کرونا وائرس: لاک ڈاؤن کے باعث یورپ میں گھریلو تشدد کے خدشات
یورپی ممالک میں کرونا وائرس سے بچنے کے لیے حفاظتی تدابیر کے طور پر انگنت خاندان اپنے گھروں میں محصور ہیں جس کے سبب گھریلو تشدد میں اضافے کے خدشات بڑھ گئے ہیں۔
فرانس کے خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق گھریلو تشدد کے خاتمے کے لیے سرگرم تنظیموں نے یورپ کو کرونا وائرس کا مرکز بننے کے بعد تشدد کے واقعات میں اضافے کا خدشہ ظاہر کر دیا ہے۔
خواتین کے حقوق کے لیے سرگرم جرمن تنظیم کے مطابق بہت سے لوگوں کے لیے اُن کا گھر محفوظ جگہ نہیں ہے۔ معاشرتی تنہائی کی وجہ سے تناؤ بڑھ رہا ہے۔ لہذٰا خواتین اور بچوں پر جنسی تشدد کا خطرہ بھی بڑھ رہا ہے۔
برلن سے لے کر پیرس، میڈرڈ، روم اور بریٹیسلاوا میں سرگرم خواتین کے حقوق کی تنظیموں نے بھی کم و بیش ایسے ہی خدشات ظاہر کیے ہیں۔
کرونا وائرس کے پیشِ نظر پاکستان کو درکار اضافی فنڈز کی جلد منظوری دیں گے: آئی ایم ایف
عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) نے پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان کے اعلان کردہ امدادی پیکج کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ آئی ایم ایف بورڈ انسداد کرونا اور ریلیف کے لیے پاکستان کی جانب سے مانگے گئے اضافی فنڈز کی جلد منظوری دے گا۔
عالمی مالیاتی ادارے کی مینیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جیارجیوا نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ موجودہ حالات پاکستانی معیشت کے لیے چیلنجز ہیں۔ ان حالات میں پاکستان کے ساتھ آئی ایم ایف کا تعاون جاری رہے گا۔
خیال رہے کہ پاکستان کی حکومت نے فنڈ ریپڈ فنانسنگ انسٹرومنٹ (آر ایف آئی) کے تحت آئی ایم ایف سے مالی معاونت کی درخواست کی تھی۔
وزیر اعظم عمران خان کے مشیرِ خزانہ عبدالحفیظ شیخ نے گزشتہ دنوں بتایا تھا کہ انسدادِ کرونا وائرس کا پیکج سوا کھرب (125 ارب) روپے کا ہے جس کی فنڈنگ کے لیے آئی ایم ایف کے ساتھ اضافی 1.4 ارب ڈالرز قرض کے لیے بات چیت چل رہی ہے۔
کرونا وائرس: ایک میٹر کا فاصلہ نہ رکھنے پر چھ ماہ تک جیل بھی ہو سکتی ہے
سنگاپور نے کرونا وائرس کی وبا کو روکنے کے لیے ملک میں نئے قوانین متعارف کرائے ہیں جن کے تحت ارادتاً کسی شخص کے نزدیک کھڑے ہونے پر بھی چھ ماہ تک کی قید ہو سکتی ہے۔
سنگاپور نے یہ اقدام کرونا وائرس کے مریضوں کی بڑھتی تعداد کے پیشِ نظر جمعے کو کیا ہے۔ وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے تمام سینما اور بار بند کر دیے گئے ہیں اور بڑے اجتماعات پر پابندی عائد کی گئی ہے۔
'سوشل ڈسٹینسنگ' یقینی بنانے کے لیے لوگوں پر یہ پابندی عائد کی گئی ہے کہ وہ ایک دوسرے سے کم از کم ایک میٹر کا فاصلہ قائم رکھیں۔
نئے قوانین کے مطابق کسی بھی عوامی مقام پر بیٹھنے کی جگہوں یا پارک وغیرہ میں نصب بنچوں پر بیٹھتے ہوئے بھی ایک میٹر کا فاصلہ قائم رکھنا ہو گا۔ اگر کہیں کرسیاں نزدیک بھی رکھی گئی ہوں تو ایک کرسی کا فاصلہ رکھ کر بیٹھا جائے۔