رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

20:54 16.3.2020

کیا کرونا وائرس کی وجہ سے پروازیں کم ہوئیں؟

(فائل فوٹو)
(فائل فوٹو)

کرونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر میں سرگرمیاں متاثر ہورہی ہیں اور لوگوں کو ہدایت کی جارہی ہے کہ شدید ضرورت کے سوا سفر نہ کریں۔ فضائی اداروں کو شدید نقصانات کے اندازے لگائے جارہے ہیں۔ لیکن حیرت انگیز طور پر پروازوں کی تعداد میں غیر معمولی کمی دیکھنے میں نہیں آرہی۔

فلائٹ راڈار 24 ایک ایسی ویب سائٹ ہے جو پوری دنیا میں پروازوں کا حساب رکھتی ہے۔ کون سی طیارہ کون سے ائیرپورٹ سے روانہ ہوا، کہاں لینڈ کرے گا، اس وقت فضا میں کہاں موجود ہے، کس کمپنی کا بنا ہوا ہے، کون سی ائیرلائنز کے زیر استعمال ہے، پرواز نمبر کیا ہے، تمام تفصیلات اس ویب سائٹ پر رئیل ٹائم میں موجود ہوتی ہیں۔

اس ویب سائٹ کے مطابق روزانہ پوری دنیا میں ڈیڑھ لاکھ سے زیادہ پروازیں آپریٹ کی جاتی ہیں۔ گزشتہ ایک ماہ میں کسی ایک دن سب سے زیادہ پروازیں 21 فروری کو آپریٹ کی گئیں جن کی تعداد ایک لاکھ 96 ہزار تھی۔ 23 فروری کو ان کی تعداد گھٹ کر ایک لاکھ 66 ہزار رہ گئی۔ یہ کمی بیشی ہفتے کے مختلف دنوں میں چھٹی اور کام کے دنوں کی وجہ سے جاری رہتی ہے۔

10 مارچ کو ایک لاکھ 71 ہزار، 11 مارچ کو ایک لاکھ 81 ہزار، 12 مارچ کو ایک لاکھ 79 ہزار، 13 مارچ کو ایک لاکھ 71 ہزار اور 14 مارچ کو ایک لاکھ 55 ہزار پروازیں ہوا میں تھیں۔

امریکہ سمیت مختلف ملکوں نے بین الاقوامی پروازوں کو روکنے یا ان میں کمی کا اعلان کیا ہے لیکن فی الحال ڈیٹا میں نمایاں تبدیلی نظر نہیں آرہی۔

2019 میں پوری دنیا میں ائیرلائنز کے 4 ارب 54 کروڑ ٹکٹ فروخت ہوئے ہیں۔ 2004 میں یہ تعداد 2 ارب سے کم تھی۔ تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ فضائی سفر پر کرونا وائرس کے اثرات کا درست اندازہ آئندہ چھ ماہ میں لگایا جاسکے گا اور خدشہ ہے کہ اس عالمی بحران کی وجہ سے کئی ائیرلائنز دیوالیہ ہوجائیں گی۔

20:15 16.3.2020

چین کے اندر کم، باہر زیادہ مریض، زیادہ ہلاکتیں

worldometer
worldometer

کرونا وائرس کے چین سے باہر مریضوں اور ہلاکتوں کی تعداد چین کے اندر کیسز اور ہلاکتوں سے زیادہ ہوگئی ہے جبکہ چین میں مریضوں کی تعداد 10 ہزار سے کم رہ گئی ہے۔

ویب سائٹ ورڈومیٹرز کے مطابق اتوار اور پیر کی درمیانی شب تک پوری دنیا میں کرونا وائرس کے مریضوں کی مجموعی تعداد 174604 تھی جن میں سے 6685 ہلاک ہوچکے ہیں۔ مزید چھ ہزار کی حالت تشویش ناک ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ 77867 افراد صحت یاب ہوگئے ہیں۔

ویب سائٹ کے اعدادوشمار سے معلوم ہوتا ہے کہ اب بھی روزانہ پانچ ہزار نئے مریض سامنے آرہے ہیں۔ یورپ میں نئے کیسز کی تعداد بہت زیادہ ہے اور اٹلی کے بعد سپین میں لوگ وائرس سے زیادہ متاثر ہورہے ہیں۔ ایران میں بھی صورتحال قابو میں نہیں آرہی۔

اب تک جن ملکوں میں پانچ ہزار سے زیادہ کیسز ہوچکے ہیں ان میں چین، اٹلی، ایران، اسپین، جنوبی کوریا، جرمنی اور فرانس شامل ہیں۔ امریکہ میں وائرس میں مبتلا افراد کی تعداد 3808 اور پاکستان میں 136 ہے۔ چین کے علاوہ اٹلی، ایران، سپین اور فرانس میں ہلاکتوں کی تعداد 100 سے زیادہ ہے۔ امریکہ میں 70 ہلاکتیں ہوچکی ہیں۔

20:08 16.3.2020

نئی دہلی: مظاہرین کا شاہین باغ میں دھرنا ختم کرنے سے انکار

نئی دہلی کی حکومت نے کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے سیاسی، سماجی اور مذہبی اجتماعات پر پابندی عائد کر دی ہے۔ البتہ شہریت بل کے خلاف شہریت بل کے خلاف شاہین باغ میں سراپا احتجاج مظاہرین نے یہ حکم نامہ ماننے سے انکار کر دیا ہے۔ اس دھرنے میں خواتین کی بڑی تعداد شریک ہے۔

نئی دہلی کی حکومت نے دارالحکومت میں 50 سے زائد افراد کے اجتماع پر پابندی لگا دی ہے۔ البتہ شادی کی تقریبات کو استثنٰی دیا گیا ہے۔

شاہین باغ کے مظاہرین کا کہنا ہے کہ وہ اس حکم کی پابندی نہیں کریں گے اور ضروری احتیاطی تدابیر کے ساتھ اپنا دھرنا جاری رکھیں گے۔

منتظمین میں سے ایک سید تاثیر احمد نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ شاہین باغ کے دھرنے کو سپریم کورٹ دیکھ رہی ہے۔ ہمارا معاملہ عدالت میں ہے۔ 23 مارچ کو تاریخ ہے۔ اگر اس دن سپریم کورٹ نے دھرنا ختم کرنے کا کہا تو وہ عدالتی حکم پر عمل درآمد کریں گے۔

19:47 16.3.2020

خیبر پختونخوا میں 15 کیسز کی تصدیق

خیبر پختونخوا کے وزیر صحت تیمور خان جھگڑا نے تصدیق کی ہے کہ تفتان سے آںے والے 19 میں سے 15 زائرین میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔ صوبائی حکومت نے ان مریضوں کو ڈیرہ اسماعیل خان میں قرنطینہ میں منتقل کر دیا ہے۔

وزیر صحت کا کہنا ہے کہ ان مریضوں کی بہترین دیکھ بھال کی جا رہی ہے۔ خیبر پختونخوا میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تصدیق کے بعد اب پاکستان کے چاروں صوبوں میں کرونا وائرس کے مریض موجود ہیں۔ کرونا وائرس کے سب سے زیادہ مریض پاکستان کے صوبہ سندھ میں رپورٹ ہوئے ہیں۔

وزیر اعظم پاکستان کے معاون خصوصی برائے صحت ڈاکٹر ظفر مرزا کا کہنا ہے کہ پاکستان کے وزیر اعظم کرونا وائرس کے حوالے سے عوام کو اعتماد میں لینے کے لیے قوم سے خطاب کریں گے۔

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG