تمام ملکوں کو کرونا وائرس اور معاشی دباؤ کا یکساں سامنا ہے
جمعرات کے روز دنیا کے بڑے صنعتی ملکوں کے رہنماؤں نے ٹیلی کانفرنس کے ذریعے ایسے میں کرونا وائرس کے ساری دنیا میں پھیلاؤ پر تبادلہ خیال کیا جب کہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ دنیا کی یہ بڑی معیشتیں آنے والے دنوں میں اس وبا کا بڑا مرکز بننے جارہی ہیں۔
نامہ نگار پاسٹے ویڈاسوارا نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ نیو یارک میں نیشنل گارڈز ایک بڑے کنونشن سینٹر کو اسپتالوں میں بستروں کی کمی کو پورا کرنے کے لئے ایک عارضی طبی سہولت میں تبدیل کرنے کا کام انجام دے رہے ہیں اور اسی نوعیت کے انتظامات امریکہ کے دوسرے علاقوں میں بھی کئے جا رہے ہیں۔ کیونکہ امریکہ بھی ان بڑی معیشتوں میں سے ایک ہے جن کے بارے میں خیال ہے کہ آنے والے دنوں میں وہ اس مرض کا مرکز بننے والی ہیں اور یہاں مریضوں کی تعداد چین سے بھی زیادہ ہوتی جا رہی ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ ان اعداد و شمار کو درست نہیں سمجھتے۔ ان کا کہنا ہے کہ آپ کو پتہ نہیں ہے کہ درحقیقت چین میں کتنے مریض تھے۔ انہوں نے کہا کہ چین کو اپنے مریضوں کی صحیح تعداد بتانی چاہیئے۔ اور انہوں نے ملکی معیشت کو بچانے کے لئے ایک بار پھر ملک کے کچھ حصوں کو کھولنے کا عندیہ دیا ہے۔ لیکن، صحت عامہ کے ماہرین سماجی فاصلے کی گائیڈ لائنز میں جلد ہی کسی نرمی کے خلاف خبردار کر رہے ہیں۔
تاریخی مسجدوں کے شہر استنبول میں پہلی بار مساجد بند
ترکی کا شہر استنبول کرونا وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لئے ملک کی کوششوں کا مرکز ہے۔ ترک حکام یہاں پابندیاں بڑھا رہے ہیں، سکولوں اور تفریحی مقامات بند کر دیے گئے ہیں اور اب نمازیوں کو مساجد آنے سے روکا جا رہا ہے۔ یہ شہر کیسے اپنا طرز زندگی بدل رہا ہے، دیکھئے اس رپورٹ میں
یورپ میں کرونا وائرس کے پھیلاؤ میں تیزی، حکومتیں بے بس
دنیا کے دوسرے ملکوں کی طرح یورپی ممالک میں بھی کرونا وائرس تیزی سے پھیل رہا ہے۔ اٹلی، اسپین اور جرمنی کے بعد اب بقیہ یوروپی ملکوں میں بھی صورت حال تیزی سے بگڑ رہی ہے۔
لندن سے اس بارے میں گفتگو کرتے ہوئے برطانوی ایوان بالا کے رکن لارڈ نذیر نے وائس آف امریکہ سے کہا کہ یورپ کی صورت حال بگڑتی جا رہی ہے۔ خیال یہ ہے کہ جب یہ وبا ختم ہو گی تو بہت زیادہ نقصان ہو چکا ہو گا جس کا اس وقت درست طور پر اندازہ بھی نہیں لگایا جا سکتا۔
وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دنیا کی قیادت کو ابھی سے مل بیٹھ کر یہ سوچنا ہو گا کہ کیا لائحہ عمل اختیار کیا جائے اور اگر کوئی مشترکہ لائحہ عمل اختیار نہیں کیا گیا تو پھر دنیا کو اس وبا کے بعد بڑے پیمانے پر کساد بازاری کا سامنا کرنا پڑے گا۔
انہوں نے کہا کہ برطانیہ میں تیزی سے یہ مرض پھیل رہا ہے جہاں وزیر اعظم سمیت بہت سے لوگ متاثر ہو چکے ہیں۔ خاص طور پر وہاں آباد غیر ملکی اس کی زد میں آ رہے ہیں۔
چین کے منہ موڑنے سے امریکی کسان پریشان
چین تاریخی طور پر امریکی زرعی پیداوار کا سب سے بڑا خریدار ہے۔ لیکن کرونا وائرس کے باعث چین اپنے ذخائر میں ریکارڈ کمی لا رہا ہے جس کے نتیجے میں امریکی پیداوار کی خریداری میں کمی ہو رہی ہے۔ چین امریکہ تجارتی معاہدے کے باوجود کرونا وائرس نے امریکی کسانوں کے لئے نئی مشکل کھڑی کر دی ہے۔