کرونا وائرس کے خدشات اور ہینڈ سینیٹائزر کی تلاش
کرونا وائرس کے پیشِ نظر دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی راشن کی خریداری کا سلسلہ جاری ہے۔ شہریوں نے کسی بھی ممکنہ لاک ڈاؤن کے پیشِ نظر احتیاطی اقدامات کے تحت گھروں میں راشن ذخیرہ کرنا شروع کر دیا ہے۔
شہر کے بڑے مارٹ ہوں یا گلی محلوں کی عام دکانیں، اس وقت ہر جگہ خریداروں کا رش دکھائی دے رہا ہے۔
گھر میں ضرورت کی تمام چیزیں موجود ہوں اور راشن کی کمی نہ ہو، اس سوچ نے مجھے بھی بازار کا رخ کرنے پر مجبور کیا۔ اشیائے خور و نوش کے علاوہ مجھے سب سے زیادہ ضرورت ہینڈ سینیٹائزر کی تھی۔ لیکن تین بڑے سپر اسٹورز اور دو میڈیکل اسٹورز پر سینیٹائزر نہ ملا تو مجھے ایک اور مارٹ کا رخ کرنا پڑا۔
مارٹ میں داخل ہوتے ہی میں نے وہاں پہلی بار ضرورت سے زیادہ رش محسوس کیا۔ رش اس قدر زیادہ تھا کہ کرونا وائرس سے بچنے کی احتیاطی تدبیر یعنی لوگوں سے تین فٹ کا فاصلہ برقرار رکھنا تو ناممکن دکھائی دے رہا تھا۔
لوگ اپنی ٹرالیوں میں سامان بھر رہے تھے اور کوئی قیمت پر بھی بحث نہیں کر رہا تھا۔ یوں لگتا تھا کہ جیسے جنگ کی سی کوئی صورتِ حال ہو۔
وزیر اعظم عمران خان کی قرنطینہ مرکز آمد
پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے بدھ کو ڈیرہ غازی خان میں قائم قرنطینہ مرکز کا دورہ کیا۔ اور زائرین سے خیریت دریافت کی۔ ڈیرہ غازی خان قرنطینہ میں ایران سے آئے زائرین کو رکھا گیا ہے۔
وزیر اعظم عمران خان نے حکام سے کہا کہ قرنطینہ میں بہترین سہولیات فراہم کی جائیں۔
عمران خان کو ڈیرہ غازی خان میں قائم سینٹرل کمانڈ روم میں زائرین کی آمد، اسکریننگ، رئائش اور کھانے کی سہولیات پر بریفنگ دی گئی۔
کرونا وائرس سے آٹھ ہزار ہلاکتیں، مریضوں کی تعداد دو لاکھ سے تجاوز
دنیا بھر میں کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد آٹھ ہزار سے تجاوز کر گئی ہے جب کہ دو لاکھ سے زائد مریض رپورٹ ہو چکے ہیں۔
امریکہ کی جان ہوپکنز یونیورسٹی کے جاری اعداد و شمار کے مطابق بدھ کو دنیا بھر میں کرونا وائرس کے مریضوں کی مجموعی تعداد دو لاکھ ایک ہزار سے تجاوز کر گئی ہے جن میں سے 82 ہزار سے زائد مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔
کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد بھی بڑھ کر 8007 ہو گئی ہے۔ چین کے بعد سب سے زیادہ ہلاکتیں اٹلی میں ریکارڈ کی گئی ہیں۔
کرونا وائرس سے چین میں 3122 افراد ہلاک ہوئے ہیں جب کہ اٹلی میں ہونے والی ہلاکتوں کی تعداد 2503 ہو گئی ہے۔
کرونا وائرس: پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ میں تیسرے روز بھی شدید مندی
کرونا وائرس کے پیش نظر پاکستان کی اسٹاک مارکیٹ میں کاروباری ہفتے کے تیسرے روز بھی مندی کا رحجان برقرار رہا اور 100 انڈیکس 2200 پوائنٹس کی بڑی کمی کے ساتھ 30 ہزار 416 پر بند ہوا۔ اسٹاک مارکیٹ میں آج 6 اعشاریہ 7 فی صد کمی ریکارڈ کی گئی۔
ادھر تاجروں اور معاشی امور کے ماہرین کا کہنا ہے کہ کاروبار کے لیے اس وقت مشکل صورتِ حال کی کیفیت ہے۔ ایسے میں حکومت کی جانب سے شرح سود میں کمی بھی ناکافی ہے۔
یاد رہے کہ اسٹیٹ بینک نے گزشتہ روز نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کرتے ہوئے اعشاریہ 75 فی صد شرح سود کم کی تھی۔ اب آئندہ دو ماہ کے لیے سود کی شرح 12 اعشاریہ 50 فی صد مقرر کی گئی ہے۔
معاشی امور کے ماہر ولید احمد نے کہا ہے کہ توقع یہ کی جا رہی تھی کہ حکومت شرح سود میں کم از کم 2 فی صد کمی کرے گی لیکن ایسا نہیں کیا گیا۔
انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ حکومت نے یہ اقدام آئی ایم ایف سے کیے گئے معاہدے کی روشنی میں کیا ہے۔ لیکن اگر شرح سود میں کمی کی جاتی تو اس سے ملکی معیشت کی سست روی کم کرنے میں مدد مل سکتی تھی۔