وائٹ ہاؤس کانگریس سے 850 ارب ڈالر ہنگامی پیکج کی منظوری کا خواہاں
کرونا وائرس کی وجہ سے کاروبار اور ٹیکس دہندگان کو پہنچنے والے مالی نقصان کے ازالے کیلئے، وائٹ ہاؤس نے منگل کے روز کانگریس سے کہا ہے کہ 850 ارب ڈالر کے ہنگامی مالی معاونت کے پیکج کی منظوری دے۔
سن 2008 کی کساد بازاری کے بعد، یہ سب سے دور رس نتائج کا حامل امدادی پیکج ہے۔
امریکہ کے وزیر خزانہ، سٹیو منوچن سینیٹ میں موجود ری پبلکن ارکان کے سامنے اس پیکج کا خاکہ رکھنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ عہدیداروں کو توقع ہے کہ کانگریس رواں ہفتے اس پیکج کی منظوری دے گی۔
سینیٹ میں اکثریت رکھنے والی ریپبلکن جماعت کے قائد، سینیٹر مچ میکونل نے منگل کے روز سینیٹ کے اجلاس کی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے اس پیکج پر فوری اقدام کا وعدہ کیا۔
سن 2008 کے بینک بیل آؤٹ پیکج یا سن 2009 کے ریکوری ایکٹ کی نسبت یہ پیکج کہیں بڑا ہے۔ اس پیکج میں سے وائٹ ہاؤس اجرتوں پر کام کرنے والوں کیلئے ٹیکس ادائیگی میں بڑی کٹوتیاں دیگا اور پچاس ارب ڈالر، ایئر لائین کمپنیوں اور چھوٹے کاروباروں کی مدد کیلئے مختص کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔
وائٹ ہاؤس کو امید ہے کہ یہ اقدام جلد ہی منظور ہو جائے گا، ممکنہ طور پر اسی ہفتے۔
یہ ایک بڑی سیاسی ذمہ داری ہے جو کہ انتظامیہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی وجہ سے پہنچنے والے نقصان کو قابو میں رکھنے کیلئے اٹھا رہی ہے، کیونکہ امریکی طرزِ زندگی میں زبردست خلل پیدا ہوا ہے۔
وائٹ ہاؤس نے پیر کے روز کیپیٹل ہل پر سینیٹروں کو ابتدائی بریفنگ دی اور اس امید کا اظہار کیا کہ کانگریس جلد از جلد اس پیکج کی منظوری دے گی۔
وائٹ ہاؤس کے اقتصادی مشیر لیری کُڈلو نے کہا ہے کہ اس وقت فوری توجہ دینے اور تیزی سے کام نمٹانے کی ضرورت ہے۔
کرونا وائرس: عالمی معیشت کو دو اعشاریہ سات کھرب ڈالر کا نقصان ہوگا؟
کرونا وائرس کی وبا عالمی معیشت کو کتنا نقصان پہنچائے گی اس بارے میں متعلقہ عالمی اداروں کے اعداد و شمار میں کافی فرق نظر آتا ہے۔
بلوم برگ کا تخمینہ ہے کہ اس وبا کے ختم ہونے تک دنیا کو معاشی طور پر دو اعشاریہ سات کھرب امریکی ڈالر کے مساوی نقصان ہو چکا ہوگا، جبکہ ایشین ڈیولپمنٹ بنک کے مطابق معاشی نقصان کی سطح کہیں کم ہوگی۔
معاشیات کے ایک ماہر اور جاگو یونیورسٹی میں مارکٹنگ کے پروفیسر ڈاکٹر ظفر بخاری نے وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ صرف تین ملکوں یعنی امریکہ، چین اور بھارت کی مجموعی معیشت کا ہجم چون کھرب ڈالر سے زیادہ ہے جبکہ باقی دنیا کو بھی اگر اس میں شامل کر لیا جائے، تو اس کا ہجم بہت زیادہ بڑھ جاتا ہے۔
انکا کہنا تھا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ کرونا وائرس کی قیمت عالمی معیشت میں تین سے پانچ فیصد کمی کی صورت میں ادا کرنی پڑے گی۔
