کرونا وائرس: فیس ماسک کی قلت دنیا کے لئے ایک اور مسئلہ
دنیا بھر کی طرح امریکہ کیلئے بھی چین کی درآمدات رک گئی ہیں اور دیگر اہم طبی اشیاء کی طرح فیس ماسکس کی مانگ بڑھ جانے کے باعث ان کی سپلائی کم پڑنے لگی ہے۔ اور فی الحال چین سے فوری طور پر کوئی کھیپ آنے کی توقع نہیں ہے۔
کرونا وائرس پھیلنے کے ساتھ فیس ماسک دنیا بھر میں نہ صرف اس وبا کی علامت بن گئے ہیں بلکہ بہت اہم ضرورت بھی اور لاکھوں لوگ ہر روز اسے لگائے نظر آتے ہیں۔
امریکہ سمیت دنیا بھر میں ماسک کی قلت نظر آنے لگی ہے۔ امریکی عہدیداروں نے بتایا ہے کہ کرونا وائرس سے بچاؤ کی جدوجہد میں ملک کو سالانہ تین اعشاریہ پانچ ارب سرجیکل ماسک اور سانس لینے کے آلات کی ضرورت ہو گی اور امریکہ ان کا صرف ایک فیصد تیار کر سکتا ہے۔
امریکن ہاسپٹل ایسوسی ایشن کی اسوسی ایٹ میڈیا ڈئریکٹر ایریکہ ٹرم کہتی ہیں کہ ملک بھر کے اسپتالوں میں اس طبی ساز و سامان کی کھپت جاری ہے اور اس پر توجہ بھی نہیں ہے۔
انہوں نے وائس آف امریکہ کو ایک ای میل میں بتایا کہ اسپتال کے عملے کے حفاظتی لباس اور دیگر گیجٹس کی بچت کیلئے ایک سے زیادہ مریضوں کو ایک ساتھ رکھا جانے لگا ہے۔
کرونا وائرس: شین وارن کی شراب فیکٹری سینیٹائزر بنانے لگی
آسٹریلوی لیگ اسپنر شین وارن نے دُنیا بھر میں کرونا وائرس کے باعث 'ہینڈ سینیٹائزر' کی قلت پر اپنی شراب فیکٹری کو سینیٹائزر بنانے میں تبدیل کر دیا ہے۔
آسٹریلوی کرکٹر کا کہنا ہے کہ مشکل وقت میں ہمیں مل کر ایسا کردار ادا کرنا چاہیے جس سے انسانیت کی خدمت ہو سکے۔ شین وارن کی ملکیت فیکٹری میں شراب کی ایک قسم 'جن' کی پیداوار روک کر اب ہینڈ سینیٹائزر بنانے کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ یہ سینیٹائزر مختلف اسپتالوں کو فراہم کیے جائیں گے۔
آسٹریلیا کے وزیر اعظم اسکاٹ موریسن نے کمپنیوں سے اپیل کی تھی کہ کرونا وائرس کے پیش نظر وہ اپنے طور پر جو تعاون کرنا چاہیں کریں تاکہ اس وائرس کا مل کر مقابلہ کیا جا سکے۔
امریکہ کا پاکستان کے لیے 10 لاکھ ڈالر کی امداد کا اعلان
امریکہ نے کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے پاکستان کو 10 لاکھ ڈالر کی امداد فراہم کرنے کا اعلان کیا ہے۔
امریکہ کی معاون نائب وزیر خارجہ برائے جنوبی و وسطی ایشیا ایلس ویلز نے اس بات کا اعلان اپنی ایک ٹوئٹ کے ذریعے کیا۔ انہوں نے کہا کہ کہا کہ صحت کے عالمی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے امریکہ اور پاکستان شراکت دار ہیں۔
ایلس ویلز نے مزید کہا کہ امراض کی روک تھام اور کنٹرول کے مرکز 'سی ڈی سی' کی وبائی امراض کی لیبارٹری سے حال ہی میں تربیت حاصل کرنے والے 100 سے زائد پاکستانی گلگت بلتستان اور پنجاب میں کرونا وائرس کی تشخیص میں مصروف ہیں۔