کرونا وائرس: پاکستان میں انٹرنیٹ کے استعمال میں 15 فی صد اضافہ
پاکستان میں کرونا وائرس کے پیشِ نظر لاک ڈاؤن اور لوگوں کے گھروں تک محدود رہنے کے باعث انٹرنیٹ کا استعمال بھی بڑھ گیا ہے۔ انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی موبائل فون کمپنیوں کے مطابق پاکستان میں انٹرنیٹ کے استعمال میں حالیہ دنوں میں 15 فی صد اضافہ دیکھا گیا ہے۔
بعض موبائل کمپنیوں کے لوڈ میں اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے صارفین کو سرفنگ میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
پاکستان میں بیشتر اداروں نے ملازمین کو گھروں سے کام کرنے کی ہدایت کی ہے۔ تعلیمی اداروں کی آن لائن کلاسز بھی گھروں سے جاری ہیں۔ فارغ اوقات میں بھی لوگ یوٹیوب، نیٹ فلکس اور دیگر ویڈیو سروس فراہم کرنے والی ویب سائٹس استعمال کر رہے ہیں۔ جس سے انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والے کمپنیوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔
پاکستان ٹیلی کمیونکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی طرف سے جاری بیان میں بھی انٹرنیٹ کے استعمال میں اضافے کی تصدیق کی گئی ہے۔
البتہ، پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ پاکستان کے پاس انٹرنیٹ کی بڑھتی ہوئی ضرورت پوری کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ پی ٹی اے تمام صورتِ حال کا بغور جائزہ لے رہی ہے تاکہ اس مشکل صورتِ حال میں تمام صارفین کو رابطہ کے لیے ٹیلی کام سروسز دستیاب ہوں۔
وزیرِ اعظم کے معاون خصوصی زلفی بخاری سے گفتگو
وزیرِ اعظم کے معاون خصوصی زلفی بخاری نے کہا ہے کہ چین سے طلبہ کو واپس نہ بلانے کا سارا ملبہ ان پر گرایا گیا اور تنقید کی گئی۔ لیکن وہ فیصلہ درست ثابت ہوا ہے۔ مجھ پر تنقید وزیرِ اعظم سے قربت کی وجہ سے ہوتی ہے۔ زلفی بخاری نے خود سے جڑے تنازعات کے بارے میں کیا کہا؟ دیکھیے اس انٹرویو میں۔
کرونا وائرس کے مقابلے کے لیے چینی ڈاکٹروں کی ٹیم پاکستان روانہ
پاکستان میں چین کے سفارت خانے نے کہا ہے کہ آٹھ رکنی طبی ماہرین کی ٹیم چین سے پاکستان کے لیے روانہ ہو گئی ہے۔ اس ٹیم کو سنکیانگ میں گرم جوشی سے رخصت کیا گیا۔
چینی سفارت خانے سے جاری ہونے والے ٹوئٹر پیغام میں کہا گیا ہے کہ چین کی طبی ٹیم کے پاکستان پہنچنے پر وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی چینی سفیر یاؤ جنگ کے ہمراہ ان کا استقبال کریں گے۔
چین کے ڈاکٹروں کی ٹیم پاکستان میں 'کووڈ 19' کے مرض خلاف احتیاطی تدابیر, تشخیص, علاج اور اس کے کنٹرول میں پاکستان کی معاونت کرے گی۔
زائرین سے متعلق الزام پر خواجہ آصف کے خلاف عدالت جاؤں گا: زلفی بخاری
پاکستان کے وزیر اعظم کے معاون خصوصی زوالفقار عباس بخاری (زلفی بخاری) کا کہنا ہے کہ ایران سے زائرین کو زبردستی لانے اور تفتان قرنطینہ سے فرار کرانے کے الزام پر وہ مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ آصف کے خلاف عدالت سے رُجوع کریں گے۔
وائس آف امریکہ کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں معاونِ خصوصی برائے اووسیز پاکستانیز زلفی بخاری کا کہنا تھا کہ تفتان میں زائرین کے لیے اپنائی گئی پالیسی پر اُن کا کوئی عمل دخل نہیں تھا۔ زائرین بے سہارا کھلے آسمان تلے بارڈر پر موجود تھے، لہذٰا اُنہیں واپس لیا گیا۔
زلفی بخاری کے بقول مختلف ائیرپورٹس اور ممالک میں پھنسے پاکستانیوں کو واپس لانا حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ البتہ وہ پاکستانی جو بیرون ملک مستقل مقیم ہیں انہیں واپس نہیں لائیں گے۔
اُنہوں نے کہا کہ سعودی عرب میں پھنسے عمرہ زائرین اور مختلف ممالک میں پھنسے پاکستانیوں کی تعداد بہت زیادہ نہیں ہے۔
زلفی بخاری نے بتایا کہ دیگر ممالک میں سیاحت یا عارضی طور پر جانے والے پاکستانیوں کو لانے کے لیے انتظامات کر رہے ہیں۔ پہلے مرحلے میں بینکاک ایئر پورٹ پر پھنسے پاکستانیوں کو واپس لائیں گے۔ پاکستان آنے والے افراد کو 'آئسولیشن' میں رکھا جائے گا۔