انہوں نے بتایا کہ امکان یہ ہے کہ ایسی صورت حال میں سب سے زیادہ نقصان افریقی ممالک کو اٹھانا پڑے گا، کیونکہ چین کی صنعت کا خام مال زیادہ تر وہیں سے آتا ہے اور اسوقت چینی صنعت دشواریوں کا شکار ہے۔
ڈاکٹر ظفر بخاری کا مزید کہنا تھا کہ ماہرین کا خیال ہے کہ اس سال اگست تک کرونا وائرس کے مسئلے پر قابو پا لیا جائے گا، جسکے بعد ساری دنیا میں معاشی سرگرمیاں پھر سے شروع ہو سکیں گی۔
خیال رہے کرونا وائرس چین سے شروع ہوا تھا جو دنیا کی ایک بہت بڑی معیشت ہے اور وہاں اس وبا کے پھیلاؤ کو روکنے کے لئے لاک ڈاؤن کے بعد جن جن ملکوں میں یہ وائرس جاتا رہا وہاں لاک ڈاؤن کی صورت حال بنتی گئی۔
اسوقت صورت حال یہ ہے کہ ایئرلائنوں کی پروازیں معطل ہیں لوگوں کی آمد و رفت بند ہے، سیاحت نہ ہونے کے برابر ہے اور تقریباً ہر ملک میں جہاں یہ وائرس پہنچا ہے اسے محدود کرنے کے لئے کاروباری سرگرمیاں معطل کر دی گئی ہیں۔
اٹلی کے اخبار میں 10 صفحات کے تعزیت نامے
کرونا وائرس سے متاثر اٹلی میں روزانہ سیکڑوں افراد ہلاک ہورہے ہیں۔ لاک ڈاؤن کی وجہ سے ہر قسم کی سرگرمیاں معطل ہیں اور اخبارات کے پاس شائع کرنے کے لیے زیادہ مواد نہیں۔ ان حالات میں اٹلی کے ایک اخبار میں 10 صفحات کے تعزیت نامے شائع ہوئے ہیں۔
اٹلی کا شمالی علاقہ لومبارڈو وائرس سے شدید متاثر ہوا ہے۔ اس کے اخبار لیکو ڈی برگامو میں چند کالم یا ایک آدھ صفحات پر تعزیت نامے شائع ہوتے تھے۔ لیکن جیسے جیسے وائرس پھیلتا گیا، تعزیت ناموں کی تعداد زیادہ ہوتی گئی۔ 13 مارچ کی اشاعت میں پورے 10 صفحات ہلاک ہونے والوں کی یاد میں شائع کیے گئے۔
اٹلی میں اتوار کو 368 اور پیر کو 349 افراد ہلاک ہوئے جس کے بعد مرنے والوں کی تعداد 2100 سے زیادہ ہوگئی جبکہ وائرس کے مصدقہ کیسز کی تعداد 28 ہزار ہے۔
مونزا اسپتال کے ڈاکٹر روبرٹو رونا نے صورتحال کے بارے میں کہا کہ ہمیں بیماری کی لہر نہیں، سونامی کا سامنا ہے۔
- By علی فرقان
کیا تفتان قرنطینہ کے ناکافی انتظامات سے کرونا وائرس پھیلا؟
پاکستان میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد چند ہی روز میں کئی گنا بڑھ گئی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ ان مریضوں میں اکثریت اُن کی ہے جو ایران سے پاکستان پہنچے تھے۔ انہیں سرحدی علاقے تافتان میں قرنطینہ میں رکھا گیا تھا۔
ایران سے آنے والے زائرین کو تفتان کے قرنطینہ میں 14 روز تک رکھا گیا، جس کے بعد انہیں اپنے اپنے صوبوں میں منتقل کیا گیا۔
پاکستان کے صوبہ سندھ کے وزیر اعلٰی مراد علی شاہ نے تافتان قرنطینہ میں ناقص انتظامات کا بیان دیا تھا۔ جس کے بعد وفاقی حکومت اور پاکستان کے مختلف صوبوں کے درمیان انتظامات کے معاملے پر لفظی نوک جھونک جاری ہے۔
ناقدین کا یہ الزام ہے کہ تفتان قرنطینہ میں عالمی معیار کے مطابق انتظامات نہیں تھے۔ مریضوں کو ایک دوسرے کے بہت قریب رکھا گیا۔ حالاں کہ ایسی صورتِ حال میں مریضوں کو الگ تھلگ رکھا جاتا ہے۔