ضرورت پڑی تو لاک ڈاؤن بھی کریں گے: عمران خان
پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ حکومت مکمل لاک ڈاؤن پر جانے کے بجائے عوام سے اپیل کرتی ہے کہ وہ سیلف ڈسپلن کا مظاہرہ کریں۔
وزیرِ اعظم عمران خان نے سینئر صحافیوں سے ملاقات کے دوران کہا کہ اگر مکمل لاک ڈاؤن ہوا تو اس سے غریب عوام بہت متاثر ہوں گے اور اسپتالوں کا نظام بھی درہم برہم ہو جائے گا۔ البتہ ان کا کہنا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو لاک ڈاؤن بھی کریں گے۔ ابھی ہم اس کے متحمل نہیں ہو سکتے۔
انہوں نے کہا کہ ہمیں خوف یہ ہے کہ اگر پاکستان میں بھی یہ مرض یورپ طرح تیزی سے پھیلا تو ہمارے صحت کا شعبہ اس کو ڈیل نہیں کر سکتا۔ اسپتالوں میں انتہائی نگہداشت کی سہولت بہت محدود ہے۔
وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ حکومت ان غیر معمولی حالات میں معیشت کو مدد دینے کے خصوصی پیکج کا جلد اعلان کرے گی جس میں تعمیراتی شعبے کو خصوصی مراعات دی جائیں گی۔
اس موقع پر وزیرِ خزانہ ڈاکٹر حفیظ شیخ نے کہا کہ ان تمام صنعتوں کا جائزہ لیا جا رہا ہے جو کرونا وائرس کے سبب متاثر ہوئی ہیں۔ انہیں حکومت مراعات دے گی۔
خام مال تو دستیاب نہیں، ہینڈ سینیٹائزر مارکیٹ میں کب آئے گا؟
پاکستان میں کرونا وائرس کے کیسز رپورٹ ہونے کے بعد پہلے ماسکس کی قلت کی شکایات سامنے آئیں اور پھر ہینڈ سینیٹائزر نایاب ہو گئے۔ اس صورتِ حال میں وفاقی وزیر سائنس و ٹیکنالوجی نے عوام کو یقین دلایا تھا کہ پاکستانی ادارے کا تیار کردہ سینیٹائزر جلد مارکیٹ میں دستیاب ہو گا۔
فواد چوہدری نے 18 مارچ کو اس حوالے سے اپنے ایک ٹوئٹ میں دعویٰ کیا تھا کہ وزارتِ سائنس اینڈ ٹیکنالوجی کے ذیلی ادارے پاکستان کونسل فار سائنٹیفک اینڈ انڈسٹریل ریسرچ (پی سی ایس آئی آر) کا عالمی ادارہ صحت کے اصولوں کے مطابق بنایا گیا ہینڈ سینیٹائزر بنا لیا گیا ہے۔
اُن کا مزید کہنا تھا کہ تمام صوبائی حکومتیں پی سی ایس آئی آر سے رابطہ کریں اور یہ سینیٹائزر یوٹیلیٹی اسٹورز پر بھی دستیاب ہو گا۔
کوئٹہ میں زائرین کے لیے نئے قرنطینہ مراکز قائم
بلوچستان میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد میں اضافے کے بعد حکومت نے نئے قرنطینہ مراکز قائم کیے ہیں۔ لیکن آبادی کے نزدیک قرنطینہ مراکز بنانے کے باعث مقامی لوگ اپنے تحفظات کا بھی اظہار کر رہے ہیں۔ نئے قرنطینہ مراکز کتنے معیاری ہیں اور ان میں کیا سہولیات ہیں؟ دیکھیے مرتضیٰ زہری کی اس رپورٹ میں۔
پاکستان میں کرونا وائرس کے باعث نمازِ جمعہ کے محدود اجتماعات
پاکستان میں کرونا وائرس کے باعث نمازِ جمعہ کے بیشتر اجتماعات محدود کیے گئے جن میں صرف عربی خطبہ اور فرض نماز ادا کی گئی۔ کئی مساجد میں نمازیوں کی تعداد بھی معمول سے کم دکھائی دی۔ نماز کے بعد کرونا وائرس سے نجات کی دعائیں بھی کی گئیں۔