- By سہیل انجم
بھارت: کرونا وائرس کے متاثرین کے لیے اقتصادی پیکج کا اعلان
بھارت کی حکومت نے کرونا وائرس کے باعث لاک ڈاؤن سے متاثر ہونے والے غریب عوام کے لیے 1.7 لاکھ کروڑ روپے (تقریباً 23 بلین ڈالرز) کے امدادی پیکج کا اعلان کیا ہے۔ اس کے تحت طبی عملے کو انشورنس کی تمام سہولتیں میسر آسکیں گی۔
امدادی پیکیج کے تحت تقریباً 800 ملین افراد کو 'ڈائرکٹ ٹرانسفر اسکیم' کے تحت تین ماہ تک نقدی کے علاوہ مفت راشن اور گیس فراہم کی جائے گی۔
مہاتما گاندھی نیشنل رورل ایمپلائمنٹ ایکٹ (منریگا) کے تحت 30 لاکھ غریبوں، بزرگ شہریوں، بیواؤں اور معذوروں کو ایک ہزار روپے کی امداد اور کرونا وائرس کے مریضوں کے علاج میں مصروف فرنٹ لائن طبی عملے کے ہر شخص کا پچاس لاکھ روپے کا انشورنس کیا جائے گا۔
ریاستی حکومتوں سے کہا گیا ہے کہ وہ 'بلڈنگ اینڈ کنسٹرکشن ورکرس ویلفیئر فنڈ' کا استعمال کرتے ہوئے مزدوروں کو ریلیف فراہم کریں۔ اس کے تحت 87 ملین افراد کو اپریل میں دو، دو ہزار روپے کی پہلی قسط دی جائے گی۔
- By یوسف جمیل
بھارتی کشمیر میں نماز جمعہ کے محدود اجتماعات
کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں گزشتہ نو دن سے جاری لاک ڈاؤن کی وجہ سے ہر طرف سناٹا ہے۔ لوگوں میں اضطراب ہے اور وہ خوف زدہ بھی ہیں۔ لداخ سمیت بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں کووڈ-19 مریضوں کی تعداد 30 تک پہنچ گئی ہے۔ کرونا وائرس سے بھارتی کشمیر میں اب تک ایک ہلاکت ہوئی ہے۔
بھارت میں مجموعی طور پر کرونا وائرس کے مریضوں کی تعداد 730 تک پہنچ گئی ہے۔ جن میں 39 افراد دارالحکومت نئی دہلی میں ہیں۔ بھارت میں 17 افراد اس وائرس سے ہلاک ہو چکے ہیں۔
لاک ڈاؤن کی وجہ سے ڈاکٹروں اور علمائے کرام کی ہدایات پر بھارتی کشمیر کی بیشتر مساجد میں نماز جمعہ کے اجتماعات نہیں ہوئے۔ بعض مقامات پر یہ اجتماعات روکنے کے لیے پولیس اور انتظامیہ کو مداخلت بھی کرنا پڑی۔
بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر کے مختلف اضلاع کے ڈپٹی کمشنرز نے پہلے ہی مساجد، خانقاہوں درگاہوں اور مزاروں کے ساتھ ساتھ ہندوؤں اور سکھوں کی عبادت گاہوں کو بند کرنے کے احکامات صادر کیے تھے۔
سری نگر کی درگاہ حضرت بل، تاریخی جامع مسجد اور خانقاہِ نقشبندیہ کے منتظمین نے پہلے ہی انہیں اجتماعی عبادت کے لیے بند کرنے کا اعلان کیا تھا۔ مسلم اکثریتی وادئ کشمیر کے کئی دوسرے علاقوں میں بھی بڑی مساجد کو رضاکارانہ طور پر بند کیا گیا تھا۔
برطانوی وزیر اعظم بورس جانسن بھی کرونا وائرس کا شکار
برطانیہ کے وزیر اعظم بورس جانسن بھی کرونا وائرس میں مبتلا ہو گئے ہیں۔
برطانوی خبر رساں ادارے 'بی بی سی' کے مطابق بورس جانسن نے خود ساختہ تنہائی اختیار کر لی ہے۔
برطانوی وزیر اعظم نے برطانیہ کے چیف میڈیکل آفیسر کی تجویز پر کرونا وائرس کا ٹیسٹ کرایا جو مثبت آیا ہے۔
برطانوی وزیر اعظم کے دفتر 'دس ڈاؤننگ اسٹریٹ' کے مطابق وزیر اعظم میں درمیانے درجے کی علامات ہیں۔ البتہ وہ قرنطینہ سے سرکاری فرائض سرانجام دیتے رہیں گے۔
کرونا وائرس: 'ہم کچھ نہیں کر سکتے، آپ کو مقابلہ کرنا پڑے گا'
کرونا وائرس کا پھیلاؤ چین کے شہر ووہان سے شروع ہوا تھا۔ جب یہ وبا پھیلی تو ووہان میں سیکڑوں پاکستانی طلبہ مقیم تھے جو تقریباً دو ماہ تک وہیں محصور رہے۔ اس عرصے میں انہیں کن تجربات کا سامنا کرنا پڑا اور انہوں نے کیا حالات دیکھے؟ جانتے ہیں ایک پاکستانی طالبہ کی زبانی