رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

19:47 26.3.2020

باجماعت نماز کی ادائیگی عارضی طور پر ترک کرنے کے معاملے پر صدر کی علما سے مشاورت

پاکستان کے صدر ڈاکٹر عارف علوی نے پر زور دیا ہے کہ کرونا وائرس کے پھیلاؤ کو روکنے کے لیے عوام کو گھروں میں نماز ادا کرنے کی تلقین کریں.

صدرِ پاکستان ڈاکٹر عارف علوی نے باجماعت نماز کی ادائیگی عارضی طور پر ترک کرنے کے معاملے پر ویڈیو کانفرنس کے ذریعے علما سے مشاورت کی.

کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے باجماعت نماز اور جمعے کے اجتماعات پر پابندی سے متعلق حتمی فیصلہ نہ ہو سکا.

مشاورتی اجلاس میں ملک بھر کے مختلف مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے علما شریک ہوئے.

وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری, چیئرمین اسلامی نظریاتی کونسل قبلہ ایاز اور چاروں صوبوں کے گورنرز نے صدر پاکستان کی معاونت کی۔

صدر نے کہا کہ وبائی امراض سے بچنے کے لیے اسلام نے واضح ہدایات دی ہیں۔

انہوں نے علما سے کہا کہ عوام کے گھروں میں نماز ادا کرنے سے کرونا کا پھیلاؤ روکنے میں مدد ملے گی۔

ان کا کہنا تھا کہ بیماری روکنے کا واحد طریقہ سماجی فاصلہ قائم رکھنا ہے۔ اس کے لیے عوام کو اہم کردار ادا کرنا ہے۔

ایوان صدر سے جاری اعلامیے کے مطابق علما نے یقین دلایا کہ کروانا وائرس کے حوالے سے حکومت کی ہدایات پر عمل کیا جائے گا.

اس سے قبل باجماعت نماز اور جمعے کے اجتماعات سے متعلق علما نے ایک اعلامیہ جاری کیا تھا کہ مساجد کھلی رکھی جائیں گی تاہم باجماعت نماز اور جمعے کی نماز کے دورانیے کو کم کر دیا جائے گا۔

اس سے قبل پاکستان کے صدر نے مصر کی معروف دینی درس گاہ جامعۃ الازھر سے باجماعت نماز کے حوالے سے فتوی جاری کرنے کا کہا تھا۔

جس پر جامعۃ الازھر کی سپریم علما کونسل نے فتویٰ جاری کیا تھا کہ انسانی زندگیوں کے تحفظ اور وبا سے بچنے کے لیے باجماعت نماز اور نمازِ جمعہ کی ادائیگی گھروں پر کی جائے۔

19:18 26.3.2020

'پاکستانی کشمیر میں بڑے پیمانے پر ٹیسٹس کے لیے کِٹس دستیاب نہیں'

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے وزیر برائے ہنگامی صورت حال و شہری دفاع احمد رضا قادری نے کہا ہے کہ بڑے پیمانے پر ٹیسٹس کے لیے کِٹس ہی دستیاب نہیں ہیں۔

وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ کرونا وائرس کے کیسز کی تعداد کم ہونے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ کشمیر کے لوگوں میں مدافعتی نظام کی مضبوطی بھی ہے جب کہ ہمارے لوگ جفاکش اور محنتی ہیں۔

وزیر برائے ہنگامی صورت حال و شہری دفاع نے بتایا کہ بڑے پیمانے پر ٹیسٹس کے لیے کِٹس خریدنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

کشمیر کی مرکزی یونیورسٹی کے ڈین شعبہ ہیلتھ سائنسز ڈاکٹر بشیر کانٹھ نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ پاکستان میں کرونا وائرس کے متاثرین کی تعداد بڑھ رہی ہے۔ ایسے میں کشمیر میں اب تک صرف دو کیسز ہی سامنے آنا قدرت کی مہربانی ہے۔

انہوں نے کہا کہ بڑے پیمانے پر لوگوں کے ٹیسٹ ہوں تو تب پتہ چلے گا کہ اصل صورت حال کیا ہے۔

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت نے تین ہفتوں کے لیے لاک ڈاؤن کر دیا ہے اس کے باوجود بڑی تعداد میں لوگ پاکستان کے مختلف علاقوں سے واپس کشمیر پہنچے ہیں۔ رپورٹس کے مطابق ان افراد کی باقاعدہ اسکریننگ نہیں کی گئی۔

