نوجوان رضاکار معمر افراد کو دہلیز پر خوراک و ادویات فراہم کرنے لگے
کینیڈا میں قائم پاکستانی کینیڈین شہریوں کی ایک تنظیم Stronger Together نے واٹس ایپ اور سوشل میڈیا کے ذریعے صوبے انٹاریو کے مختلف علاقوں کے لیے نوجوانوں اور طالبعلم رضاکاروں پر مشتمل گروپ تشکیل دیے ہیں جو معمر، بیمار یا ضرورتمندوں کو خوراک، ادویات اور ان کی ضرورت کی اشیا ان کے گھروں تک پہنچا رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ انہیں علاج اور کرونا وائرس کے ٹسٹوں کے لیے ہسپتالوں اور کلینکس تک لانے لےجانے کی سہولت فراہم کرنے کے لیے اپنی گاڑیاں بھی استعمال کر رہے ہیں۔
ان گروپس کے آرگنائزر اور 'اسٹرانگر ٹوگیدر' کے صدر، محبوب علی شیخ نے وائس آف امریکہ کو واٹس ایپ پر ایک آڈیو انٹرویو میں بتایا کہ اس مقصد کے لیے انہوں نے ٹورانٹو کے مختلف علاقوں کے لیے بنائے گئے رضاکاروں کے گروپس کے فون نمبر، واٹس ایپ اور سوشل میڈیا پر فراہم کر دئے ہیں جن پر لوگ فون کر کے، خوراک، ادویات یا اپنی ضرورت کی دوسری اشیا اپنے گھروں تک پہنچانے کی درخواست کرتے ہیں۔ اور یہ رضاکار گراسری یا دوسرے اسٹورز سے ان کی مطلوبہ چیزیں خرید کر ان کے گھروں کے دروازوں پر رکھ کر انہیں فون پر اطلاع دیتے ہیں کہ چیز ان کی دہلیز پر رکھ دی گئی ہے، جہاں سے وہ انہیں اٹھا لیتے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ وہ غریب لوگوں کو یہ اشیا مفت فراہم کرتے ہیں اور جو لوگ ان اشیا کو خریدنے کی استطاعت رکھتے ہیں ان سے وہ قیمت وصول کر لیتے ہیں۔
محبوب علی شیخ نے جو ورلڈ نیوز آبزرور ٹورانٹو کے بیورو چیف اور کینیڈین پاکستانی لائنز کلب کے صدر اور انٹرنیشنل ویلفئیر ٹرسٹ، کینیڈا چیپٹر کے خیر سگالی سفیر بھی ہیں، بتایا کہ واٹس ایپ پر ان گروپس کی تشکیل کو ابھی صرف ایک ہفتہ ہوا ہے اور اب تک وہ عام شہریوں اور معمر افراد کی سینکڑوں ٹیلی فون کالز وصول کر چکے ہیں اور ان کالز کی تعداد میں دن بدن اضافہ ہو رہا ہے۔
پاکستان میں کرونا وائرس کے 2 مریضوں کا انتقال
پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں دو گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس کے دو مریضوں کا انتقال ہوگیا ہے۔
خیبر پختونخوا کے وزیر صحت تیمور جھگڑا نے پہلے آگاہ کیا تھا کہ مردان میں وائرس کا ایک مریض چل بسا ہے۔ اس کی عمر 50 سال تھی اور مردان میڈیکل کمپلیکس میں علاج کیا جارہا تھا۔
کچھ دیر بعد انھوں نے ایک اور ٹوئٹ کیا جس میں بتایا کہ پشاور کے لیڈی ریڈنگ اسپتال میں زیر علاج ایک اور مریض کا انتقال ہوگیا ہے۔ اس کی عمر 36 سال تھی اور تعلق ہنگو سے تھا۔
بدھ ہی کو گلگت بلتستان حکومت کے ترجمان فیض اللہ فراق نے کہا تھا کہ ضلع دیامر سے تعلق رکھنے والا کرونا وائرس کا ایک مریض انتقال کرگیا ہے۔ لیکن بعد میں وزیراعظم کے معاون خصوصی ظفر مرزا نے ایک ٹوئیٹ میں اس کی تردید کردی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ انتقال کرنے والے شخص کا کرونا وائرس کا ٹیسٹ منفی آیا تھا۔
اب تک پاکستان میں کرونا وائرس کے 301 کیسز کی تصدیق ہوچکی ہے۔ سندھ میں 208، پنجاب میں 33، بلوچستان میں 23، خیبرپختونخوا میں 19، آزاد کشمیر اور گلگت بلتستان میں 16 اور اسلام آباد میں 2 مریض سامنے آچکے ہیں۔
پاکستان میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ کی ایک بڑی وجہ ایران سے آںے والے زائرین کو قرار دیا جارہا ہے۔ ان کی بڑی تعداد کو تفتان سرحد پر قرنطینہ میں رکھا گیا تھا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ بہتر انتظام نہ ہونے کی وجہ سے وائرس کی روک تھام کے بجائے اس میں مزید لوگ مبتلا ہوگئے۔
تفتان سے سکھر منتقل کیے گئے متعدد زائرین کے جب دوبارہ ٹیسٹ ہوئے تو وہ وائرس میں مبتلا پائے گئے۔ بدھ کو بھی سکھر میں مزید 8 افراد میں کرونا وائرس کے ٹیسٹ مثبت آئے۔
ووہان میں پھنسے پاکستانی طلبہ وطن واپسی کے لیے بے تاب
چین میں کرونا وائرس کے کیسز کی تعداد بتدریج کم ہو رہی ہے جب کہ پاکستان میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ ليکن چين کے شہر ووہان ميں گزشتہ کئی ہفتوں سے محصور پاکستانی طلبہ وہاں وائرس کا زور کم ہو جانے کے باوجود وطن واپس آنے کے لیے بے تاب ہیں۔
لاہور کے اسپتالوں میں کرونا آئسولیشن وارڈز قائم
پاکستان کے صوبے پنجاب میں کرونا سے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں اضافے کے بعد صوبے کے بڑے سرکاری اسپتالوں میں وائرس سے متاثرہ مریضوں کے لیے خصوصی وارڈز قائم کردیے گئے ہیں۔