کرونا وائرس: کراچی میں بازار اور شاپنگ مالز بند
کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے سندھ حکومت کی ہدایت پر بدھ کو کراچی میں بیشتر شاپنگ مالز اور بازار جزوی طور پر بند رہے۔ کراچی کے مرکزی کاروباری علاقے صدر سے صورتِ حال بتا رہے ہیں ہمارے نمائندے محمد ثاقب۔
دنیا بھر میں کرونا وائرس کے مریضوں کی مجموعی تعداد دو لاکھ ایک ہزار سے تجاوز کر گئی ہے جن میں سے 82 ہزار سے زائد مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔ کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد بھی بڑھ کر 8007 ہو گئی ہے۔
بلوچستان میں کرونا وائرس کے 16 مریض، نئے قرنطینہ مراکز بنانے کی تیاریاں
بلوچستان میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 16 ہو گئی ہے۔ بدھ کو پاکستان اور ایران کی سرحد کے قریب تفتان کے قرنطینہ میں موجود سندھ سے تعلق رکھنے والے 750 زائرین کو صوبے میں بھیج دیا گیا ہے۔
پاکستان میں قدرتی آفات سے نمٹنے کے ادارے کے ایک ترجمان نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ ایران سے پاکستان آنے والے 2200 سے زائد زائرین کو تفتان کے قریب چار مقامات پر قرنطینہ میں رکھا گیا ہے۔ اس کے علاوہ کوئٹہ کے جنوبی علاقے میاں غونڈی میں قائم قرنطینہ مرکز میں بھی 600 زائرین کو رکھا گیا ہے۔
ترجمان نے بتایا کہ صوبۂ خیبر پختونخوا اور پنجاب سے تعلق رکھنے والے ایک ہزار سے زائد زائرین کو ان کے علاقوں میں آج روانہ کر دیا جائے گا۔
ترجمان کا کہنا تھا کہ کوئٹہ کے دو نواحی علاقوں میں نئے قرنطینہ مراکز قائم کیے جا رہے ہیں۔ دونوں مراکز میں تفتان سے لائے جانے والے زائرین کو رکھا جائے گا۔ ان سینٹرز میں کرونا وائرس کی تشخیص کے لیے موبائل لیبارٹریز بھی ہوں گی۔
کرونا وائرس: مشرقِ وسطیٰ میں بھی جزوی لاک ڈاؤن
کرونا وائرس کے باعث مشرقِ وسطیٰ کے ملکوں میں بھی جزوی لاک ڈاؤن ہے۔ شہری گھروں تک محصور ہیں۔ ریستوران، کاروباری مراکز اور مقدس مقامات پر لوگوں کے جمع ہونے پر پابندی عائد ہے۔
ایران کے صدر حسن روحانی نے کرونا وائرس کے پھیلاؤ اور حکومتی ردعمل میں تاخیر کے تاثر کو رد کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت نے وائرس سے نمٹنے کے لیے بروقت اقدامات کیے۔
خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' کے مطابق ایران کے صدر نے بدھ کو کابینہ کے اجلاس کے بعد خطاب میں کہا کہ کرونا وائرس کے معاملے پر ہم نے خلوص نیت سے کام کیا۔
اُنہوں نے کہا کہ 19 فروری کو وائرس کا پتا چلتے ہی قوم کو اس سے متعلق آگاہ کر دیا گیا۔ لہذٰا حکومتی ردعمل میں کوتاہی کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔
ایران کے مختلف حلقوں میں یہ بحث جاری ہے کہ کرونا وائرس کے خلاف حکومت کی نااہلی اور بروقت اقدامات نہ کرنے سے وائرس تیزی سے پھیلا۔ ناقدین کا یہ بھی الزام ہے کہ حکومت کے اعلٰی عہدے داروں نے ابتداً اس معاملے کو سنجیدگی سے نہیں لیا تھا۔
ایران کی حکومت نے کئی ہفتے پہلے ہی مقدس مقامات کو ہجوم کے لیے بند کرنے پر زور دیا تھا۔ البتہ اس ضمن میں سختی نہیں برتی گئی تھی۔ تاہم ایران میں وائرس کے پھیلاؤ کے باعث رواں ہفتے ایران میں موجود مقدس مقامات کو زائرین کے لیے بند کر دیا گیا۔