اقوامِ متحدہ کی کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے جنگ بندی کی اپیل
اقوام متحدہ کے سربراہ انتونیو گوتریس نے کرونا وائرس سے نمٹنے کے لیے دنیا بھر میں متحارب فریقین کے درمیان فوری جنگ بندی کی اپیل کی ہے تاکہ دنیا کرونا وائرس کی عالمی وبا سے نمٹنے پر اپنی توجہ مرکوز کر سکے۔
ان خیالات کا اظہار انہوں نے ورچوئل کانفرنس کے دوران صحافیوں کے تحریری سوالات کا جواب دیتے ہوئے کیا۔
عالمی ادارے کے سربراہ نے کہا کہ اس وقت ہماری دنیا کو کرونا وائرس کی صورت میں ایک مشترکہ حریف کا سامنا ہے جسے قومیت، نسل، دھڑے یا کسی عقیدے کی کوئی پروا نہیں اور جو بڑی شدت سے حملہ آور ہے۔
انتونیو گوتریس کے مطابق تنازعات کے دوران خواتین، بچے، معذور افراد، مہاجرین اور بے گھر افراد کو سب سے زیادہ خطرات کا سامنا رہتا ہے۔ امراض کی وجہ سے بھی انہی افراد کو زیادہ مصائب کا سامنا ہو سکتا ہے۔
کرونا وائرس نے درس و تدریس بھی آن لائن کر دی
کرونا وائرس دنیا بھر میں زندگی کے روز مرہ معمولات میں تبدیلی کا باعث بنا ہے اور روایتی طریقۂ کار گویا ماضی کی یاد بنتے جا رہے ہیں۔
امریکہ اور دنیا کے متعدد ملکوں میں تعلیمی اداروں کی بندش کے بعد استاد اور طالب علموں کے براہِ راست رابطے کا سلسلہ بھی کرونا وائرس کی نذر ہو گیا۔ اعلیٰ تعلیم اور درس و تدریس کا سلسلہ اب آن لائن شروع ہو گیا ہے۔ یوں دیکھتے ہی دیکھتے درس و تدریس نے اپنا انداز ہی تبدیل کر لیا ہے۔
امریکہ میں اعلیٰ تعلیمی ادارے سب سے پہلے ریاست واشنگٹن، نیویارک اور کیلی فورنیا میں بند ہوئے اور جس پہلے ادارے میں براہ راست تعلیم کا سلسلہ ختم ہوا وہ یونیورسٹی آف واشنگٹن تھی جو سیاٹل شہر کی کنگ کاؤنٹی میں واقع ہے۔
یہ وہی کاونٹی ہے جہاں کچھ عرصہ پہلے کرونا وائرس سے متعدد اموات ہوئی تھیں۔
وینٹی لیٹرز کیوں ضروری ہیں؟
کرونا وائرس کے خلاف جنگ میں ایٹمی طاقتیں بھی پریشان نظر آ رہی ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کرونا کے خلاف جنگ لڑنے کے لیے ایٹم بم، میزائل، لڑاکا طیارے اور ٹینک نہیں بلکہ وینٹی لیٹرز کی ضرورت ہے۔
ایسا لگتا ہے کہ وبا کے دنوں میں کسی ملک کے پاس اس کی ضرورت کے مطابق یہ مشین نہیں ہے۔
سادہ الفاظ میں وینٹی لیٹر ایک ایسی مشین ہوتی ہے جو اس مریض کو آکسیجن فراہم کرتی ہے جو خود سانس نہیں لے سکتا۔ ایک ٹیوب کے ذریعے آکسیجن کو مریض کے پھیپھڑوں تک پہنچایا جاتا ہے۔
یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ کرونا وائرس کا حملہ انسان کے پھیپھڑوں اور نظام تنفس پر ہوتا ہے۔ وینٹی لیٹر دستیاب ہونے کی صورت میں مریض کی جان بچائی جاسکتی ہے۔ وینٹی لیٹر نہ ملنے کی صورت میں مریض انتقال کرجاتا ہے۔
کرونا وائرس کا شکار ہونے والی مشہور اور معروف عالمی شخصیات
کرونا وائرس سے دنیا بھر میں متاثر ہونے والوں کی تعداد تین لاکھ ساٹھ ہزار سے تجاوز کر چکی ہے اور مرنے والوں کی تعداد پندرہ ہزار سے زیادہ ہو گئی ہے۔
یہ وائرس انسانوں کے سماجی مرتبے، ان کے عہدوں سے بے نیاز ہر اُس شخص کو اپنی لپیٹ میں لیتا ہوا نظر آتا ہے جس نے سماجی میل ملاپ سے دوری میں سستی روا رکھی ہے۔
کرونا وائرس سے متاثر ہونے والوں میں کئی ایک مشہور اور نمایاں شخصیات بھی شامل ہیں جن کا تعلق سیاست سے لے کر کھیلوں کے میدانوں تک ہے، حتی کہ شعبہ طب سے بھی۔