پاکستان میں کرونا وائرس سے 5 ہلاکتیں اور 776 کیسز
پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس کے شکار مزید 2 افراد دم توڑ گئے ہیں جس کے بعد ملک میں اس وائرس سے اموات کی تعداد پانچ ہو گئی ہے۔
پاکستان کے صوبہ سندھ اور پنجاب اس وائرس کی لپیٹ میں ہیں جہاں کیسز کی تعداد سب سے زیادہ ہے۔ ملک بھر میں کرونا وائرس کے مزید 147 نئے کیسز بھی سامنے آئے ہیں جس کے بعد متاثرہ افراد کی تعداد 776 ہو گئی ہے جب کہ پانچ صحت یاب ہو چکے ہیں۔
تازہ ترین اطلاعات کے مطابق سندھ میں 333، پنجاب میں 225، بلوچستان میں 104، خیبر پختونخوا میں 31، دارالحکومت اسلام آباد میں 11، پاکستان کے زیر انتظام گلگت بلتستان میں 71 اور کشمیر میں ایک کیس رپورٹ ہو چکا ہے۔
واشنگٹن کو آف زدہ ریاست قرار دے دیا گیا
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز کرونا وائرس سے شدید متاثرہ واشنگٹن کو آفت زدہ ریاست قرار دینے کا اعلان کیا ہے، جس کے بعد وفاقی حکومت اس مہلک وبا کے پھیلاؤ پر قابو پانے کے لیے ریاست، قبائل اور مقامی عہدے داروں کی معاونت کرے گی، جہاں درجنوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔
وائٹ ہاؤس کا کہنا ہے کہ قدرتی آفت زدہ یا تباہی کا شکار ریاست قرار دینے کے اعلان سے ایمرجینسی اور بحرانی صورت حال سے نمٹنے میں ریاست کو وفاقی مدد مل سکے گی۔
واشنگٹن کی گورنر جے انسلی نے اس اعلان پر تبصرہ کرتے ہوئے وفاقی حکومت کے اقدام کو مناسب قرار دیا ہے لیکن ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ پہلا قدم ہے جو کافی نہیں ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ریاست نے وائرس کے حملے کا بری طرح شکار ہونے والے کارکنوں اور خاندانوں کے لیے وفاقی حکومت سے جتنی مدد کی اپیل کی تھی، یہ اتنی نہیں ہے۔
صحت کے عہدے داروں نے اتوار کے روز بتایا کہ ریاست واشنگٹن میں کرونا وائرس سے 95 ہلاکتیں ہو چکی ہیں اور تصدیق شدہ مریضوں کی تعداد تقریباً دو ہزار ہے۔
امریکی آٹو کمپنیاں وینٹی لیٹرز بنائیں گی
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کے روز بتایا کہ امریکہ میں موٹر گاڑیاں بنانے والی تین کمپنیوں کو وینٹی لیٹرز اور دیگر ضروری طبی سامان بنانے کی اجازت دے دی گئی ہے تاکہ ایسے میں ان طبی ضروریات کو پورا کیا جا سکے جن کا سامنا کورونا جیسے ہلاکت خیز وائرس کے دنوں میں ہے۔
جن کمپنیوں کو اجازت دی گئی ہے ان میں جنرل موٹرز، فورڈ موٹرز اور ٹیسلا شامل ہیں۔
ری پبلکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے صدر ٹرمپ پر اس حوالے سے مخالف ڈیموکریٹس تنقید کر رہے تھے کہ وہ 1950 کے کورین جنگ کے زمانے کے اختیارات کیوں استعمال نہیں کر رہے جن کے تحت امریکی کمپنیوں سے کہا جاتا ہے کہ وہ طبی آلات تیار کریں تاکہ کورونا وائرس سے نمٹا جا سکے۔
صدر نے اب تک اس دباؤ کے خلاف مزاحمت دکھائی ہے تاہم بڑی امریکی کمپنیوں کی جانب سے رضاکارانہ پیش کش کی تعریف کی ہے۔
بھارتی کشمیر میں 31 مارچ تک شٹ ڈاؤن کا اعلان
یوسف جمیل۔ سری نگر
بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے حکام نے کرونا وائرس یا کووڈ -19 کو پھیلنے سے روکنے کے لیے علاقے کے تمام 20 اضلاع میں 31 مارچ تک شٹ ڈاؤن نافذ کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تاہم 16 ضروری سروسز اور اشیائے خورد و نوش کی خرید و فروخت کو اس سرکاری حکم نامے سے مستثنےٰ قرار دیا گیا ہے۔
جموں و کشمیر کے چیف سیکرٹری بی وی آر سبھرانیم نے کہاکہ تمام 20 ضلع کمشنرز کو ہدایت دی گئی ہے کہ اتوار 22 مارچ شام 8 بجے سے 31 مارچ تک دفعہ 144 اور ڈیزاسٹر مینجمینٹ ایکٹ 2005 کے تحت اپنے اپنے اضلاع میں بندشیں عائد کریں۔
انسپکٹر جنرل آف پولیس وجے کمار نے کہا ہے کہ یہ یقینی بنانے کے لیے کہ لوگ گھروں میں ہی رہیں، قانون نافذ کرنے والے ادارے کیمروں والے ڈرونز کا استعمال کریں گے۔
بھارتی زیرِ انتظام کشمیر میں کرونا وائرس کے تا حال 17 کیسز سامنے آئے ہیں۔ ان میں سے سب سے زیادہ یعنی 13 مریضوں کا تعلق لداخ، جب کہ جموں میں 3 اور وادئ کشمیر میں صرف ایک مثبت کیس رپورٹ ہوا ہے۔
اتوار کے روز گرمائی صدر مقام سری نگر، پلوامہ اور بڈگام کے قصبوں میں لگاتار چوتھے اور باقی ماندہ وادئ کشمیر میں تیسرے دن لاک ڈاؤن جاری رہا۔ اُدھر جموں کے علاقے میں بھارتی وزیرِ اعظم نریندر مودی کے 'عوامی کرفیو' کے نفاذ کی اپیل پر لوگوں اور حکومتی اداروں نے بھر پور عمل کیا۔