کرونا وائرس کے نقصانات تو بہت، فائدے کیا ہیں؟
ہلاکتیں، معاشی ابتری اور پوری دنیا میں لاک ڈاؤن، یہ کرونا وائرس کے کچھ ایسے اثرات ہیں جن سے ہر شخص پریشان ہے۔
لیکن اس وبا کے پھیلنے سے کچھ ایسی تبدیلیاں بھی واقع ہوئی ہیں جو دنیا کے لیے خوش گوار ہیں اور جن کی اشد ضرورت محسوس کی جا رہی تھی۔
پاکستان میں بھی کرونا وائرس کے منفی اثرات کے ساتھ کچھ ایسے مثبت اثرات بھی رونما ہوئے ہیں جو خوش آئند ہیں۔
کرونا وائرس سے سب سے زیادہ متاثرہ 10 ممالک
پاکستان میں کرونا وائرس کے کیسز کی تعداد 1100 سے تجاوز
- By محمد ثاقب
نمازِ جمعہ کے اجتماعات ہوں گے: علما کا اتفاق
پاکستان میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ سے متعلق مساجد میں باجماعت نماز اور جمعے کے اجتماعات سے متعلق بعض علمائے کرام نے اپنی رائے میں کہا ہے کہ باجماعت نماز اور نمازِ جمعہ کے اجتماعات معمول کے مطابق ہوتے رہیں گے تاہم ان کا دورانیہ مختصر کر دیا جائے گا۔
کراچی میں علمائے کرام کے اجلاس کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ موجودہ صورتِ حال میں مساجد کھلی رکھی جائیں گی، پنج وقتہ اذان، اقامت اور باجماعت نماز کا سلسلہ جاری رہے گا۔
اسی طرح جمعے کے روز بھی عمومی اردو تقریر کے بجائے صرف آئمہ کرام پانچ منٹ کے لیے کرونا وائرس سے متعلق دینی اور طبی رہنمائی فراہم کرنے کے بعد مختصر خطبہ، نماز اور دعا پر اکتفاء کریں گے۔
اعلامیے کے مطابق وہ افراد جنہیں ڈاکٹرز نہیں منع کیا ہو وہ جمعہ کے اجتما میں شرکت نہ کریں اور گھر پر نماز ظہر ادا کریں۔ جب کہ نابالغ بچوں کو بھی مساجد نہ آنے کی تلقین کی گئی ہے۔
اس اعلامیے میں جامعہ دارالعلوم کراچی کے مفتی رفیع عثمانی، ناظم وفاق المدارس العربیہ مولانا محمد حنیف جالندھری، جمعیت علمائے اسلام کے قائد مولانا فضل الرحمان، جامعتہ الرشید کے مفتی عبدالرحیم، مفتی امداد اللہ، جامعہ بنوریہ کے علمائے کرام، اشرف المدارس، جماعہ فاروقیہ، صدر تنظیم المدارس مفتی منیب الرحمان، جامعہ نعیمیہ، جامعہ انوار القران، جماعت اسلامی اور دیگر اہم مدارس اور دینی جماعتوں کے علمائے کرام نے اتفاق کیا ہے۔