امریکہ کرونا وائرس کا نیا مرکز بن سکتا ہے، عالمی ادارہ صحت
عالمی ادارہ صحت کی ترجمان مارگریٹ ہیرس نے کہا ہے کہ امریکہ میں کرونا وائرس کے کیسز میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے جس کے بعد خدشہ ہے کہ وہ کرونا وائرس کا نیا مرکز بن سکتا ہے۔
ایک بیان میں انہوں نے کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران کرونا وائرس کے 85 فی صد نئے کیسز یورپ اور امریکہ سے رپورٹ ہوئے ہیں جن میں سے 40 فی صد صرف امریکہ میں رپورٹ ہوئے۔
کرونا وائرس کی روک تھام کے لیے قائم ٹاسک فورس کے رکن ڈیبورا برکس نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کرونا وائرس کے تیزی سے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے ضروری ہے کہ نیویارک کا ہر شہری خود کو 14 روز کے لیے قرنطینہ میں رکھے۔
'کرونا وائرس کے مریضوں کی تیمار داری کرنے والا عملہ مساجد نہ آئے'
پاکستان کے مختلف مسالک کے جید علما نے کہا ہے کہ وہ طبی عملہ اور نوجوان جو کرونا وائرس کے مریضوں کی تیمار داری کر رہے ہیں مساجد نہ آئیں۔ وہ گھر پر بھی جماعت سے نماز پڑھ سکتے ہیں۔
کراچی میں گورنر ہاؤس سندھ میں اجلاس کے بعد مفتی تقی عثمانی، مفتی منیب الرحمٰن، شہنشاہ نقوی سمیت دیگر مسالک کے جید علما نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے علما کا کہنا تھا کہ نابالغ بچوں کو بھی مساجد نہ لایا جائے تاکہ ان کو مرض سے محفوظ رکھا جا سکے۔
جماعت کے ساتھ نماز کی ادائیگی کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ باجماعت نماز گھر کی خواتین اور اہل خانہ کے ہمراہ بھی ادا ہو سکتی ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ طبی عملہ اور نوجوان جو کرونا وائرس کے مریضوں کا علاج اور تیمارداری کر رہے ہیں۔ ان کے باجماعت نماز کے لیے مسجد نہ آنے پر گناہ نہیں ہوگا۔ وہ گھر میں جماعت کروا سکتے ہیں۔
علما نے مساجد صاف رکھنے، پردے اور قالین ہٹانے جب کہ مرکزی دروازوں پر سیناٹائزر لگانے پر بھی زور دیا۔
شہریوں پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ وقت توبہ اور استغفار کا ہے۔ عوام اپنے گناہوں پر توبہ کریں۔
علما نے مساجد کے آئمہ کو جمعے کے دن خطبہ بھی مختصر کرنے کی تاکید کی۔
- By یوسف جمیل
بھارتی کشمیر میں کرونا وائرس کے مریضوں میں اضافہ، پابندیاں مزید سخت
بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں مزید چار افراد میں کرونا وائرس یا کووڈ -19 کی تصدیق کے بعد پابندیوں کو مزید سخت کر دیا گیا ہے۔
جن چار افراد کے ٹیسٹ مثبت آئے ہیں اُن کا ایک ایسے شخص سے میل ملاپ تھا جو حال ہی میں ایک تبلیغی جماعت میں شامل ہونے کے لیے کشمیر سے باہر گیا تھا۔
رپورٹس کے مطابق یہ شخص پہلے ہی سرینگر کے ایک اسپتال میں زیرِ علاج ہے۔
اسی طرح لداخ سمیت جموں و کشمیر میں کووڈ-19 سے متاثرہ افراد کی تعداد 24 تک پہنچ گئی ہے۔
ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ اب تک اس وائرس کے تین مریض صحت یاب ہو چکے ہیں۔
سرینگر سمیت چھوٹے بڑے شہروں اور قصبوں میں پولیس اور نیم فوجی دستے کرفیو جیسی پابندیاں نافذ کر رہے ہیں۔
دفعہ 144 اور ڈزاسٹر منیجمنٹ ایکٹ 2005 کے تحت نافذ کی جانے والی پابندیوں کی خلاف ورزی کرنے پر 200 سے زائد افراد کو حراست میں لیا گیا ہے یا ان کے خلاف مقدمات درج کیے گئے ہیں۔
مقامی سطح سے سامنے آنے والی رپورٹس کے مطابق درجنوں دکانوں اور ہوٹلوں کو مبینہ طور پر قانون توڑنے پر سیل کیا گیا ہے۔