پنجاب میں تفریحی مقامات بند، نیا ہدایت نامہ جاری
پاکستان کے صوبہ پنجاب کی حکومت نے کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے اہم اقدامات کا اعلان کیا ہے جن میں سیاحتی مقامات کو فوری بند کرتے ہوئے سرکاری دفاتر میں صرف ضروری ملازمین کی حاضری یقینی بنانا نمایاں ہیں۔
لاہور سے وائرس آف امریکہ کے نمائندے ضیا الرحمٰن کے مطابق حکومتِ پنجاب نے اعلان کیا ہے کہ مری سمیت دیگر سیاحتی مقامات پر عوام کا داخلہ ممنوع ہو گا۔ پبلک پارکس بھی شہریوں کے لیے تاحکم ثانی بند رہیں گے۔
اسی طرح فارميسی اور گروسری کے علاوہ ديگر تمام دکانيں، شاپنگ مالز اور ريستوران کو رات دس بجے ہر صورت بند کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
پنجاب حکومت کی جانب سے جاری ہدایت نامے کے مطابق سرکاري دفاتر ميں عوام کا داخلہ بند ہو گا اور صرف ضروری ملازمین کو ہی دفاتر میں بلایا جائے گا جب کہ دیگر عملہ اسکائپ یا فون کال پر دستياب ہو گا۔
صوبائی حکومت نے اعلان کیا ہے کہ سرکاری اجلاسوں میں چند ضروری افراد کو ہی بلايا جائے اور اگر ضروری ہو تو دیگر افراد کو بذریعہ ویڈیو لنک اجلاس میں شریک کیا جائے۔
کرونا وائرس: دیسی ٹوٹکے، دعائیں اور مدافعتی نظام
دنیا بھر میں لوگوں کی نظریں ان تجربہ گاہوں پر ہیں جہاں طبی ماہرین کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے ویکسین اور ادویات کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ گزشتہ روز امریکہ میں انسانوں پر نئی بنائی گئی ویکسین کا تجربہ ہوا، لیکن مبصرین کے مطابق نتائج آنے میں وقت لگے گا۔
دوسری طرف، سوشل میڈیا پر پاکستان میں ایسے افراد کی کمی نہیں ہے جو نت نئے ٹوٹکوں کے ساتھ سامنے آ رہے ہیں۔ کسی کے خیال میں لیموں پانی میں کرونا کے خلاف اچھی مدافعت ہے۔
بعض کے خیال میں کینوں یا دیگر سٹرس فروٹس اچھے رہیں گے۔ کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ شہد ملا پانی پیا جائے تو کرونا کچھ نہیں کہے گا۔ کسی کا فرمانا ہے کہ پانی کے اندر ہلدی اور دار چینی ملا کر پی جائے اور کوئی جوشاندے کو روزانہ کا معمول بنانے کی تلقین کر رہا ہے۔
اس سارے پس منظر میں ہم نے شعبہ طب سے وابستہ ایسے احباب سے بات کی ہے جو سوشل میڈیا بذات خود بھی استعمال کر رہے ہیں۔ ہم نے پوچھا کہ آخر ان ٹوٹکوں سے کچھ فائدہ ہو سکتا ہے؟
ڈاکٹر سہیل چیمہ نیویارک میں مقیم پریکٹیشنر ہیں۔ فیس بک اور مقامی ٹیلی ویژن چینلز پر کرونا کے موضوع پر تفصیل سے معلومات فراہم کرتے ہیں۔
ڈاکٹر سہیل کہتے ہیں کہ برصغیر پاک و ہند میں دیسی ٹوٹکے زندگی کا حصہ رہے ہیں اگر کسی کو ان چیزوں پر بھروسا ہے تو ضرور استعمال کریں۔ لیکن، بیماری کے لیے مخصوص ادویات موجود ہوں تو وہی استعمال کی جائیں۔ صرف دیسی ٹوٹکوں پر بیٹھ جانا معمولی سی بیماری کو گھمبیر مسئلہ بنا سکتا ہے۔ اور اسے بڑی بیماری میں تبدیل کر سکتا ہے۔
ٹریول انڈسٹری اور ہوٹل بھی کرونا وائرس کا شکار
سڑکیں سنسان۔ ہوائی جہاز خالی۔ ریل اور بسیں اپنے مسافروں کے بغیر اداس تو ہوٹل آباد کیسے ہوں؟ کرونا وائرس شدت کے ساتھ روز مرہ زندگی کے معمولات پر حاوی ہو چکا۔ آئیے آپ کو بتاتے ہیں کہ دنیا کے مختلف ملکوں میں اس صورتحال میں ہوٹلوں کا استعمال کیسے کیا جا رہا ہے۔
