- By ضیاء الرحمن
پنجاب میں مزار اور درگاہیں زائرین کے لیے بند
صوبہ پنجاب میں کرونا وائرس کا پہلا کیس سامنے آنے کے بعد حکومت پنجاب نے حفاظتی انتظامات کے پیش نظر صوبے بھر کے مزارات اور درگاہوں کو بند کر دیا ہے۔
ہفتے کو لاہور میں کرونا وائرس کا پہلا کیس سامنے آنے کے بعد پنجاب حکومت کی جانب سے بھی ہنگامی اقدامات کیے جا رہے ہیں۔
پنجاب کے ضلع پاکپتن میں صوفی بزرگ بابا فرید گنج شکر اور لاہور میں حضرت علی ہجویری المعروف داتا گنج بخش کے مزارات بھی زائرین کے لیے بند کر دیے گئے ہیں۔
وزیراعلیٰ پنجاب سردار عثمان بزدار کی جانب سے جاری پیغام میں کہا گیا ہے کہ پنجاب میں دفعہ 144 کے تحت اجتماعات پر پابندی عائد کر دی گئی ہے۔ لیکن حکومت صوبہ بھر میں مساجد بند نہیں کرے گی۔
اوورسیز پاکستانیوں کی مشکلات
کرونا وائرس کی وجہ سے سعودی عرب جانے والی پروازوں بھی معطل ہیں۔ جس کی وجہ سے بڑی تعداد میں وہ پاکستانی متاثر ہو رہے ہیں جو چھٹیوں پر پاکستان آئے اور اب یہیں پھنس کر رہ گئے ہیں۔
اس کے علاوہ ہزاروں کی تعداد میں نئے ویزے حاصل کرنے والے بھی سعودی عرب جانے سے محروم ہو گئے ہیں۔
سعودی عرب کی پروازوں پر پابندی کی وجہ سے ہزاروں پاکستان سعودی عرب جانے سے محروم ہو گئے ہیں۔ پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان مذہبی سیاحت سب سے زیادہ تھی جو موجودہ صورتِ حال کی وجہ سے شدید متاثر ہوئی ہے۔ اس کے ساتھ سعودی عرب میں لگ بھگ 40 لاکھ پاکستانی سعودی عرب میں مقیم ہیں۔
وزارتِ خزانہ کے مطابق جولائی 2019 سے فروری 2020 تک صرف سعودی عرب سے 15 ارب ڈالر کا زرمبادلہ بھجوایا گیا۔ ایسے میں بہت سے ملازمین کا پاکستان میں رہ جانا یا نئے افراد کا وہاں نہ جانا پاکستان کے زرمبادلہ کے ذخائر کو متاثر کر سکتا ہے۔
معاشی تجزیہ کار خرم شہزاد کہتے ہیں کہ فی الحال پاکستان پر اتنا اثر نہیں پڑے گا تاہم اگر صورت حال زیادہ عرصہ تک ایسی ہی رہی تو مشکلات پیدا ہوسکتی ہیں۔
سعودی حکومت نے اقامہ رکھنے والے افراد کی واپسی کے لیے 72 گھنٹوں کی مہلت دی تھی۔ لیکن بہت سے افراد ایسے ہیں جو ناکافی پروازوں کی وجہ سے سعودی عرب نہیں پہنچ سکے اور اپنے روزگار کے حوالے سے غیر یقنی صورتِ حال کا شکار ہیں۔
اسلام آباد میں پاکستان کی قومی ایئر لائن پی آئی اے کے دفتر کے باہر موجود سفیر عباسی نے کہا کہ ان کو صرف 72 گھنٹے ملے تھے۔ اُنہوں نے کوشش کی کہ ٹکٹ مل جائے لیکن کامیابی نہ مل سکی۔ اب ہمیں اپنی نوکریوں کے لالے پڑ گئے ہیں۔
ایک اور شہری سہیل خان نے کہا کہ ہمارے ویزوں کی میعاد ختم ہو رہی ہے۔ لیکن سعودی عرب پہنچنے کے امکانات بہت کم ہیں۔
