کشمیر میں 24 گھنٹے میں کرونا کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں کرونا وائرس کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا۔
کشمیر کے محکمہ صحت عامہ کی جانب سے جاری اعلامیے کے مطابق کشمیر میں کل 42 افراد کے کرونا وائرس کے شبہے میں ٹیسٹ کیے گئے۔ جن میں سے 37 کے رزلٹ آچکے ہیں۔ 36 کے رزلٹ نیگٹو آئے ہیں اور ان میں کرونا وائرس موجود نہیں ہے جب کہ ایک نتیجہ پازٹیو آیا ہے۔
محکمہ صحت کے مطابق پانچ افراد کے رزلٹ آنا باقی ہیں۔
پریس ریلیز میں کہا گیا ہے کہ گزشتہ روز ایران سے واپس آنے والے 13 زائرین کو میرپور منتقل کر دیا گیا ہے جن کے ٹیسٹ لے کر نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ سائنسز کو بھیج دیے گئے۔
محکمہ صحت کا عملہ کشمیر کے تمام انٹری پوائنٹس پر موجود ہے اور انتظامیہ کے تعاون سے آنے والے مسافروں کی اسکریننگ کر رہا ہے۔
بیرون ملک سے آنے والے 3000 کشمیریوں سے انتظامیہ کا رابطہ
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کرونا وائرس سے متاثر ہونے کے شبہے میں ٹیسٹ کرنے کا عمل جاری ہے۔
محکمہ صحت کی جانب سے ابھی تک صرف ایک شخص میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوسکی ہے۔
محکمہ صحت کشمیر کے ترجمان ڈاکٹر ندیم نے بتایا کہ گزشتہ چند دن میں یورپ اور دیگر ممالک سے ضلع میرپور میں داخل ہونے والے 3000 سے زائد تارکین وطن کے طبی معائنے کے لیے انتظامیہ ان سے رابطے میں ہے۔
انہوں نے بتایا کہ ایران سے آنے والے مزید 13 زائرین کو میرپور کے آئیسولیشن سینٹر منتقل کیا گیا ہے۔
ڈاکٹر ندیم کے مطابق کرونا وائرس کی تصدیق کے لیے ان زائرین کے خون کے نمونے اسلام آباد بھیجے جائیں گئے۔
اتوار کو پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں کرونا وائرس کو پھیلنے سے روکنے کے لیے ٹرانسپورٹ اور کاروبار بند رہا۔
کرونا وائرس کا انسداد، پی آئی اے کے حفاظتی اقدامات
پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) نے کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے احتیاطی اقدامات شروع کر دیے ہیں۔
پی آئی اے کے اعلامیے کے مطابق تمام طیاروں کو جراثیم کُش ادویہ سے صاف کیا جا رہا ہے۔
پی آئی اے نے اپنی اندرون ملک پروازوں میں عارضی طور پر مسافروں کو کھانا پیش کرنا، اخبارات اور رسائل کی فراہمی بھی بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
مکمل لاک ڈاؤن سے غریب افراد اہل خانہ کی کفالت نہیں کر سکیں گے: عمران خان
پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے کرونا وائرس کے باعث ملک میں لاک ڈاؤن کرنے کی تجویز مسترد کر دی ہے اور لاک ڈاؤن نہ کرنے جب کہ بیمار افراد کو خود قرنطینہ میں جانے پر زور دیا ہے۔
وزیر اعظم عمران خان نے قوم سے سرکار ٹی وی پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان کی 25 فی صد آبادی غربت کی لکیر سے نیچے زندگی گزار رہی ہے۔ یہ لوگ دو وقت کی روٹی مشکل سے کماتے ہیں۔ پورے ملک میں مکمل لاک ڈاؤن سے کم وسائل کا طبقہ اہل خانہ کی کفالت نہیں کر سکے گا۔
انہوں نے کرونا وائرس روکنے کے لیے پاکستانی قوم کو احتیاط برتنے پر زور دیا۔