- By سدرہ ڈار
'کوشش ہے ماسک کم قیمت پر لوگوں کو فراہم کریں'
کرونا وائرس کے باعث پاکستان میں ماسک کی طلب میں اضافہ ہو گیا ہے۔ ایک طرف جہاں اس وبا سے کاروبار متاثر ہوا ہے وہیں ایک گارمنٹ فیکٹری نے کینسل ہونے والے آرڈرز کی جگہ ماسک بنانے کا کام شروع کر دیا ہے۔ یہ ماسک کیسے تیار ہو رہے ہیں؟ مزید جانیے سدرہ ڈار کی ڈیجیٹل رپورٹ میں
کرونا وائرس: اپنا علاج خود کرنا نقصان دہ ہو سکتا ہے
ان دنوں کرونا وائرس کی وجہ سے گھروں میں بند ہوجانے والے لوگوں کے لیے اسپتال جانے یا میڈیکل اسٹورز پر جا کر دوائیاں خریدنے کی سہولت محدود ہو گئی ہے۔
ایسے میں بہت سے لوگ خود میں کرونا جیسی کسی بھی علامت کو پا کر ڈاکٹر سے مشورے کے بغیر ازخود ہی ایسی ادویات کا استعمال کر رہے ہیں جو انہیں گھر پر آسانی سے دستیاب ہیں۔ یا جن کے بارے میں انہیں سوشل میڈیا کے کسی غیر مستند ذریعے سے یا کسی بھی دوسرے ذریعے سے یہ معلوم ہوا ہے کہ وہ دوا ان علامات کے لیے کارگر ہے۔
ایسی ہی ایک دوا کلورو کوئین ہے، جس کے بارے میں یہ مشہور ہو گیا ہے کہ یہ کرونا وائرس کے علاج کے لئے مفید ہے۔
لیکن، سوال یہ ہے کہ کیا ان ادویات کو ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر استعمال کیا جانا چاہیے؟ اس بارے میں ڈاؤ یونیورسٹی آف ہیلتھ اینڈ سائنسز کراچی کے ہیڈ آف مالی کیولر پیتھالوجی پروفیسر ڈاکٹر سعید خان نے ٹیلی فون پر ایک انٹرویو میں بتایا کہ ایسا کرنا بالکل مناسب نہیں ہے۔
انھوں نے کہا کہ اب تک ریسرچ کے مطابق، کوئی ایسی مستند دوا حتمی طور پر تیار نہیں ہوئی جو کرونا وائرس کو مکمل طور پر ختم کرنے کے لیے موثر اور مستند قرار دی گئی ہو۔
عالمی معیشت کو متحرک رکھنے کے لیے، جی ٹوئنٹی گروپ پانچ کھرب ڈالر دے گا
دنیا کے امیر ترین 20 ممالک کی تنظیم 'جی ٹوئنٹی' کے سربراہ اجلاس میں شرکت کرنے والے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ وہ کرونا وائرس سے ہونے والی معاشی تنزلی کا مقابلہ کرنے کے لیے عالمی معیشت میں پانچ کھرب ڈالر سے زیادہ کا اضافہ کریں گے، تاکہ معیشت متحرک رہے۔
اس کے علاوہ اجلاس کے شرکا نے صحت سے متعلق خسارے میں ایک دوسرے کو شریک کرنے اور عالمی تجارت میں ہونے والے انتشار کو دور کرنے پر اتفاق کیا ہے۔
اس اجلاس میں رہنما بالمشافہ شامل نہیں ہوئے بلکہ ویڈیو کانفرنس کے ذریعے اس میں شمولیت اختیار کی۔ اجلاس کے بعد جاری ہونے والے مشترکہ بیان میں کہا گیا ہے کہ اس عالمی وبا سے نمٹنے کے لیے یکجہتی کے ساتھ، ایک شفاف، مربوط، اور سائنسی بنیادوں پر استوار ایک وسیع تر لائحہ عمل کی ضرورت ہے۔
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ وہ جی ٹوئنٹی اجلاس کی کارروائی پر جمعرات ہی کے روز ایک پریس کانفرنس میں بات کریں گے، جس میں وائٹ ہاؤس کی کرونا وائرس سے متعلق ٹاسک فورس کے ارکان بھی شامل ہوں گے۔
کرونا وائرس نے 33 لاکھ امریکی بے روزگار کر دیے
کرونا وائرس کے پھیلاؤ نے لوگوں سے ان کا روزگار چھیننا شروع کر دیا ہے۔ 1982 کے بعد امریکہ میں پہلی بار بے روزگاروں کی تعداد 33 لاکھ کے لگ بھگ ہو گئی ہے۔ اس کی وجہ کرونا وائرس کے باعث کاروباروں کی بندش ہے۔
اس ہفتے امریکہ میں بے روزگاری الاؤنس کے لیے 32 لاکھ 28 ہزار 300 لوگوں نے لیبر ڈپارٹمنٹ میں اپنی درخواستیں جمع کرائیں۔ بے روزگار ہونے والے درخواست گذار افراد کی تعداد ماضی کے مقابلے میں پانچ گنا بڑھ چکی ہے جب کہ اس میں تیزی سے اضافہ متوقع ہے۔
کرونا وائرس جس تیزی سے پھیل رہا ہے، اسے دیکھتے ہوئے ماہرین کا خیال ہے کہ اس تعداد میں کئی گنا اضافہ ہو جائے گا۔ کیونکہ امریکہ بھر میں ریستوران، ہوٹل، سینما گھر اور ایئر لایئنز بند ہیں اور ان شعبوں میں کام کرنے والے لاکھوں کارکن اپنے گھروں میں بیٹھے ہیں۔ کئی کمپنیوں نے اپنے جزوقتی ملازموں کو نکال دیا ہے اور بہت سے کل وقتی ملازمین بھی چھانٹی کی زد میں آ گئے ہیں۔
بعض ماہرین اقتصادیات کا خیال ہے کہ بے روزگاری کی شرح 13 فی صد سے اوپر جا سکتی ہے، جو 2009 کی کساد بازاری کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہو گی۔ اس دور میں یہ سطح 10 فی صد تھی۔