اسرائیل نے منگل کے روز اعلان کیا ہے کہ وہ ہوٹلوں کے خالی کمروں کو کرونا وائرس کے مریضوں کی صحت یابی اور معمول کی طرف واپس لوٹنے کے لئے 'ریکوری رومز' کے طور پر استعمال کر رہا ہے۔ اسرائیل کی وزیر دفاع نفتالی بینٹ نے بتایا ہے کہ ہم پہلا اسرائیلی ریکوری ہوٹل کھول رہے ہیں؛ اور جس شخص کی شناخت کرونا مریض کے طور پر ہوتی ہے اسے یہاں لایا جائیگا۔
جیسا کہ اب تو آپ سبھی یہ جانتے ہیں کہ بیشتر لوگوں میں اس وائرس کی علامات معمولی ہوتی ہیں، جیسے بخار اور کھانسی۔ لیکن، کرونا وائرس معمر افراد اور صحت کے دوسرے مسائل رکھنے والے لوگوں کے لئے مہلک ثابت ہو سکتا ہے۔
ماہرین کی پیشگوئی یہ ہے کہ آنے والے کچھ ہفتے ابھی دشوار رہیں گے۔
سپین میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد میں انتہائی اضافہ دیکھا گیا ہے۔ وہاں بھی ہوٹلوں میں مسافروں کی تعداد بے حد کم ہوگئی ہے۔ اس لئے اب سپین میں بھی حکام اس بات پر غور کر رہے ہیں کہ خالی ہوٹلوں کو کرونا وائرس کے مریضوں کے لئے، صحت یابی کے مراکز میں تبدیل کر دیا جائے۔
ان حالات میں ٹریول انڈسٹری کو بے حد نقصان پہنچ رہا ہے۔ چین اور اٹلی میں ہدایت کی جا رہی ہے کہ لوگ قطعی طور پر سفر سے گریز کریں۔ امریکہ میں بھی صحت کے شعبے سے تعلق رکھنے والے حکام سفر کرنے سے منع کر رہے ہیں۔ اس صورتحال میں لوگ اپنے سفر کے پروگراموں کو موخر یا منسوخ کر رہے ہیں۔ بعض ماہرین کو اندیشہ ہے کہ کرونا وائرس کے اثرات نے کساد بازاری کے امکانات بڑھا دئے ہیں۔
کرونا وائرس: 8000 افراد ہلاک
دنیا بھر میں کرونا وائرس سے متاثر ہونے والوں کی تعداد دو لاکھ تک پہنچ گئی ہے اور اموات 8،000 سے تجاوز کر گئی ہیں۔ ساتھ ہی جو لوگ صحتیاب ہوئے ان کی تعداد 82،000 سے زیادہ بتائی جاتی ہے۔ یہ اعداد و شمار جانز ہاپکنز یونیورسٹی نے جاری کئے ہیں۔
ایسوسی ایٹڈ پریس نے خبر دی ہے کہ یورپ میں سرحدوں پر آمد و رفت بند ہونے کی وجہ سے بدھ کے روز میلوں تک ٹرکوں کی لائنیں دیکھی جا سکتی تھیں۔
بدھ کی صبح آسٹریا کی جانب سرحد پر ٹرک 17 میل تک اور کاریں تقریباً نو میل تک کھڑی تھیں، کیونکہ صرف ہنگری کی گاڑیوں کو سرحد پار جانے کی اجازت تھی۔
یورپی یونین کے لیڈروں کی کوشش تھی کہ خوراک اور دوائیں سرحد پار جاتی رہیں مگر ٹریفک اس حد تک رک گئی تھی کہ کچھ بھی اس پار پہنچانا ممکن نظر نہیں آرہا تھا۔
اسی دوران امریکہ اور کینیڈا کے درمیان غیر ضروری آمد و رفت عارضی طور پر بند کر دی گئی ہے۔
عالمی ادارہ صحت دنیا کی حکومتوں پر زور دے رہا ہے کہ وہ کرونا وائرس کے خلاف جامع اور تند و تیز اقدامات کریں، تاکہ یورپ اور دنیا کے دیگر ملکوں میں متاثرہ افراد کی تعداد کم ہو سکے اور اموات کو روکا جا سکے۔
کرونا وائرس سے متاثرہ اور موت کا شکار ہونے والے لوگوں کی سب سے بڑی تعداد اب بھی بحرالکاہل کے مغربی علاقے میں ہے جس میں چین شامل ہے۔ مگر اب یورپ دوسرے نمبر پر آنے کو ہے؛ اور اب وہاں کرونا وائرس کے مصدقہ مریضوں اور اموات کی تعداد دیگر تمام علاقوں کے مقابلے میں سب سے زیادہ ہے۔