پاکستان ریلوے نے 22 مزید ٹرینیں بند کرنے کا اعلان کر دیا
پاکستان کی وزارتِ ریلوے نے کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے مزید 22 ٹرینیں بند کرنے کا اعلان کر دیا ہے۔
وفاقی وزیر برائے ریلوے شیخ رشید احمد نے جمعے کو اپنے ایک بیان میں کہا کہ کرونا وائرس کے باعث ریلوے مسافروں کی یومیہ تعداد دو لاکھ لاکھ سے کم ہو کر ایک لاکھ 60 ہزار پر آ گئی ہے۔
شیخ رشید کے مطابق اس وقت 134 ٹرینیں چل رہی ہیں جن میں 34 بند کر دی ہیں۔ اب صرف 100 ٹرینیں چلا کریں گی جب کہ 12 سے 15 فریٹ ٹرینیں معمول کے مطابق چلیں گی۔
شیخ رشید نے اپنے بیان میں کہا کہ ریلوے نے اب تک بند کی گئی ٹرینوں کے ٹکٹوں کی واپسی کی مد میں آٹھ کروڑ روپے ری فنڈ کر دیے ہیں۔
خیال رہے کہ اس سے قبل محکمہ ریلوے نے کرونا وائرس کے پیش نظر بدھ کو 12 ریل گاڑیاں بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔
یورپ میں کرونا وائرس کے ایک لاکھ مریض، پانچ ہزار کے قریب ہلاکتیں
دنیا کے دیگر خطوں کی طرح یورپ بھی کرونا وائرس سے شدید متاثر ہو رہا ہے اور یورپی ملک اٹلی میں کرونا وائرس سے ہلاکتوں کی تعداد چین سے بھی زیادہ ہوگئی ہے۔
اٹلی میں کرونا وائرس سے ایک ہی دن میں 427 ہلاکتوں کے بعد ہلاک ہونے والوں کی مجموعی تعداد 3405 ہوگئی ہے۔
یورپ میں کرونا وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے اور اب تک ایک لاکھ سے زائد مریضوں میں کرونا وائرس کی تشخیص ہو چکی ہے جب کہ پورے یورپ میں کرونا وائرس سے لگ بھگ 5000 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
دوسری طرف یورپی ملک اسپین کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا دنیا کا چوتھا ملک بن گیا ہے۔ جہاں ایک ہی دن میں 209 ہلاکتیں رپورٹ کی گئی ہیں۔
یورپی یونین سے علیحدہ ہونے والے ملک برطانیہ میں ابھی تک لاک ڈاؤن کا اعلان نہیں کیا گیا۔ تاہم اسکول بند کردیے گئے ہیں۔
پاکستان میں کرونا وائرس کے 531 مریض ہیں: عالمی ادارہ صحت
عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) کا کہنا ہے کہ پاکستان میں اس وقت کرونا کے مریضوں کی تعداد 531 ہو چکی ہے جب کہ ایک ہزار مشتبہ کیسز ہیں۔ ملک بھر میں 15 قرنطینہ مراکز اور 208 اسپتال کام کر رہے ہیں۔
اسلام آباد میں نمائندہ ڈبلیو ایچ او ڈاکٹر پلیٹھا ماہیپالا نے نیوز کانفرنس میں کہا کہ دنیا بھر کے کئی ممالک میں یہ وائرس پھیل چکا ہے۔ اسی لیے ہم نے پبلک ہیلتھ ایمرجنسی نافذ کی ہے۔ اُن کے بقول اگر اس کے لیے مناسب انتظامات نہ کیے گئے تو یہ مزید پھیل سکتا ہے۔
ڈاکٹر پلیٹھا کے بقول اب تک پاکستان میں 531 کیسز کی تصدیق ہو چکی ہے۔ پاکستان میں 208 اسپتال اور 13 لیبز قائم کی گئی ہیں جب کہ اس ضمن میں 1715 بیڈز مختص کیے گئے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ کرونا وائرس کی وجہ سے عام لوگوں میں تشویش پھیل رہی ہے۔ البتہ ڈبلیو ایچ او مکمل ڈیٹا فراہم کر رہا ہے۔
وزیرِ اعلیٰ سندھ کی شہریوں سے تین دن تک آئسولیشن میں رہنے کی اپیل
سندھ کے وزیرِ اعلیٰ سید مراد علی شاہ نے شہریوں سے اپیل کی ہے کہ آئندہ تین دن تک لوگ مکمل طور پر گھروں میں اور آئسولیشن میں رہیں۔
کراچی میں انسدادِ کرونا ٹاسک فورس کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے مراد علی شاہ کا کہنا تھا کہ عوام کا گھروں میں رہنا سب کے لیے ضروری ہے۔ انہوں نے اپیل کی کہ لوگ اپنے گھروں میں رہیں کیوں کہ عوام نے اپنے بچوں اور دوستوں کو بھی اس وائرس سے بچانا ہے۔
تاہم ابھی یہ واضح نہیں کیا گیا ہے کہ اس دوران سندھ میں کھانے پینے کی دکانیں کھلی رہیں گی یا وہ بھی بند کی جارہی ہیں۔
واضح رہے کہ سندھ میں کرونا وائرس سے سے متاثرہ افراد کی تعداد 238 تک پہنچ گئی ہے جن میں ایران سے لوٹنے والے زائرین کی تعداد 151 ہے۔ کراچی اور حیدرآباد میں کرونا وائرس کے متاثرین کی تعداد 87 ہے۔
سندھ میں تین مریض قرنطینہ میں وقت گزارنے اور علاج کے بعد صحت یاب بھی ہو چکے ہیں جب کہ ایک 77 سالہ شخص ہلاک ہوا ہے۔