کرونا وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تدفین کیسے ہو گی؟
خیبر پختونخوا کے محکمۂ ریلیف نے کرونا وائرس سے ہلاک ہونے والے افراد کی تدفین کے لیے طریقہ کار وضع کر لیا ہے۔ اس سلسلے میں ایک ہدایت نامہ بھی جاری کیا گیا ہے۔
کرونا وائرس سے ہلاک ہونے والے افراد کی میتوں کو خصوصی گاڑیوں میں اسپتال سے منتقل کیا جائے گا اور میت کی منتقلی، غسل دینے اور ڈھانپنے کے لیے خصوصی ٹیمیں تشکیل دی جائیں گی۔
میت کواسپتال میں ہی غسل دیا جائے گا اور لیک پروف پلاسٹک شیٹس میں لپیٹ کر تابوت میں ڈالا جائے گا۔
میت کو غسل دینے کے دوران استعمال ہونے والا پانی نالے میں بہانے کے بجائے محفوظ طریقے سے ضائع کیا جائے گا۔ جاں بحق افراد کے لواحقین پلاسٹک شیٹس چڑھانے کے بعد اسپتال میں ہی آخری دیدار کر سکیں گے اور لواحقین کو بھی حفاظتی کٹس پہنائی جائیں گی۔
ہدایات کے مطابق میت کو جلد از جلد دفنایا جائے گا اور جنازہ محدود رکھنے کی کوشش کی جائے گی۔
کرونا وائرس: اُردن میں کرفیو، مختلف ملکوں میں جزوی لاک ڈاؤن
کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے اُردن کی حکومت نے ملک بھر میں کرفیو لگا دیا ہے۔ فیصلے پر عمل درآمد کے لیے دارالحکومت عمان سمیت ملک کے مختلف شہروں میں ہفتے کو سائرن بجائے گئے۔
خبر رساں ادارے 'رائٹرز' کے مطابق اُردن حکام کا کہنا ہے کہ کرفیو کی خلاف ورزی کرنے والوں کو ایک سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے۔ اُردن کے وزیر انصاف بسام طالحونی نے مقامی ٹی وی کو بتایا کہ کرفیو کے دوران باہر نکلنے والا سزا کا مستحق ہو گا۔
کرفیو کے نفاذ سے اُردن کی لگ بھگ ایک کروڑ آبادی کو گھروں میں رہنے کے احکامات جاری کیے گئے ہیں۔ فیصلے پر عمل درآمد کے لیے اُردن کے مختلف شہروں اور اہم شاہراہوں پر ہزاروں فوجی تعینات کیے گئے ہیں۔
شاہراہوں پر پولیس کی گاڑیاں گشت کر رہی ہیں اور مسلسل اعلانات ہو رہے ہیں کہ شہری گھروں سے باہر نکلنے سے گریز کریں۔ اُردن میں کرفیو کے باعث شہر کے اہم کاروباری مراکز اور شاہراہوں پر ہو کا عالم ہے۔
جنوبی ایشیا میں کرونا وائرس کی شدت نسبتاً کم، ممالک کیا اقدامات کر رہے ہیں؟
کرونا وائرس کی چین کے بعد یورپ میں تباہ کاریاں جاری ہیں لیکن جنوبی ایشیا کا خطہ یورپ، چین اور امریکہ کے مقابلے میں نسبتاً بہتر حالات میں ہے۔
ایک ارب 90 کروڑ سے زائد آبادی والا جنوبی ایشیا کا یہ خطہ دنیا کے دیگر خطوں کی نسبت کرونا وائرس سے کم متاثر دکھائی دے رہا ہے۔ لیکن پاکستان، بھارت، نیپال، بھوٹان اور سری لنکا میں 'کووڈ 19' کے کیسز کی شرح بڑھ رہی ہے۔
مذکورہ ممالک میں مجموعی طور پر اب تک 869 کیسز رپورٹ ہو چکے ہیں جب کہ کم از کم سات ہلاکتیں بھی ہوئی ہیں۔
پاکستان اور بھارت سمیت خطے کے دیگر ممالک میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد بڑھی ہے۔ لیکن حالات ابھی قابو سے باہر نہیں ہوئے ہیں۔ لیکن کسی بھی ممکنہ صورتِ حال کے پیشِ نظر کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے مختلف ممالک اپنے طور پر احتیاطی اقدامات کر رہے ہیں جن میں لاک ڈاؤن اور سرحدوں کی بندش اولین ترجیح ہیں۔