امریکہ میں کام کے خواہش مند ڈاکٹروں کے لیے مواقع
کرونا وائرس سے متاثر ملکوں میں امریکہ سرفہرست ہے جہاں کیسز کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ ہو چکی ہے۔ ہیلتھ کئیر سسٹم پر دباؤ کی وجہ سے امریکی انتظامیہ نے دنیا بھر میں ایسے ڈاکٹرز اور طبی عملے کی حوصلہ افزائی کی ہے جو امریکہ میں کام کرنے کے خواہش مند ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ کی ویب سائٹ کے مطابق، طب کے شعبے سے تعلق رکھنے والے پیشہ ور افراد ویزا اپائنمنٹ کے لیے قریب ترین امریکی سفارت خانے یا قونصلیٹ سے رابطہ کریں۔
ایسے لوگوں کی حوصلہ افزائی کی گئی ہے جن کے پاس پہلے سے امیگرنٹ یا نان امیگرنٹ امریکی ویزا ہے یا منظور شدہ ایکس چینج وزیٹر پروگرام میں اہلیت کا سرٹیفکیٹ ہے، خاص طور پر ایسے عملے کو ترجیح دی جائے گی جو کرونا وائرس کے مریضوں کے علاج کا تجربہ رکھتے ہیں۔
امریکہ میں موجود غیر ملکی ماہرین طب سے کہا گیا ہے کہ وہ اپنے قیام میں اضافے کے لیے پروگرام اسپانسر سے رابطہ کریں۔ جو لوگ قیام میں اضافہ یا ویزے کے اسٹیٹس میں تبدیلی چاہتے ہیں، انھیں سٹیزن اینڈ امیگریشن سروسز سے رجوع کرنے کا مشورہ دیا گیا ہے۔
اس سلسلے میں تفصیلات امریکی محکمہ خارجہ اور امریکی سفارت خانوں کی ویب سائٹس پر تلاش کی جا سکتی ہیں۔
صدر ٹرمپ نے 2 ہزار ارب ڈالر کے بل پر دستخط کردیے
امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جمعہ کی شام دو ہزار ارب ڈالر کے ہنگامی اخراجات کے بل پر دستخط کردیے۔ وہ پہلے ہی کہہ چکے ہیں کہ جیسے ہی یہ بل ان کی میز پر پہنچے گا، وہ اس پر دستخط کر دیں گے۔ اس سے پہلے امریکی ایوان نمائندگان نے جمعہ کی صبح اور سینیٹ نے بدھ کی رات اس بل کو منظور کیا تھا۔
جمعہ کو ایوان نمائندگان کا اجلاس شروع ہوا تو کینٹکی کے ری پبلکن رکن تھامس میسی نے بل کی منظوری میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش کی۔ انھوں نے موقف اختیار کیا کہ تمام ارکان انفرادی طور پر اس بارے میں رائے کا اظہار کریں لیکن دونوں جماعتوں کے قائدین نے ان کی کوشش ناکام بنادی اور وائس ووٹ کے ذریعے بل منظور کرلیا گیا۔
کانگریس میں بل پیش کرنے سے پہلے وائٹ ہاؤس، ری پبلکن پارٹی اور ڈیموکریٹس نے اس پر طویل مذاکرات کیے تھے جس کے بعد مشترکہ طور پر اسے پیش کرکے منظور کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔ ان مذاکرات میں وزیر خزانہ اسٹیو منوچن، ری پبلکن سینیٹر مچ میک کونل اور ڈیموکریٹ سینیٹر چک شومر نے اہم کردار ادا کیا تھا۔
یو ایس ایڈ پاکستان سمیت 64 ملکوں کو اضافی امداد دے گی
یو ایس ایڈ نے اعلان کیا ہے کہ کورنا وائرس سے متاثر 64 ممالک کو اضافی فنڈنگ فراہم کی جائے گی۔ ان ملکوں میں پاکستان بھی شامل ہے۔
امریکی وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے ایک بیان میں کہا کہ مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے بڑی خوشی ہو رہی ہے کہ امریکہ 274 ملین ڈالر کی اضافی فنڈنگ فراہم کررہا ہے۔
متاثرہ ممالک اس فنڈنگ سے حفاظتی خدمات، پانی، نکاسی آب، صفائی ستھرائی، خوراک اور روز مرہ اشیا کی فراہمی کے نظام کو بہتر بنا سکیں گے۔
یو ایس ایڈ کے نائب منتظم اعلیٰ بونے کلک نے کہا کہ جن 64 ملکوں کو یہ امداد دی جائے گی ان میں پاکستان اور افغانستان شامل ہیں۔
امریکی حکومت نے اس نئی امداد کا اعلان ایک ایسے موقع پر کیا جب چین مختلف ملکوں کو امداد فراہم کرنا شروع کرچکا ہے، جس میں طبی ساز و سامان اور طبی عملہ شامل ہے۔
یو ایس ایڈ کے ڈائریکٹر جیمز رچرڈسن نے کہا ہے کہ چین کی کیمونسٹ پارٹی کی یہ خصوصی ذمہ داری ہے کہ وہ پوری دنیا کو بغیر کسی شرط کے امداد فرام کرے کیوں کہ سب کو یہ علم ہے کہ ووہان میں جو کچھ ہوا اس کو چھپانے کے نتیجے میں کرونا نے وبائی مرض کی شکل اختیار کی۔
امریکی طیارہ بردار بحری جہاز میں کرونا وائرس پھوٹ پڑا
امریکہ کے طیارہ بردار بحری جہاز تھیوڈور روزویلٹ پر کرونا وائرس پھوٹ پڑا ہے اور بحرالکاہل میں موجود اس جہاز پر کم از کم 23 افراد میں وائرس کی تشخیص ہوئی ہے۔
میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ حکام نے جہاز کے پورے عملے کو ساحل پر قرنطینہ میں منقتل کردیا ہے۔ ایک ہفتہ پہلے تین فوجیوں میں وائرس ٹیسٹ پازیٹو آنے کے بعد انہیں جہاز سے باہر بھیج دیا گیا تھا۔ یہ امریکی نیوی کے کسی بحری جہاز پر کرونا وائرس پھوٹنے کا پہلا واقعہ ہے۔
نیول چیف آپریشنز ایڈمرل مائیک گلڈے نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا کہ کوویڈ 19 کے مزید پازیٹو کیسز سامنے آئے ہیں۔ کوئی بھی فوجی سخت بیمار نہیں ہے اور کسی کو بھی اسپتال داخل کرانے کی ضرورت نہیں پڑی۔
بیان کے مطابق جہاز پر سوار مزید 5000 فوجیوں کے ٹیسٹ کیے جائیں گے۔ یہ جہاز گوام میں لنگر انداز ہے۔