پاکستان میں کرونا وائرس کے 2 مریضوں کا انتقال
پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں دو گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس کے دو مریضوں کا انتقال ہوگیا ہے۔
خیبر پختونخوا کے وزیر صحت تیمور جھگڑا نے پہلے آگاہ کیا تھا کہ مردان میں وائرس کا ایک مریض چل بسا ہے۔ اس کی عمر 50 سال تھی اور مردان میڈیکل کمپلیکس میں علاج کیا جارہا تھا۔
کچھ دیر بعد انھوں نے ایک اور ٹوئٹ کیا جس میں بتایا کہ پشاور کے لیڈی ریڈنگ اسپتال میں زیر علاج ایک اور مریض کا انتقال ہوگیا ہے۔ اس کی عمر 36 سال تھی اور تعلق ہنگو سے تھا۔
بدھ ہی کو گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق نے کہا تھا کہ ضلع دیامر سے تعلق رکھنے والا کرونا وائرس کا ایک مریض انتقال کرگیا ہے۔ لیکن بعد میں وزیراعظم کے معاون خصوصی ظفر مرزا نے ایک ٹوئیٹ میں اس کی تردید کردی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ انتقال کرنے والے شخص کا کرونا وائرس کا ٹیسٹ منفی آیا تھا۔
اب تک پاکستان میں کرونا وائرس کے 301 کیسز کی تصدیق ہوچکی ہے۔ سندھ میں 208، پنجاب میں 33، بلوچستان میں 23، خیبرپختونخوا میں 19، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں 16 اور اسلام آباد میں 2 مریض سامنے آچکے ہیں۔
پاکستان میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی ایک بڑی وجہ ایران سے آںے والے زائرین کو قرار دیا جارہا ہے۔ ان کی بڑی تعداد کو تفتان سرحد پر قرنطینہ میں رکھا گیا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بہتر انتظام نہ ہونے کی وجہ سے وائرس کی روک تھام کے بجائے اس میں مزید لوگ مبتلا ہوگئے۔
تفتان سے سکھر منتقل کیے گئے متعدد زائرین کے جب دوبارہ ٹیسٹ ہوئے تو وہ وائرس میں مبتلا پائے گئے۔ بدھ کو بھی سکھر میں مزید 8 افراد میں کرونا وائرس کے ٹیسٹ مثبت آئے۔
ووہان میں پھنسے پاکستانی طلبہ وطن واپسی کے لیے بے تاب
چین میں کرونا وائرس کے کیسز کی تعداد بتدریج کم ہو رہی ہے جب کہ پاکستان میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ليکن چين کے شہر ووہان ميں گزشتہ کئی ہفتوں سے محصور پاکستانی طلبہ وہاں وائرس کا زور کم ہو جانے کے باوجود وطن واپس آنے کے لیے بے تاب ہیں۔
لاہور کے اسپتالوں میں کرونا آئسولیشن وارڈز قائم
پاکستان کے صوبے پنجاب میں کرونا سے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں اضافے کے بعد صوبے کے بڑے سرکاری اسپتالوں میں وائرس سے متاثرہ مریضوں کے لیے خصوصی وارڈز قائم کردیے گئے ہیں۔
پنجاب میں بھی ریستوران اور دکانیں 10 بجے بند کرنے کا فیصلہ
پاکستان کے صوبے پنجاب کی حکومت نے کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے بڑے شاپنگ مالز، ریستوران اور دکانیں 10 بجے تک بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
بدھ کو پنجاب اپیکس کمیٹی کے اجلاس کے بعد کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے ہنگامی اقدامات کی منظوری دی گئی۔
پنجاب کے وزیر اعلٰی عثمان بزدار کا کہنا ہے کہ شہریوں کی نقل و حمل محدود کرنے کے لیے مزید اقدامات پر بھی غور جاری ہے۔ حکومتِ پنجاب نے سیاحتی مقام مری میں بھی سیاحوں کی آمد پر پابندی لگا دی گئی ہے۔
اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ ضروری سرکاری ملازمین کو ہی دفاتر میں بلایا جائے گا۔