پی آئی اے نے تمام بین الاقوامی پروازیں منسوخ کر دیں
کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے حکومتی ہدایات کے تحت پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائن (پی آئی اے) نے اپنی تمام بین الاقوامی پروازیں منسوخ کر دی ہیں۔
پی آئی اے کے ترجمان نے ہفتے کو کہا ہے کہ 21 مارچ کی شب آٹھ بجے سے 28 مارچ تک کے دوران شیڈول تمام بین الاقوامی پروازوں کو منسوخ کر دیا گیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ مسافروں کو پیش آنے والی دشواریوں کے لیے معذرت خواہ ہیں لیکن پرہیز علاج سے بہتر ہے۔
بلوچستان حکومت کا کوئٹہ میں جزوی لاک ڈاون کا فیصلہ
کرونا وائرس کے پیشِ نظر بلوچستان کی صوبائی حکومت نے کوئٹہ میں 21 دن تک لاک ڈاؤن کا فیصلہ کیا ہے۔
صوبائی حکومت کے ترجمان لیاقت شاہوانی نے وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ کوئٹہ کے تمام بڑے شاپنگ مال، بازار بند اور ریستورانوں میں ڈائننگ پر پابندی تین ہفتوں کے لیے بند کرنے کا نوٹی فکیشن جاری کر دیا گیا ہے۔
نوٹی فکیشن کے تحت بین الصوبائی اور انٹر سٹی پبلک ٹرانسپورٹ بھی تین ہفتوں کے لیے بند رہے گی۔ محکمہ داخلہ بلوچستان کی جانب سے جاری نوٹی فکیشن پر عمل درآمد اتوار سے شروع ہو گا۔
لیاقت شاہوانی کا کہنا تھا کہ صوبے میں کرونا کے مزید 12 کیسز سامنے آگئے ہیں اور بلوچستان میں مجموعی کیسز کی تعداد 93 ہو گئی ہے۔
صوبائی حکومت کے اقدامات کے باعث کوئٹہ میں ٹریفک بھی معمول سے بہت کم ہے۔
'کرونا وائرس سے پاکستانی کشمیر میں میرپور زیادہ متاثر ہو سکتا ہے'
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے حکام نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ میرپور کا علاقہ کرونا وائرس کی وبا سے سب سے زیادہ متاثر ہو سکتا ہے جہاں گزشتہ ایک ہفتے کے دروان یورپ کے مختلف ممالک سے لگ بھگ 3000 لوگ آئے ہیں۔
حکام کے مطابق ان افراد میں اٹلی اور اسپین سے آنے والے کشمیری بھی شامل ہیں۔
پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے وزیرِ اعظم راجہ فاروق حیدر کے ترجمان راجہ وسیم نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران 700 کے قریب لوگ بیرونِ ممالک سے میرپور پہنچے ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ بیرون ممالک سے آنے والوں کو ٹریس کر لیا گیا ہے اور ان کے گھروں کی نشان دہی کی جارہی ہے۔
حکام کا کہنا ہے کہ میرپور کرونا وائرس کی وبا سے سب سے زیادہ متاثر ہو سکتا ہے۔ پاکستانی کشمیر میں اب تک کرونا وائرس کے مصدقہ واحد مریض کا تعلق بھی میرپور سے ہی ہے۔
چین میں کرونا وائرس کے سبب عائد پابندیوں میں نرمی
چین کے قومی صحت کمیشن نے ہفتے کو رپورٹ کیا ہے کہ ملک میں گزشتہ تین دن کے دوران کرونا وائرس کا کوئی مقامی کیس سامنے نہیں آیا ہے۔ البتہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران بیرونِ ملک سے آنے والے 41 افراد میں کرونا وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
چین نے کرونا وائرس کی وبا پر بڑی حد تک قابو پا لیا ہے اور اب لوگوں پر عائد پابندیوں میں بھی نرمی کی جا رہی ہے۔
کرونا وائرس سے سب سے زیادہ چین کا شہر ووہان متاثر ہوا تھا جہاں سے یہ وبا پھیلنا شروع ہوئی اور اب پوری دنیا میں پھیل چکی ہے۔ لیکن اب ووہان میں بھی رفتہ رفتہ معمولاتِ زندگی بحال ہونے لگے ہیں۔
ووہان میں حکام نے ان علاقوں میں سپر مارکیٹس اور دکانیں کھولنے کی اجازت دے دی ہے جہاں کرونا وائرس کا کوئی کیس رپورٹ نہیں ہوا ہے۔ فی الحال یہ دکانیں صبح نو بجے سے شام چھ بجے تک کھلیں گی۔
اس کے علاوہ ہر گھر کے ایک فرد کو روزانہ باہر جانے کی اجازت دے دی گئی ہے تاکہ وہ سامان کی خریداری وغیرہ کر سکیں۔
دوسری جانب بیجنگ کے چڑیا گھر نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ بیرونی حصہ لوگوں کے لیے کھول رہے ہیں۔ لیکن آنے والوں کو احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے ماسک پہننا ہوگا اور ایک دن قبل ریزرویشن کرانی ہو گی۔