پاکستان میں نمازِ جمعہ کے اجتماعات، نمازی معمول سے کم
پاکستان میں نمازِ جمعہ کی ادائیگی کے لیے اجتماعات ہو رہے ہیں لیکن کرونا وائرس کے پیشِ نظر مساجد میں نمازیوں کی تعداد معمول سے کم دکھائی دے رہی ہے۔
پاکستان کی علما کونسل نے بھی کرونا وائرس کے پیشِ نظر مساجد میں احتیاطی اقدامات کرنے اور لوگوں سے مساجد میں محدود وقت گزارنے کی درخواست کی تھی۔ علما کونسل نے نمازِ جمعہ سے قبل مقامی زبان میں خطبہ نہ دینے اور صرف عربی خطبہ سنانے کی بھی ہدایت کی تھی۔
گزشتہ روز پاکستان میں اسلامی نظریاتی کونسل کے چیئرمین قبلہ ایاز نے بھی لوگوں سے یہی درخواست کی تھی۔عوام سے کہا گیا تھا کہ وہ نوافل عبادات اور وضو گھر سے انجام دے کر مسجد آئیں اور صرف فرض نماز باجماعت ادا کی جائے۔
تاہم جمعے کو نماز کی ادائیگی کے لیے اجتماعات منعقد ہو رہے ہیں اور بعض مساجد میں اردو خطبہ بھی دیا جا رہا ہے۔ البتہ نمازیوں کی تعداد معمول سے کم دکھائی دے رہی ہے۔
نماز جمعہ میں کرونا وائرس سے نجات کی دعائیں بھی کی جا رہی ہیں۔
تفتان سے زائرین کا قافلہ ملتان کے قرنطینہ مرکز پہنچ گیا
ایران سے لوٹنے والے پاکستانی زائرین کا قافلہ تفتان کے قرنطینہ مرکز سے ملتان پہنچ گیا ہے۔ صوبہ پنجاب کے رہائشی ان افراد کو ملتان کے انڈسٹریل اسٹیٹ میں قائم قرنطینہ مرکز میں رکھا جائے گا۔
33 بسوں پر مشتمل اس قافلے میں 1247 زائرین سوار تھے جنہیں 800 سے زائد کمروں پر مشتمل ایک کمپلیکس میں رکھا گیا ہے۔
اس کمپلکس میں تین ہزار سے زائد زائرین کو ٹھہرانے کے انتظامات کیے گئے ہیں۔
ملائیشیا میں پابندیوں پر عمل درآمد کے لیے فوج تعینات کرنے کا فیصلہ
ملائیشیا میں کرونا وائرس کے پیش نظر عائد کردہ پابندیوں پر عمل درآمد نا ہونے کی وجہ سے مرکزی حکومت نے فوج تعینات کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ملائیشیا کے وزیرِ دفاع اسماعیل صابری کا کہنا ہے کہ پابندیوں کے باوجود لوگ ہوٹلوں اور پارکوں میں جا رہے ہیں جس کی وجہ سے اتوار کے روز سے فوج کرونا وائرس کے سبب عائد کردہ پابندیوں پر عمل درآمد کرانے کے لیے گشت شروع کر دے گی۔
خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق ملائیشیا میں اب تک 900 افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوچکی ہے جن میں دو تہائی افراد وہ ہیں جنہوں نے پچھلے ماہ دارالحکومت کوالالمپور کے قریب منعقد ہونے والے مذہبی اجتماع میں شرکت کی تھی۔
حکومت نے بدھ کے روز سے ملک بھر میں تعلیمی ادارے، سرحد اور کاروباری مراکز بند کر دیے ہیں اور عوام کو ہدایت کی ہے کہ وہ گھروں پر ہی رہیں۔