رسائی کے لنکس

پاکستان میں کرونا سے مزید 44 اموات، مثبت کیسز کی شرح کم ہونے لگی

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں 56 ہزار 260 ٹیسٹ کیے گئے جن کے مثبت آنے کی شرح 5.36 فی صد رہی۔ 24 گھنٹوں میں ہونے والی 44 اموات کے بعد وبا سے ہونے والی مجموعی ہلاکتیں 29 ہزار 731 ہو گئی ہیں۔

11:28 28.3.2020

کوئٹہ: لاک ڈاؤن پر عمل نہ کرنے والوں کے خلاف پولیس کا کریک ڈاؤن

کوئٹہ میں لاک ڈاؤن کے احکامات پر عمل درآمد جاری ہے۔ پولیس غیر ضروری طور پر گھروں سے نکلنے والوں کو گرفتار کر کے چالان کر رہی ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ آگاہی مہم کے باوجود بعض لوگ لاک ڈاؤن پر عمل نہیں کر رہے۔ اس صورتِ حال میں مزید سخت اقدامات بھی کیے جا سکتے ہیں۔ دیکھیے مرتضیٰ زہری کی رپورٹ

لاک ڈاؤن پر عمل نہ کرنے والوں کے خلاف پولیس کا کریک ڈاؤن
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:22 0:00

11:26 28.3.2020

امریکی وزیرِ خارجہ کی اسلام آباد کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسر کی تعریف

امریکہ کے وزیر خارجہ مائیک پومپیو نے اسلام آباد کے ڈسٹرکٹ ہیلتھ افسر ضعیم ضیا کو خراج تحسین پیش کیا ہے۔

مائیک پومپیو نے ٹوئٹر پر جاری اپنے ایک پیغام میں کرونا وائرس کے خلاف ان کے اقدامات کو سراہا۔

امریکی وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا کہ ڈاکٹر ضعیم ضیا کرونا وائرس کے خلاف شاندار کام کر رہے ہیں۔ ڈاکٹر ضعیم ضیا کی حالیہ کاوشوں کو عالمی سطح پر سراہا جا رہا ہے۔

09:26 28.3.2020

کرونا وائرس نے ڈھول بجانے والوں کو بھی بیروزگار کر دیا

کرونا وائرس نے زندگی کے ہر شعبے کو بری طرح متاثر کیا ہے اور مزدور اور ہنرمند سب پریشان ہیں۔ پشاور کی سڑکوں پر ڈھول بجانے والے جگہ جگہ کھڑے گاہکوں کا انتظار کر رہے ہیں۔ شادی بیاہ کی تقریبات پر پابندی کے بعد خوشی کے موقع پر رونق لگانے والے یہ ہنرمند پریشان تو ہیں لیکن ناامید نہیں۔ عمر فاروق کی رپورٹ

کرونا وائرس نے ڈھول بجانے والے بھی بے روزگار کر دیے
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:30 0:00

09:25 28.3.2020

تمام ملکوں کو کرونا وائرس اور معاشی دباؤ کا یکساں سامنا ہے

(فائل فوٹو)
(فائل فوٹو)

جمعرات کے روز دنیا کے بڑے صنعتی ملکوں کے رہنماؤں نے ٹیلی کانفرنس کے ذریعے ایسے میں کرونا وائرس کے ساری دنیا میں پھیلاؤ پر تبادلہ خیال کیا جب کہ اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ دنیا کی یہ بڑی معیشتیں آنے والے دنوں میں اس وبا کا بڑا مرکز بننے جارہی ہیں۔

نامہ نگار پاسٹے ویڈاسوارا نے اپنی رپورٹ میں بتایا ہے کہ نیو یارک میں نیشنل گارڈز ایک بڑے کنونشن سینٹر کو اسپتالوں میں بستروں کی کمی کو پورا کرنے کے لئے ایک عارضی طبی سہولت میں تبدیل کرنے کا کام انجام دے رہے ہیں اور اسی نوعیت کے انتظامات امریکہ کے دوسرے علاقوں میں بھی کئے جا رہے ہیں۔ کیونکہ امریکہ بھی ان بڑی معیشتوں میں سے ایک ہے جن کے بارے میں خیال ہے کہ آنے والے دنوں میں وہ اس مرض کا مرکز بننے والی ہیں اور یہاں مریضوں کی تعداد چین سے بھی زیادہ ہوتی جا رہی ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ ان اعداد و شمار کو درست نہیں سمجھتے۔ ان کا کہنا ہے کہ آپ کو پتہ نہیں ہے کہ درحقیقت چین میں کتنے مریض تھے۔ انہوں نے کہا کہ چین کو اپنے مریضوں کی صحیح تعداد بتانی چاہیئے۔ اور انہوں نے ملکی معیشت کو بچانے کے لئے ایک بار پھر ملک کے کچھ حصوں کو کھولنے کا عندیہ دیا ہے۔ لیکن، صحت عامہ کے ماہرین سماجی فاصلے کی گائیڈ لائنز میں جلد ہی کسی نرمی کے خلاف خبردار کر رہے ہیں۔

مزید پڑھیے

مزید لوڈ کریں

XS
SM
MD
LG