جس سے خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ پاکستان کے مختلف علاقوں سے آنے والوں کے ذریعے کرونا وائرس پھیلنا شروع نہ ہو جائے۔

لاک ڈاؤن کے اعلان سے قبل چند روز میں یورپی ممالک سے چار ہزار سے زائد کشمیری تارکین وطن واپس آئے تھے ان افراد کی بھی کسی قسم کی اسکریننگ نہیں کی گئی۔

18:59 26.3.2020

پاکستانی کشمیر میں کرونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد 2 ہوگئی

پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کے محکمہ صحت کے مطابق کرونا وائرس کے شبہے میں چار مزید افراد کے ٹیسٹ کیے گئے۔ ان افراد کے ٹیسٹ نیشنل انسٹیٹیوٹ آف ہیلتھ سائنسز کو بھیج دیے ہیں۔

محکمہ صحت عامہ کی رپورٹ کے مطابق کشمیر میں اب تک کرونا وائرس کے شبہے میں کل 83 افراد کے ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔ جن میں سے 59 افراد کے ٹیسٹ نتائج آ چکے ہیں۔ جن میں سے 57 افراد میں کرونا وائرس کی موجود نہیں تھا جب کہ 2 افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ جن افراد میں کرونا وائرس کی تصدیق ہوئی ہے انہیں میرپور میں قرنطینہ سینٹر منتقل کر دیا گیا ہے۔

محکمہ صحت کے مطابق 24 افراد کے ٹیسٹ کے نتائج آنا ابھی باقی ہیں۔ ان کی رپورٹ آئندہ ایک دو روز میں موصول ہو جائے گی۔

18:46 26.3.2020

لاہور ہائی کورٹ: معمولی جرائم میں قید افراد کے کیسز ترجیحی بنیاد پر سننے کا حکم

لاہور ہائی کورٹ نے معمولی جرائم میں قید افراد کے کیسز کو ترجیحی بنیادوں پر سننے کا حکم دیا ہے۔

عدالت نے یہ حکم نامہ کرونا وائرس کے پھیلاو کو روکنے کے لیے جاری کیا ہے۔

چیف جسٹس لاہور ہائی کورٹ جسٹس قاسم خان کی ہدایت پر ڈائریکٹر جنرل ڈسٹرکٹ جوڈیشری ملک مشتاق احمد اوجلہ نے صوبہ پنجاب تعینات تمام سیشن ججز اور جیل سپرنٹنڈنٹس کو ایک مراسلہ لکھا ہے۔

مراسلے میں ہدایت کی گئی ہے کہ کرونا وائرس سے بچاؤ کے لیے معمولی نوعیت کے مقدمات میں قید ملزمان کی ضمانت کی درخواستیں متعلقہ سپرنٹنڈنٹس جیل کو دائر کریں۔

متعلقہ سیشن ججز کو بھی ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ ضمانت کی درخواستیں متعلقہ ٹرائل میں سماعت کے لیے مقرر کریں۔

مراسلے میں واضح کیا گیا ہے کہ دہشت گردی کے مقدمات میں سزا پانے والے یا زیر ٹرائل ملزموں پر ان ہدایات کا اطلاق نہیں ہو گا۔

عدالتی ہدایات پر وائس چیئرمین پاکستان بار کونسل عابد ساقی کہتے ہیں کہ معمولی جرائم میں قید قیدیوں کی رہائی یا ضمانتوں کو آسان نہیں بنایا گیا بلکہ اِس میں بہت سے پیچیدگیاں ہیں۔

ان کے بقول ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ عدالتیں جیلوں کے اندر ہی جوڈیشل افسر مقرر کر دیتیں جو جیل سپرنٹنڈنٹس کے ساتھ مل کر موقع پر ہی فیصلے کرتے۔ ایسی ضمانتوں میں مجرمان کے گھر والوں کو شامل کرنا پڑے گا اور وکلا کو بھی عدالتوں میں پیش ہونا پڑے گا۔ بات وہی میل ملاپ والی آ جائے گی۔

انہوں نے کہا کہ وکلا صاحبان کرونا وائرس اور حکومتی لاک ڈاؤن کی وجہ سے صرف ضروری کیسز میں عدالتوں میں پیش ہو رہے ہیں۔ عدالت کو اِس سارے عمل کو بہت زیادہ آسان بنانا چاہیے تھا۔

واضح رہے اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ پہلے ہی ایسے قیدیوں کی رہائی کے بارے میں احکامات جاری کر چکے ہیں۔

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG