- By علی فرقان
کمرشل بینکوں کو آپریشنز جاری رکھنے کی ہدایت
کرونا وائرس کے تناظر میں لاک ڈاؤن کے باوجود اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ملک بھر کے تمام سرکاری اور نجی بینک بدستور کھلے رکھنے کا اعلان کیا ہے۔
اسٹیٹ بینک کے جاری اعلامیے کے مطابق تمام بینک اپنی تمام تر خدمات، بشمول آن لائن سروس، اے ٹی ایم کے ذریعے کیش کی دستیابی اور کال سینٹر کام کرتے رہیں گے۔
بینکوں کو ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ کم سے کم ملازمین کے ساتھ تمام امور کو جاری رکھیں اور ملازمین کو نقل و حرکت کے وقت اپنے دفتری اور شناختی کارڈ ہمراہ رکھنے کی ہدایت بھی کی گئی ہے۔
دریں اثناء اسٹیٹ بینک نے کہا ہے کہ تمام بینک مصدقہ اور جراثیم سے پاک نقدی فراہم کریں گے۔
اسٹیٹ بینک کی جانب سے ایک ٹوئٹ میں کہا گیا ہے کہ اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ اسپتالوں اور کلینکس سے اکٹھی ہونی والی رقوم کو علیحدہ رکھا جائے اور اسے مارکیٹ میں عام نہ کیا جائے۔
دوسری جانب سیکیورٹی اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (ایس ای سی پی) نے اعلان کیا ہے کہ منگل کو اسٹاک مارکیٹ اور کیپٹل مارکیٹ سے متعلقہ ادارے کھلے رہیں گے۔
ایس ای سی پی کے جاری اعلامیے کے مطابق اسٹاک مارکیٹ میں ٹریڈنگ منگل کی صبح گیارہ بجے شروع کی جائے گی۔ مارکیٹ ہالٹ کا دورانیہ بھی 45 منٹ سے بڑھا کر دو گھنٹے کر دیا گیا ہے۔
یہ ہدایات 24 مارچ سے آئندہ 15 روز کے لیے جاری کی گئی ہیں۔
اعلامیے میں مزید کہا گیا ہے کہ اسٹاک ایکسچینج، نیشنل کلیئرنگ کمپنی، سینٹرل ڈیپازٹری کاروباری تسلسل کو یقینی بنائیں گے۔
ایئر کینیڈا کا 5 ہزار ملازمین برطرف کرنے کا اعلان
کینیڈا کی سب سے بڑی فضائی کمپنی ایئر کینیڈا نے پانچ ہزار ملازمین کو عارضی طور پر برطرف کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ان میں 1539 فلائٹ اٹینڈنٹس اور 3600 دوسرے ملازمین شامل ہیں۔
یہ برطرفیاں یکم اپریل سے نافذ العمل ہوں گی۔ ایئر کینیڈا کا کہنا ہے کہ 31 مارچ سے وہ امریکہ اور دیگر ملکوں کے لیے اپنی پروازیں منسوخ کررہی ہے۔ جب یہ پروازیں بحال ہوں گی تو برطرف ملازمین دوبارہ اپنی ڈیوٹی پر حاضر ہوجائیں گے۔
کرونا وائرس کی وجہ سے دنیا بھر کی ائیر لائنز متاثر ہوئی ہیں۔ جنوبی کوریا کی کم خرچ والی ایسٹر جیٹ پہلی فضائی کمپنی ہے جو تمام پروازیں منسوخ کررہی ہے۔ اس سے پہلے ایئر سول، ایئر بوسان اور ٹی اے نے بھی بہت سی بین الاقوامی پروازیں معطل کردی تھیں۔
بلوچستان میں بھی لاک ڈاؤن
سندھ، پاکستان کے زیر انتظام کشمیر اور پنجاب کے بعد بلوچستان نے بھی لاک ڈاؤن کا اعلان کر دیا ہے۔ صوبائی محکمہ داخلہ کے حکم کے مطابق کرونا وائرس کی وبا پر قابو پانے کے لیے 24 مارچ کو دوپہر 12 بجے سے سات اپریل دوپہر 12 بجے تک نقل و حرکت پر پابندی رہے گی۔
دو ہفتوں کے دوران تمام سرکاری و نجی دفاتر بند رہیں گے البتہ لازمی خدمات کے اداروں کے اہلکار پابندی سے مستثنیٰ ہوں گے۔ ان میں قانون نافذ کرنے والے اہلکار، صحت کے شعبے سے وابستہ عملہ، بینک ملازمین، صحافی اور امدادی کارکن شامل ہیں۔
تمام بڑے اسٹورز میں صرف روز مرہ ضروریات کے شعبے کھلے رہیں گے اور تمام اسٹورز ٹرالی کو انفیکشن سے پاک رکھنے کے پابند ہوں گے۔ ہر گھر سے ایک فرد ضروری اشیا خریدنے کے لیے نکل سکتا ہے لیکن اسے قومی شناختی کارڈ اپنے ساتھ رکھنا ہوگا۔
اٹلی میں ہلاکتیں پہلے سے کم، اسپین میں زیادہ
کرونا وائرس سے اٹلی میں یومیہ ہلاکتوں کی تعداد کم ہونے لگی ہے لیکن اسپین میں مسلسل اضافہ جاری ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران اٹلی میں 4790 نئے کیسز کی تصدیق ہوئی جبکہ 602 افراد ہلاک ہوئے۔ اتوار کو اٹلی میں 651 اور ہفتے کو 793 افراد جان سے گئے تھے۔
دوسری طرف اسپین میں ہلاکتوں کی تعداد روزانہ بڑھ رہی ہے۔ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران وہاں 4321 نئے مریض سامنے آئے جبکہ 434 افراد ہلاک ہوئے۔
ایران میں پیر کو مزید 1411 کیسز کی تصدیق ہوئی اور 127 افراد ہلاک ہوئے۔ اس طرح ایران میں مریضوں کی تعداد 23 ہزار اور ہلاکتوں کی تعداد 1812 تک پہنچ گئی ہے۔ اٹلی میں کیسز 64 ہزار اور ہلاکتیں 6078 ہوچکی ہیں۔ اسپین میں کیسز 33 ہزار اور ہلاکتیں 2206 ہیں۔
جان ہاپکنز یونیورسٹی اور ورڈومیٹرز کے مطابق پیر تک 194 ملکوں اور خود مختار علاقوں میں کرونا وائرس کے کیسز کی مجموعی تعداد 3 لاکھ 75 ہزار سے زیادہ ہوچکی تھی جبکہ 16300 سے زیادہ مریض ہلاک ہوچکے تھے۔ صرف پیر کے دن 37 ہزار کیسز اور 1721 ہلاکتوں کی تصدیق ہوئی۔