اوورسیز ایمپلائمنٹ ریکروٹنگ ایجنٹس ایسویسی ایشن کے اسد حفیظ کیانی کہتے ہیں کہ اگر یہ صورتِ حال زیادہ عرصہ تک رہی تو سعودی عرب میں بھی لوگوں کے بیروزگار ہونے کا خدشہ ہے۔ سعودی عرب سے آنے والی اطلاعات کے مطابق وہاں پر بڑی تعداد میں کمپنیاں اس وقت کام بند کر چکی ہیں اور وہاں موجود پاکستانی بھی گھروں پر بھی ہی موجود ہیں۔
- By سارہ حسن
اسٹاک مارکیٹ میں مندی
کرونا وائرس کے وجہ سے دنیا بھر کی طرح پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ شدید مندی کا شکار ہے۔ پیر کو پاکستان اسٹاک ایکسچنج 2375 پوائنٹس کی کمی کے بعد 33684 پر بند ہوا۔
کاروباری ہفتے کے پہلے ہی دن مارکیٹ کا آغاز منفی رجحان سے ہوا اور مارکیٹ میں شدید مندی کے سبب حصص کا کاروبار 45 منٹ تک معطل رہا۔
گزشتہ ہفتے سے لے کر اب تک چوتھی مرتبہ جب اسٹاک مارکیٹ میں منفی رجحان کے سبب ٹریڈنگ روکی گئی ہے۔
اسٹاک ایکسچنج کے قوانین کے مطابق اگر ایک دن میں اسٹاک مارکیٹ میں چار فی صد سے زیادہ کمی یا اضافہ ہو گا تو ٹریڈنگ 45 منٹ تک روک دی جائے گی۔
اقتصادی ماہرین کا کہنا ہے کہ دنیا بھر کے سرمایہ کار عدم اعتماد کا شکار ہیں اور یہی وجہ کے اسٹاک مارکیٹ سے سرمایہ نکالا جا رہا ہے۔
- By سدرہ ڈار
'احتیاط سے ہی بچاؤ ممکن ہے'
چین سے شروع ہونے والا کرونا وائرس اب پاکستان میں بھی اپنے قدم جما چکا ہے۔ جس کی علامات میں بخار، کھانسی، سانس لینے میں دشواری شامل ہے جو نمونیا کی شکل اختیار کر سکتی ہے۔
یہ علامات وائرس لگنے کے دو سے 14 دن میں ظاہر ہوتی ہیں۔ محکمہ صحت سندھ کے مطابق کئی افراد اس وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں۔ اب تک دو مریضوں کو صحت مند قرار دیے جانے کے بعد گھروں کو روانہ کر دیا گیا ہے۔
محکمہ صحت سندھ کے ترجمان کے مطابق کمشنر کراچی آفس میں قائم کرونا کنٹرول سینٹر 24 گھنٹے رابطہ کی سہولت فراہم کر رہا ہے۔
اس حوالے سے حکومتِ پاکستان آگاہی کے لیے 1166 جاری کر چکی ہے جہاں سے وائرس سے بچاؤ کے لیے مدد لی جا سکتی ہے۔ محکمہ صحت کی جانب شہریوں کے لیے حفاظتی اقدامات کی ایڈوائزری بھی جاری کی گئی ہے۔ جس کے تحت گھروں سے غیر ضروری باہر جانے سے گریز، ہاتھوں کو 20 منٹ تک صابن سے دھونے، سینی ٹائزرز اور ماسک کے استعمال کا مشورہ دیا گیا ہے۔ کسی بھی فرد سے بات چیت کے دوران تین فٹ کا فاصلہ رکھنے، مصافحہ کرنے سے گریز کھانسی، نزلے کی صورت میں ماسک کا استعمال ضروری قرار دیا گیا ہے۔
وہ تمام افراد جو پچھلے 15 دنوں میں کسی بھی بیرون ملک کا سفر کر کے وطن لوٹے ہیں اگر انہیں سانس لینے میں دشواری، بخار، کھانسی کی علامات ہیں تو وہ گھر پر رہتے ہوئے فون پر ڈاکٹر سے رابطہ کریں اور ڈاکٹر کی تجویز پر ٹیسٹ کرائیں۔
اس سلسلے میں حکومت کی جانب سے قائم کردہ لیبارٹریز کا نیٹ ورک مریضوں کو مفت تشخیص فراہم کر رہا ہے۔ کراچی میں آغا خان اسپتال میں بھی کرونا وائرس کی اسکریننگ کی جا رہی ہے جس کی قیمت 1050 روپے مقرر کی گئی ہے۔