امریکہ میں کرونا کیسز کی تعداد چین اور اٹلی سے بھی زیادہ
امریکہ میں کرونا وائرس کے کیسز کی تعداد 83 ہزار سے تجاوز کر گئی ہے جو چین اور اٹلی میں رپورٹ ہونے والے تصدیق شدہ کیسز سے بھی زیادہ ہے۔ اس طرح کرونا وائرس کے کیسز کی سب سے زیادہ تعداد امریکہ میں ہے۔
امریکہ میں کرونا وائرس سے جمعرات تک ہلاکتیں 1178 ہو چکی ہیں۔
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ کرونا وائرس کے خلاف جاری جنگ میں ہم معاشی، سائنسی، طبی اور عسکری وسائل استعمال کر رہے ہیں تاکہ اس وبا کے پھیلاؤ سے امریکی شہریوں کو محفوظ رکھا جا سکے۔
برطانوی خبر رسال ادارے 'رائٹرز' کے مطابق امریکہ میں طبی سہولیات کی کمی دیکھی جارہی ہے جب کہ کرونا وائرس کی تشخیص کے لیے درکار کٹس بھی مطلوبہ تعداد میں دستیاب نہیں ہیں۔
امریکہ میں کرونا وائرس کا مرکز سمجھے جانے والے شہر نیویارک کے اسپتال اور کولمبیا یونیورسٹی میڈیکل سینٹر میں ابتدائی طور پر دو مریضوں کے لیے ایک ہی وینٹی لیٹر کا استعمال شروع کر دیا گیا ہے۔
کرونا وائرس: بڑے کھلاڑیوں کے عطیات
دنیا بھر میں پھیلی کرونا وائرس کی وبا کے خلاف جہاں کاروباری شخصیات عطیات کا اعلان کر رہی ہیں وہیں فن کاروں کے بعد کرکٹرز اور فٹ بالر بھی اس کام میں پیش پیش نظر آرہے ہیں۔
بنگلہ دیش کرکٹ ٹیم کے کھلاڑیوں نے کرونا کے خلاف جنگ میں اپنی آدھی تنخواہ عطیہ کرنے کا اعلان کیا ہے جب کہ مایہ ناز فٹ بالر لیونل میسی نے بھی 10 لاکھ یورو عطیہ کیے ہیں۔
بنگالی کرکٹرز نے سوشل میڈیا پر اپنے مشترکہ بیان میں ان عطیات کا اعلان کیا۔
رقوم عطیہ کرنے والے 27 کھلاڑیوں میں سے 17 بنگلہ دیش کرکٹ بورڈ کے کنٹریکٹ یافتہ ہیں جبکہ باقی 10 حال ہی میں قومی ٹیم کی طرف سے کھیل چکے ہیں۔
کھلاڑیوں کا کہنا ہے کہ پوری دنیا اس وقت کرونا وائرس کی وبا کا شکار ہے، یہ وبا بنگلہ دیش میں بھی تیزی سے پھیل رہی ہے۔ لہذٰا ہم بطور کرکٹرز عوام کو سوشل میڈیا پر آگاہی دے رہے ہیں کہ اس وبا سے تحفظ کے لیے تمام ضروری اقدامات کریں۔
کرونا وائرس کی عالمی وبا سے بچاؤ کے خصوصی کیمپ
کرونا وائرس کے خلاف احتیاطی تدابیر اختیار کرتے ہوئے دنیا بھر میں کروڑوں لوگ گویا اپنے گھروں میں محصور ہو کر رہ گئے ہیں اور ان کے روز و شب بیشتر ان کی رہائش گاہوں تک محدود ہیں۔ تاہم، اس مشکل صورتحال نے بعض ایسے کاروباروں کے لئے جنھیں بچاؤ کے کیمپ سے تعبیر کیا گیا ہے منافع کا سامان مہیا کر دیا ہے۔
ان ہی میں فورٹی چوٹ رینچ بھی شامل ہے، جس سے بہت سے لوگ رجوع کر رہے ہیں اور اس کی رکنیت حاصل کر رہے ہیں۔
کرونا وائرس نے جب کہ عالمی وبا کی شکل اختیار کر لی ہے، اس قسم کی پناہ گاہیں حوصلے اور راحت کا سامان ہیں۔ یہاں وہ تمام سہولتیں مہیا کی گئی ہیں جو روز مرہ زندگی میں ایک انسان کو درکار ہوتی ہیں۔ ان سہولتوں کا اہتمام لمبے عرصے تک کے لئے موجود ہے۔
وائس آف امریکہ کے لئے پینیلوپولو نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ اس قسم کی پناہ گاہیں امریکی ریاست کولوراڈو کے ایک دیہی علاقے اور ویسٹ ورجینیا میں قائم ہیں۔
کیمپ کے منیجر ڈیو ملیر کا کہنا ہے کہ اس کی ممبرشپ فیس فی کس ہزار ڈالر ہے۔ اس کے گرد بڑا سا احاطہ تعمیر کیا گیا ہے جہاں رہائش کی سہولت موجود ہے۔ کھانے پینے کی اشیا کا بڑا ذخیرہ کیا گیا ہے جو لوگوں کی دسترس میں ہے۔
- By قمر عباس جعفری
کم آمدنی کے حامل لوگوں کے لیے حکومتی امداد، تجزیہ کار کیا کہتے ہیں؟
پاکستان میں کرونا کے باعث مالی نقصان اٹھانے والے کم آمدنی کے حامل لوگوں کے لیے چار ماہ تک تین ہزار روپے ماہانہ کی مدد ایک ایسے ملک میں جہاں بیشتر معیشت غیر دستاویزی ہے یعنی اس کا کوئی ریکارڈ نہیں ہوتا، مستحق لوگوں تک کس طرح پہنچائی جائے گی۔
یہ ایک بڑا سوال ہے۔ دوسرا بڑا سوال یہ ہے کہ کیا یہ رقم ان لوگوں کے لیے واقعی کافی ہوگی جو اپنے چھوٹے چھوٹے کاروباروں سے بیس سے پچیس ہزار روپے ماہانہ کما کر اپنی گزر بسر کرتے تھے، جو لاک ڈاؤن کے سبب اب بالکل بند پڑے ہیں۔
ان سوالوں کا جواب دیتے ہوئے، وزیرِ اعظم کے ترجمان ندیم افضل چن نے بتایا ہے کہ اس کے لیے لیبر ڈیپارٹمنٹ میں رجسٹرڈ مزدوروں اور مختلف علاقوں میں چھوٹے کاروبار کرنے والوں یا محنت مزدوری کرنے والوں اور ریڑھیاں لگانے والوں کے مقامی انتظامیہ کے پاس موجود ریکارڈ سے استفادہ کیا جائے گا۔
انھوں نے کہا کہ اس کے علاوہ بینظیر اِنکم سپورٹ پروگرام میں رجسٹرڈ لوگ بھی اس میں شامل ہو جائیں گے اور یوں کم از کم 80 فیصد مستحقین تک رسائی ہو جائے گی جن کو یہ مدد دی جا سکے گی۔