کرونا وائرس کا پھیلاؤ: امریکہ اور چین کی ایک دوسرے پر تنقید
کرونا وائرس سے متعلق چین اور امریکہ کے درمیان پیدا ہونے والا سفارتی تنازع کھل کر سامنے آگیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے چین کے اُس مبینہ دعوے پر تنقید کی ہے جس میں کہا گیا تھا کہ امریکی فوج میں کرونا وائرس چین نے پھیلایا ہے۔
چین نے بھی امریکہ کے صدر کی طرف سے کرونا وائرس کو 'چینی وائرس' قرار دینے پر صدر ٹرمپ کا نام لیے بغیرت تنقید کی ہے۔
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دو روز قبل کرونا وائرس کو 'چینی وائرس' قرار دیا تھا جب کہ امریکہ کے وزیرِ خارجہ مائیک پومپیو متعدد بار اسے 'ووہان وائرس' قرار دیے چکے ہیں۔
یاد رہے کہ دنیا کے 100 سے زائد کرونا وائرس کی لپیٹ میں ہے اور یہ وائرس سب سے پہلے چین کی شہر ووہان میں سامنے آیا تھا۔
- By شمیم شاہد
خیبر پختونخوا میں کرونا وائرس کے مزید تین مریض رپورٹ، دکانیں بند کرنے کا فیصلہ
خیبر پختونخوا میں کرونا وائرس کے مزید تین مریض سامنے آئے ہیں جس کے بعد صوبے بھر میں کووڈ 19 کے مریضوں کی کُل تعداد 19 ہو گئی ہے۔
خیبر پختونخوا کے وزیرِ صحت تیمور خان جھگڑا نے مزید تین مریض سامنے آنے کی تصدیق کی ہے۔ انہوں نے اپنے ٹوئٹ میں کہا ہے کہ بونیر، ہنگو اور مردان میں ایک ایک مریض رپورٹ ہوا ہے۔
وزیر صحت کے بقول تنیوں متاثرہ افراد حال ہی میں برطانیہ، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات سے وطن واپس پہنچے ہیں۔
ادھر خیبر پختونخوا کے وزیر اعلیٰ محمود خان نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کے پیش نظر ایک اعلیٰ سطح کے اجلاس میں اہم فیصلے کیے گئے ہیں اور تمام اسپتالوں میں مشتبہ افراد کی اسکریننگ اور طبی معائنے کے لیے اقدامات کرنے کی ہدایات دی گئی ہیں۔
اجلاس میں شادی ہالوں اور ہوٹلوں کے بعد اب گھروں میں بھی شادی اور دیگر تقریبات پر پابندی، حجاموں کی دکانیں بند اور تمام تجارتی مراکز کو بھی شام سات بجے بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
خیبر پختونخوا کے وزیرِ اعلیٰ محمود خان نے کہا کہ کرفیو نہیں لگا رہے، اشیائے خور و نوش کی دکانیں 24 گھنٹے کھلی رہیں گی۔ لیکن دیگر دکانیں شام 7 بجے تک کھولی جائیں گی۔
اجلاس میں صوبائی وزیر صحت اور وزیر اعلیٰ کے مشیر برائے اطلاعات کے علاوہ تمام وزرا اور مشیروں کے دفاتر بند کرنے کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے جب کہ سول سیکریٹریٹ اور دیگر سرکاری دفاتر روزانہ چار بجے تک کھلے رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
صوبائی حکومت نے پشاور کے سول سیکریٹریٹ اور دیگر سرکاری دفاتر میں عام لوگوں بالخصوص غیر ضروری افراد کے داخلے پر پابندی عائد کر دی ہے۔
ایک سوال کے جواب میں وزیر اعلیٰ نے کہا کہ اگلے مرحلے میں عام ٹرانسپورٹ بند کرنے اور نجی شعبے کے اسپتالوں اور کلینکوں کے بارے میں بھی فیصلہ کیا جائے گا۔
امریکہ: شہریت اور امیگریشن کے ادارے نے عوام کے لیے دفاتر بند کر دیے
امریکہ میں شہریت اور امیگریشن کے متعلقہ ادارے نے کرونا وائرس کے پیشِ نظر اپنے دفاتر عوام کے لیے بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
ادارے نے کہا ہے کہ دفاتر میں لوگوں کے داخلے پر پابندی کا اطلاق بدھ سے ہی ہوگا جو یکم اپریل تک جاری رہے گا۔ تاہم اس دوران ادارہ ایمرجنسی سروسز کو محدود پیمانے پر ڈیل کرے گا۔
ادارے کی جانب سے امریکی شہریت کے حصول کے ان خواہش مندوں کو نوٹسز بھی جاری کر دیے گئے ہیں جنہیں انٹرویو کے لیے بلایا گیا تھا۔ ان افرادکے انٹرویوز کو ری شیڈول کر دیا گیا ہے۔
اسرائیل میں کرونا وائرس کے کیسز میں 40 فی صد اضافہ، فلسطین میں 44 مریض
اسرائیل کی وزارتِ صحت نے کہا ہے کہ ملک بھر میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس کے کیسز میں 40 فی صد اضافہ ہوا ہے جس سے مجموعی مریضوں کی تعداد 427 ہو گئی ہے۔
وازرتِ صحت کے مطابق اسرائیل میں منگل کو کرونا وائرس کے مجموعی کیسز کی تعداد 304 تھی جو بدھ کو بڑھ کر 427 ہو گئی ہے۔ حکام نے شہریوں کو گھروں میں رہنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔
کرونا وائرس سے اسرائیل اور فلسطین میں اب تک کوئی ہلاکت رپورٹ نہیں ہوئی ہے۔ البتہ فلسطینی حکام کے مطابق مغربی کنارے کی فلسطینی بستیوں میں کرونا وائرس کے 44 کیسز کی تصدیق ہوئی ہے۔