کرونا وائرس: مشرق وسطیٰ کے امیر اور غریب ممالک سب نشانے پر
دنیا کے باقی خطوں کی طرح جنگ زدہ اور کمزور عرب ممالک میں بھی کرونا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے۔ ایسے میں انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) نے خبردار کیا ہے کہ ادویات اور دیگر طبی اشیا کی کمی کے باعث عراق، سوڈان اور یمن میں ان کی قیمتیں بہت زیادہ ہو سکتی ہیں۔
امریکی خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' کی رپورٹ کے مطابق مشرق وسطیٰ کے ممالک میں کرونا وائرس کے 30 ہزار سے زائد مصدقہ کیسز سامنے آ چکے ہیں۔ جن میں سب سے زیادہ کیسز ایران میں پائے گئے ہیں جب کہ ایران بھی عالمی پابندوں کے باعث مشکلات کا شکار ہے۔
دوسری جانب بین الاقوامی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اتار چڑھاؤ کی وجہ سے خطے کے امیر ممالک بھی شدید دباؤ کا شکار ہیں۔
آئی ایم ایف کی جانب سے عمومی طور پر حکومتوں پر زور دیا جاتا ہے کہ وہ بڑے پیمانے پر سادگی اور کفایت شعاری اختیار کریں تاہم اب مشرق وسطیٰ کی حکومتوں پر زور دیا گیا ہے کہ وہ شہریوں کو عارضی طور پر ٹیکس میں رعایت دیں۔ اس کے علاوہ رقوم کی منتقلی پر بھی ریلیف کی ضرورت ہے۔
پشاور یونیورسٹی میں جراثیم کش اسپرے
کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے پشاور یونیورسٹی میں جراثیم کش ادویات کا اسپرے کیا جا رہا ہے۔ ضلعی انتظامیہ نے پشاور یونیورسٹی کے ہاسٹلوں کو قرنطینہ مرکز بنایا ہوا ہے۔
کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے لاہور میں جراثیم کش اسپرے
لاہور میں کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے سڑکوں اور عوامی مقامات پر جراثیم کش ادویات کا اسپرے کیا جا رہا ہے۔
لاہور میں لاک ڈاؤن کے باعث بازار اور سڑکیں ویران
کرونا وائرس کے باعث صوبۂ پنجاب کے مرکزی شہر لاہور میں لاک ڈاؤن کے بعد تمام بازار بند ہیں اور سڑکوں پر ٹریفک معمول سے کم ہے۔ پولیس نے لوگوں کی غیر ضروری نقل و حرکت روکنے کے لیے سڑکوں پر ناکے بھی لگائے ہوئے ہیں۔