چین سے طبی ماہرین کی ٹیم پاکستان پہنچ گئی
کرونا وائرس سے نمٹنے میں مہارت رکھنے والے آٹھ طبی ماہرین کی ٹیم اور امدادی سامان لے کر چین سے خصوصی طیارہ پاکستان پہنچ گیا ہے۔ پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی اور چیئرمین این ڈی ایم اے نے اسلام اباد ایئر پورٹ پر ٹیم کا استقبال کیا۔
پاکستان میں چین کے سفیر بھی اس موقع پر موجود تھے۔ چین سے آنے والے امدادی سامان میں کرونا کی تشخیص کے لیے ایک لاکھ پانچ ہزار سے زائد کٹس بھی شامل ہیں۔ خصوصی پرواز کے ذریعے وینٹی لیٹرز اور میڈیکل دستانے بھی شامل ہیں۔
اس سے قبل علی بابا اور جیک ما فاؤنڈیشن نے 50 ہزار ٹیسٹنگ کٹس اور پانچ لاکھ حفاظتی ماسک پاکستان بھجوائے تھے۔ چینی طبی ماہرین کی یہ ٹیم دو ہفتے تک پاکستان میں قیام کرے گی۔
ایران سے مزید زائرین کی تفتان آمد
بلوچستان کے علاقے تفتان میں ایران سے زائرین کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔ جمعے کی رات مزید 113 زائرین تفتان بارڈر پہنچے ہیں۔ دوسری جانب صوبائی حکومت نے تفتان قرنطینہ مرکز میں 14 دن گزارنے والے 204 زائرین کو ملک کے مختلف علاقوں میں روانہ کر دیا ہے۔
کوئٹہ پولیس کا ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل اسٹاف کو گارڈ آف آنر
بلوچستان کے مرکزی شہر کوئٹہ میں پولیس اہلکاروں نے کرونا وائرس کے خلاف برسر پیکار ڈاکٹروں اور پیرا میڈیکل اسٹاف کو گارڈ آف آنر پیش کیا۔ ملک کے مختلف حصوں میں کرونا وائرس کے خلاف لڑنے والے طبی عملے کی حوصلہ افزائی کے لیے انہیں خراجِ تحسین پیش کیا جا رہا ہے۔
کرونا وائرس: پاکستان میں انٹرنیٹ کے استعمال میں 15 فی صد اضافہ
پاکستان میں کرونا وائرس کے پیشِ نظر لاک ڈاؤن اور لوگوں کے گھروں تک محدود رہنے کے باعث انٹرنیٹ کا استعمال بھی بڑھ گیا ہے۔ انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والی موبائل فون کمپنیوں کے مطابق پاکستان میں انٹرنیٹ کے استعمال میں حالیہ دنوں میں 15 فی صد اضافہ دیکھا گیا ہے۔
بعض موبائل کمپنیوں کے لوڈ میں اضافہ ہوا ہے جس کی وجہ سے صارفین کو سرفنگ میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
پاکستان میں بیشتر اداروں نے ملازمین کو گھروں سے کام کرنے کی ہدایت کی ہے۔ تعلیمی اداروں کی آن لائن کلاسز بھی گھروں سے جاری ہیں۔ فارغ اوقات میں بھی لوگ یوٹیوب، نیٹ فلکس اور دیگر ویڈیو سروس فراہم کرنے والی ویب سائٹس استعمال کر رہے ہیں۔ جس سے انٹرنیٹ سروس فراہم کرنے والے کمپنیوں پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔
پاکستان ٹیلی کمیونکیشن اتھارٹی (پی ٹی اے) کی طرف سے جاری بیان میں بھی انٹرنیٹ کے استعمال میں اضافے کی تصدیق کی گئی ہے۔
البتہ، پی ٹی اے کا کہنا ہے کہ پاکستان کے پاس انٹرنیٹ کی بڑھتی ہوئی ضرورت پوری کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔ پی ٹی اے تمام صورتِ حال کا بغور جائزہ لے رہی ہے تاکہ اس مشکل صورتِ حال میں تمام صارفین کو رابطہ کے لیے ٹیلی کام سروسز دستیاب ہوں۔