بھارت میں کرونا وائرس پر فلم بنانے کی دوڑ شروع
کرونا وائرس نے جہاں دنیا بھر میں ہلچل مچائی ہوئی ہے وہیں بھارتی فلم انڈسٹری میں اس موضوع پر فلمیں بنانے کی دوڑ شروع ہو گئی ہے۔
بھارت کی کئی پروڈکشن کمپنیز نے پھرتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کرونا وائرس سے متعلق نئی فلموں کے ٹائٹلز بھی اپنے نام رجسٹرڈ کرا لیے ہیں۔
'ایروز انٹرنیشنل' بھارت کی بڑی پروڈکشن کمپنیوں میں شمار ہوتی ہے جس کے کریڈیٹ پر متعدد کامیاب اور ہٹ فلمیں موجود ہیں۔ کرونا وائرس پر فلم بنانے کے لیے اس کمپنی نے پہل کرتے ہوئے سال 2000 میں ریلیز ہونے والی رہتک روشن کی فلم 'کہو نا پیار ہے' میں معمولی سی تبدیلی کرتے ہوئے 'کرونا پیار ہے' کا ٹائٹل اپنے نام رجسٹرڈ کرالیا ہے۔
بھارتی اخبار 'ٹائمز آف انڈیا' کے ساتھ ساتھ متعدد مقامی میڈیا رپورٹس میں 'انڈین فلم اینڈ ٹیلی ویژن پروڈیوسرز کونسل' کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ 'کرونا پیار ہے' کا ٹائٹل پچھلے ہفتے ایروز انٹرنیشنل نے رجسٹرڈ کرایا ہے۔
اسی طرح 'انڈین موشن پکچر پروڈیوسرز ایسوسی ایشن' نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ پروڈیوسرز کے درمیان کرونا پر مبنی فلموں کے عنوان رجسٹر کرانے کی دوڑ لگی ہوئی ہے۔
اطلاعات کے مطابق 'ڈیڈلی کرونا' کے نام سے بھی ایک ٹائٹل رجسٹر ہوا ہے تاہم فوری طور پر یہ معلوم نہیں ہوسکا کہ یہ ٹائٹل کس کمپنی نے رجسٹر کرایا ہے۔
پاکستان کا دبئی کے لیے فضائی آپریشن بند کرنے کا اعلان
پاکستان کی سرکاری ایئر لائن پی آئی اے نے دبئی کے لیے فضائی آپریشن بند کر دیا ہے۔ ترجمان کا کہنا ہے کہ پاکستان سے دبئی کے لیے پروازیں تاحکم ثانی بند رہیں گی۔
پی آئی اے کے ترجمان کے مطابق دبئی سے پاکستانیوں کو واپس لانے کے لیے کراچی، لاہور اور اسلام آباد سے خالی طیارے دبئی جائیں گے۔ دبئی میں مقیم پاکستانی سیاحوں اور ملازمت ویزہ پر جانے والوں کو واپس لایا جائے گا۔
کرونا وائرس کے باعث عوامی اجتماعات پر پابندی
کرونا وائرس سے بچنے کے لئے ماہرین صحت لوگوں کو گھروں تک محدود رہنے کا مشورہ دے دہے ہیں۔ حکومتیں اسی لیے لوگوں کے اجتماع پر پابندیاں لگا رہی ہیں اور لوگوں کے گھر سے باہر نکلنے کی حوصلہ شکنی کر رہی ہییں۔ نیلوفر مغل کی رپورٹ
کرونا وائرس نے بے گھر افراد کی بھوک میں بھی اضافہ کر دیا
ایک ایسے وقت میں جب واشنگٹن ڈی سی کے ریسٹورینٹس اور بیکریز، کرونا وائرس کی وجہ سے گاہکوں کے لئے بند ہیں، ایک حلال ریستوران بدستور کھلا ہوا ہے۔ اپنے ان گاہکوں کے لئے جن کا کوئی گھر نہیں ہے اور نہ ہی کھانے پینے کا کوئی وسیلہ ہے۔ یہ ریستوران انہیں مفت کھانا فراہم کرتا ہے 'بلا امتیاز مذہب اور رنگ و نسل'۔
یہ بات سہیل قاضی نے بتائی جو منگل کی شام کو کھانوں کے ڈبے لے کر ایک قریبی پارک میں گئے تھے، تاکہ وہاں رہنے والے ان درجنوں بے گھر افراد کا پیٹ بھر سکیں جن کے پاس کوئی اور وسیلہ نہیں ہے۔
انھوں نے بتایا کہ ویسے تو ان کا ریستوراں دو ہزار تیرہ سے ہزاروں کھانے تقسیم کر چکا ہے لیکن اس وقت ایسا کرنا اس لئے ضروری ہے کیونکہ جیسا کسی بھی بڑی آفت یا وبا کے وقت ہوتا ہے کہ ہر ایک کو اپنی اپنی پڑ جاتی ہے۔ اب ان میں سے بہت سوں کو نہیں پتہ کہ انہیں کہاں سے کھانا مل سکتا ہے۔ اسی لئے میں خود یہاں آ یا ہوں۔
منان قاضی اور ان کے چھوٹے بھائی سہیل قاضی جانتے ہیں کہ بھوک کیا ہوتی ہے، کیونکہ ان کا تعلق پاکستان کے شہر جہلم کے ایک ایسے مفلس گھرانے سے ہے جس میں نو بہن بھائی تھے۔ گزارہ مشکل سے ہوتا تھا۔ جب ان کی زندگی میں آسودگی آئی تو وہ اسے اللہ کا انعام سمجھ کر دوسرے انسانوں کو بھی شریک کرنا چاہتے ہیں۔