ایران: کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد 988 ہو گئی، 16 ہزار سے زائد مریض
ایران میں کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد منگل کو 988 ہو گئی ہے جب کہ ملک بھر میں 'کووڈ 19' کے 16 ہزار سے زائد مریض رپورٹ ہو چکے ہیں۔
ایران کے سرکاری خبر رساں ادارے 'اِرنا' کے مطابق ایران میں کرونا وائرس کے 16 ہزار 169 مریض سامنے آ چکے ہیں جن میں سے 5389 افراد صحت یاب ہو گئے ہیں۔
منگل کو ایران میں مزید 135 ہلاکتیں ہوئی ہیں جس کے بعد ہلاکتوں کی مجموعی تعداد 988 ہو گئی ہے۔
ایران میں کرونا وائرس کے پیشِ نظر حفاظتی اقدامات کے تحت اسکول، دکانیں، بازار اور عوامی اجتماعات کے مقامات بند ہیں۔
کرونا وائرس کے پیشِ نظر فرانس میں مکمل لاک ڈاؤن
فرانس نے کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے تقریباً پورے ملک کو لاک ڈاؤن کر دیا ہے اور لاکھوں شہریوں پر مختلف پابندیاں عائد کر دی گئی ہیں۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق فرانس کے صدر ایمانوئیل میکخواں نے 'کووڈ 19' کے خلاف اقدامات کو "جنگ" قرار دیا ہے۔
صدر میکخواں نے منگل کو اپنے بیان میں تمام شہریوں کو 15 روز تک گھروں میں رہنے کی ہدایت کی جب کہ تمام افراد کے غیر ضروری سفر اور سماجی محفلوں پر پابندی لگا دی ہے۔
ملک بھر میں زیادہ تر دکانیں، ریستوران اور سیاحتی و عوامی مقامات بند ہیں جب کہ پابندیوں پر عمل کرانے کے لیے پولیس و دیگر فورسز کے ایک لاکھ سے زائد اہلکاروں کو سڑکوں پر تعینات کیا گیا ہے۔
پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے والوں کو سخت سزا دی جائے گی۔
خیال رہے کہ چین سے شروع ہونے والا کرونا وائرس اب یورپ میں تیزی سے پھیل رہا ہے جس کے باعث یورپی ممالک احتیاطی اقدامات کے تحت پورے ملک کو بند کرنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔
عالمی ادارۂ صحت کے دو ملازمین میں کرونا وائرس کی تصدیق
عالمی ادارۂ صحت (ڈبلیو ایچ او) کے ایک عہدے دار نے منگل کو تصدیق کی ہے کہ ادارے کے دو ملازمین میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق ڈبلیو ایچ او کے ملازمین میں 'کووڈ 19' کے یہ پہلے دو مریض سامنے آئے ہیں جب کہ اس سے قبل اقوامِ متحدہ اور ورلڈ ٹریڈ آرگنائزیشن میں بھی ایک، ایک کیس رپورٹ ہو چکا ہے۔
ڈبلیو ایچ او کے ترجمان کرسچین لِنڈمیئر نے کہا ہے کہ مذکورہ ملازمین جب دفتر سے اپنے گھر گئے تو انہیں کرونا وائرس کی علامات محسوس ہوئیں اور جب ان کے ٹیسٹ کرائے گئے تو 'کووڈ 19' کے مرض کی تصدیق ہوئی ہے۔
ترجمان کا مزید کہنا تھا کہ ڈبلیو ایچ او کے ہیڈ کوارٹر میں لگ بھگ 2400 ملازمین کام کرتے ہیں جن میں سے زیادہ تر اب اپنے گھروں سے ہی کام کر رہے ہیں۔
خیال رہے کہ عالمی ادارۂ صحت دنیا بھر میں بیماریوں کی روک تھام کے لیے کام کرتا ہے اور کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے بھی اپنا کردار ادا کر رہا ہے۔
ملائیشیا میں کرونا وائرس سے پہلی ہلاکت
ملائیشیا میں منگل کو کرونا وائرس سے پہلی ہلاکت ہوئی ہیں جب کہ ملک بھر میں کووڈ 19 کے مریضوں کی تعداد 673 ہو گئی ہے۔
ملائیشین حکام کے مطابق ہلاک ہونے والے شخص کی عمر 60 برس تھی جو ریاست سراوک میں کرونا وائرس کا پہلا شکار بنا ہے۔
ملائیشیا میں کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے سخت پابندیاں عائد کی گئی ہیں۔ اسکول، دکانیں اور عوامی مقامات بند ہیں جب کہ شہریوں کو غیر ضروری سفر سے گریز کی ہدایات کی گئی ہیں۔ ملک بھر میں کرونا وائرس کے مریضوں کی مجموعی تعداد 673 ہو چکی ہے۔