کوئٹہ: لاک ڈاؤن پر عمل نہ کرنے والوں کے خلاف پولیس کا کریک ڈاؤن
کوئٹہ میں لاک ڈاؤن کے احکامات پر عمل درآمد جاری ہے۔ پولیس غیر ضروری طور پر گھروں سے نکلنے والوں کو گرفتار کر کے چالان کر رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ آگاہی مہم کے باوجود بعض لوگ لاک ڈاؤن پر عمل نہیں کر رہے۔ اس صورتِ حال میں مزید سخت اقدامات بھی کیے جا سکتے ہیں۔ دیکھیے مرتضیٰ زہری کی رپورٹ
امریکی وزیرِ خارجہ کی اسلام آباد کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسر کی تعریف
امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے اسلام آباد کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسر ضعیم ضیا کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔
مائیک پومپیو نے ٹوئٹر پر جاری اپنے ایک پیغام میں کرونا وائرس کے خلاف ان کے اقدامات کو سراہا۔
امریکی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر ضعیم ضیا کرونا وائرس کے خلاف شاندار کام کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر ضعیم ضیا کی حالیہ کاوشوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔
کرونا وائرس نے ڈھول بجانے والوں کو بھی بیروزگار کر دیا
کرونا وائرس نے زندگی کے ہر شعبے کو بری طرح متاثر کیا ہے اور مزدور اور ہنرمند سب پریشان ہیں۔ پشاور کی سڑکوں پر ڈھول بجانے والے جگہ جگہ کھڑے گاہکوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ شادی بیاہ کی تقریبات پر پابندی کے بعد خوشی کے موقع پر رونق لگانے والے یہ ہنرمند پریشان تو ہیں لیکن ناامید نہیں۔ عمر فاروق کی رپورٹ
تمام ملکوں کو کرونا وائرس اور معاشی دباؤ کا یکساں سامنا ہے
جمعرات کے روز دنیا کے بڑے صنعتی ملکوں کے رہنماؤں نے ٹیلی کانفرنس کے ذریعے ایسے میں کرونا وائرس کے ساری دنیا میں پھیلاؤ پر تبادلہ خیال کیا جب کہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ دنیا کی یہ بڑی معیشتیں آنے والے دنوں میں اس وبا کا بڑا مرکز بننے جارہی ہیں۔
نامہ نگار پاسٹے ویڈاسوارا نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ نیو یارک میں نیشنل گارڈز ایک بڑے کنونشن سینٹر کو اسپتالوں میں بستروں کی کمی کو پورا کرنے کے لئے ایک عارضی طبی سہولت میں تبدیل کرنے کا کام انجام دے رہے ہیں اور اسی نوعیت کے انتظامات امریکہ کے دوسرے علاقوں میں بھی کئے جا رہے ہیں۔ کیونکہ امریکہ بھی ان بڑی معیشتوں میں سے ایک ہے جن کے بارے میں خیال ہے کہ آنے والے دنوں میں وہ اس مرض کا مرکز بننے والی ہیں اور یہاں مریضوں کی تعداد چین سے بھی زیادہ ہوتی جا رہی ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ ان اعداد و شمار کو درست نہیں سمجھتے۔ ان کا کہنا ہے کہ آپ کو پتہ نہیں ہے کہ درحقیقت چین میں کتنے مریض تھے۔ انہوں نے کہا کہ چین کو اپنے مریضوں کی صحیح تعداد بتانی چاہیئے۔ اور انہوں نے ملکی معیشت کو بچانے کے لئے ایک بار پھر ملک کے کچھ حصوں کو کھولنے کا عندیہ دیا ہے۔ لیکن، صحت عامہ کے ماہرین سماجی فاصلے کی گائیڈ لائنز میں جلد ہی کسی نرمی کے خلاف خبردار کر رہے ہیں۔