کیا گیا ہے۔ جہاں 2048 کمرے ہیں، ہر کمرے میں ایک مریض کو رکھا جا رہا ہے۔
سندھ میں کرونا وائرس کے جو کیسز منتقل ہوئے ان میں سے تین افراد وہ ہیں جو ایران سے آئے جب کہ سعودی عرب پانچ، شام سے 11، دبئی سے تین، قطر سے ایک اور بلوچستان سے آنے والے ایک شخص میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی۔