پاکستان میں کرونا وائرس کے 875 مریض، 6 کا انتقال
پاکستان میں کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 875 ہوگئی ہے جبکہ ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد 6 ہے۔
حکومتی ویب سائٹ کے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران مزید 99 مریضوں میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے، جس کے بعد سندھ میں کرونا کے تصدیق شدہ مریضوں کی تعداد 394، پنجاب میں 246، بلوچستان میں 110، گلگت بلتستان میں 71، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں ایک، خیبر پختونخوا میں 38 اور اسلام آباد میں 15 ہے جبکہ 6 افراد صحت یاب ہو کر اپنے گھروں کو جاچکے ہیں۔
ٹوکیو اولمپکس کو ملتوی کرنے پر غور
جاپان کے وزیر اعظم شنزو ایبے نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کی وجہ سے اگر 2020 ٹوکیو اولمپک گیمز کو مکمل طور پر منعقد کرنا ممکن نہ ہوا تو انہیں ملتوی کیا جا سکتا ہے۔
وزیراعظم ایبے نے یہ بیان پیر کو ایک پارلیمانی اجلاس کے دوران دیا۔ لیکن انہوں نے 24 جولائی سے 9 اگست تک طے شدہ گیمز کی مکمل منسوخی کو خارج از امکان قرار دے دیا۔
ایبے کا یہ بیان انٹرنیشنل اولمپک کمیٹی کی جانب سے اس اعلان کے ایک روز بعد سامنے آیا ہے کہ وہ اگلے چند ہفتوں میں صورت حال کا جائزہ لے گی اور اس بارے میں صلاح مشورے کرے گی کہ آئندہ کیا کرنا چاہیے۔ ان میں اولمپکس کو چند ہفتوں بلکہ ایک سال تک کے لیے ملتوی کرنے پر غور کیا جاسکتا ہے۔
کینیڈا کی اولمپک کمیٹی اعلان کرچکی ہے کہ وہ اپنے کھلاڑی ٹوکیو نہیں بھیجے گی۔
راولپنڈی پولیس اور سیکیورٹی اداروں کا فلیگ مارچ
فلیگ مارچ میں راولپنڈی پولیس کے تمام یونٹس، سینئر افسران اور سیکیورٹی اداروں کے اہل کاروں نے شرکت کی۔
فلیگ مارچ کا مقصد کرونا وائرس سے بچاؤ کی خاطر لگائی گئی پابندیوں پر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہے۔
فلیگ مارچ میں یہ اعلانات کیے گئے۔
ا-پولیس اور سیکیورٹی ادارے شہریوں کے ساتھ کھڑے ہیں۔
2- شہری اپنے گھروں تک محدود رہیں، فلیگ مارچ میں اعلانات
3- شہری غیر ضروری آمد و رفت اور نقل و حرکت سے اجتناب کریں۔
4- حکومت کی جانب سے لگائی گئی پابندیوں پر عملدرآمد آپ اور آپ کے پیاروں کی صحت اور زندگی کے لئے ضروری ہے۔
وبا تیزی سے پھیل رہی ہے، عالمی ادارہ صحت
عالمی ادارہ صحت کے سربراہ ٹیڈروس گیبریئیسس نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کی وبا تیزی سے پھیل رہی ہے۔ وائرس کے ایک لاکھ مریض ہونے میں 67 دن لگے تھے۔ دو لاکھ 11 اور تین لاکھ صرف 4 دن میں ہوگئے۔ اس پر قابو پانے کے لیے امیر ملکوں کا تعاون بے حد ضروری ہے۔
جنیوا میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے انھوں نے کہا کہ دنیا بھر میں کرونا وائرس کے ساڑھے تین لاکھ سے زیادہ مریضوں کی تصدیق ہوچکی ہے۔ وبا تیزی سے پھیل رہی ہے اور اس کا مقابلہ کرنے کے لیے ہدف طے کرکے جارحانہ اقدامات کرنے کی ضرورت ہے۔ ہم بے بس راہگیر نہیں ہیں۔ ہم اس وبا پر قابو پاسکتے ہیں۔
گیبریئیسس نے کہا کہ وہ اس ہفتے جی ٹوئینٹی ملکوں کے سربراہوں سے خطاب کریں گے جس میں ان سے کہیں گے کہ طبی عملے کے تحفظ کا سامان بنانے کی پیداوار میں تیزی لائیں۔ انھوں نے امیر ملکوں پر زور دیا کہ وہ آپس کے اختلافات کو بھول کر وبا کو روکنے میں تعاون کریں۔ ان کا اشارہ امریکہ اور چین کی طرف تھا جو کرونا وائرس کے پھیلاؤ میں ایک دوسرے پر الزامات لگاچکے ہیں۔